چوڑیاں توڑ دو
ایک دن درس گاہ کی جماعت میں باقی طلبہ و طالبات کے ساتھ پروفیسر صاحب کی آمد کا انتظار کر رہا تھا کہ مقررہ ٹائم سے دس منٹ بعد کلاس روم میں پروفیسر صاحب کی روایتی انداز میں آمد ہوئی۔ پروفیسر صاحب بیالوجی پر لیکچر دینے کی بجائے ”ڈنگ ٹپاؤ پالیسی“ کے تحت ”عورت ذات“ پر اپنا توہین آمیز فلسفہ بیان کرنے لگے کہ عورت کی ہر جگہ موجودگی اور کام کرنے والی خواتین کی وجہ سے ملک میں بے
Read more
