قصہ بس کی گمشدگی کا
علی الصبح آنکھ کھلی تو یاد آیا کہ اب تک کا سب سے ضروری کام تو آج ہی کرنا ہے تو جلدی جلدی پانی کی چند چھینٹیں منہ پرماری اور استری شدہ کپڑوں میں گھس گئے، جرابیں جیب میں اور پیرجوتوں میں گھسیڑ کر جلدی جلدی بس اسٹاپ کی جانب دوڑ لگادی کہ لامحالہ کہیں جامعہ کا پوائنٹ ہی نہ چھوٹ جائے اور ہم اصل پوائنٹ سے محروم ہوجائیں۔ جامعہ کے مرکزی دروازے پر پہنچے تو دیکھا ایک جمع غفیر
Read more
