لفظ میراثی اور ہمارا سماج

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں ریڈیو پر ایک پروگرام کی کی میزبانی کرتا تھا۔ جس کا نام تھا ”میرا ورثہ میری میراث“ اس شو میں ہم ہر شعبہ زندگی سے وابستہ ان نوجوانوں کو بلاتے تھے جو ہماری دھرتی کہ ان فنون و ہنر کو لے کر آگے بڑھ رہے تھے جو کہ ختم ہو رہے ہیں اور بطور قومی ورثہ ان کو سمبھالنا ضروری ہے۔ اپنے ہر شو میں لفظ ”میراث“ کے حوالے سے میں سننے والوں کی توجہ اس طرف ضرور دلاتا رہا کہ ہمارے معاشرے میں لفظ میراثی کو ایک خاص سوچ کے پیرائے میں لے کر تمسخر، مذاق، اور طنز بنا دیا گیا ہے جو کہ اصلاح طلب نکتہ ہے مگر شاید اس پہلو کو اجاگر کرنے اور اس تاثر کو بہتر کرنے کے لئے کوئی ایک پروگرام کافی نہیں رہا۔

Read more