فیس بک کی دنیا

فیس بکی دنیا کسی یوٹوپیا سے کم نہیں، یہاں کے خیالی اور ”مثالی“ معاشرہ میں صرف آپ کی پسند اور آپ کے نظریہ کو جینے اور سانس لینے کا حق ہے۔ یہاں کی لمحہ بھر کی تعریف اگلے لمحہ کی تنقید اور ایک پل کی تنقید اگلے پل کی تعریف بن جاتی ہے۔ لوگ وہی سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں جو انہیں پسند ہو، ایک ہی شخص کی لکھی پوسٹ پر ایک وقت میں تعریف ہوگی تاہم وہی شخص اگر مخالف پوسٹ لکھ دے تو قابل طعن ٹھہرے گا۔ ہم نظریات اور اصولوں پر اپنی پسند اور ناپسند کو استوار نہیں کرتے بلکہ ذاتی خواہش، ذاتی خوشی اور ذاتی شہرت کو اپنی پسند اور ناپسند کا معیار بناتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرا بندہ یا تو ہمیں بہت ہی اچھا لگتا ہے یا پھر انتہائی برا لگنے لگتا ہے۔

Read more