شوخا چوہا اور بیدار سبز جنگل

پیارے بچو۔ !

اس دنیا میں ایک بہت خوبصورت خطہ اراضی پر مشتمل بہت خوبصورت جنگل آباد تھا۔ اس کی زرخیز زمین، سرسبز وشاداب، نباتات سے بھرپور، پہاڑ، ندیاں، نالے اللہ کی ہر نعمت موجود تھی۔ لیکن جنگل واسیوں میں اتفاق نہیں تھا۔ شریر جاندار کثرت میں تھے۔ ان کو معصوم جانداروں سے سخت پرخاش تھی۔ جب بھی جہاں بھی موقع ملتا وہ ان معصوم جانداروں کا شکار کر لیتے۔ طرح طرح سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ جنگل تقسیم ہو گیا۔

بڑا حصہ تو شریروں کے پاس رہا اور معصوم جانداروں کے حصے میں ایک چھوٹا سا پیارا سا خطہ آیا، جو بہت سرسبز و شاداب تھا۔ اب جبکہ بڑا حصہ شریروں کے پاس تھا مگر پھر بھی انہیں وہ چھوٹا سرسبز جنگل چاہیے تھا، جو معصوم جاندارں کے پاس تھا۔ وہ معصوم جانداروں کو دوبارہ سے غلام بنانا چاہتے تھے۔ آخر کار انہوں نے بہت چالاکی سے چھوٹے جنگل کے ایک خوبصورت خطے پر قبضہ کر لیا اور معصوم جنگل واسیوں پر ظلم کی انتہا کردی۔

Read more