ان تینوں کو اڑانے پر بچوں کا احتجاج
” ڈوز“ کی گونج دار آواز آئی اور میرے ہاتھ چاہے پیالی میں ڈالتے ڈالتے رک گئے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے مڑ کر بچوں اور شوہر کی طرف دیکھا تو وہ بھی اپنی اپنی جگہوں پر ساکت ہوے مجھے دیکھ رہے تھے۔ لمحے بھر کے توقف کے بعد میں اور میرے شوہر سامنے بڑی کھڑکی کی جانب بڑھے۔ گھر کے سامنے سڑک کی دوسری جانب موجود باغ میں مشرق کی طرف کے درختوں پر سے بے شمار پرندے اچانک شور مچاتے ہونے اڑے۔ پھر دو افراد سادہ کپڑوں میں سامنے بھاگتے نظر آیے ایک کے ہاتھ میں رائفل تھی۔
ہم نے ان پر نظریں گاڑ دیں۔ وہ درختوں میں گم ہو گئے۔ میرے شوہر پریشان چہرے کے ساتھ واپس مڑ کر موزے پہننے لگے اور بچے بھی جو اپنا ناشتہ چھوڑ کھڑکی کے پاس پہنچ چکے تھے حیرت سے واپس مڑ گئے۔ اتنے میں وہی دونوں آدمی سامنے کی سڑک سے چلتے ہونے آے اور اسی لمحے دائیں جانب سے آنے والی گاڑی میں سوار ہو کر بائیں طرف چلے گئے۔ یہ سرکاری گاڑی تھی۔ اب بات ہم پر کچھ واضح ہوئی۔ میں نے اپنے شوہر سے کہا لگتا ہے ان میں سے کسی ایک کو اڑا دیا ہے انہوں نے۔ ”ہوں“ انھوں نے میرے تائید کی۔
Read more
