اب بھی وقت ہے

وجوہات جوبھی رہیں لیکن نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان بننے کیساتھ ہی بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ مخالف آوازیں اٹھناشروع ہوئیں۔ اب تک ان گنت آپریشن ہوچکے۔ کئی بلوچ لیڈرمارے گئے لیکن یہ آوازیں اب بھی سنائی دیتی ہیں۔ پھرسندھی لیڈرذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھاکراسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ کی نفرت کابیج بودیا۔ پیپلزپارٹی کارہنما ہو یانظریاتی کارکن، سب اسٹیبلشمنٹ کو اپنے لیڈرکا“قاتل ”سمجھتے ہیں۔ ایسے میں سندھیوں کی اکثریت کبھی دل سے “ زندہ باد“ کا نعرہ نہیں لگائے گی۔ پھرخیبرپختونخوا اور

Read more