خون کے بلبلوں نے اس کی جان بچا لی

(آرمی پبلک سکول کے اس حوصلہ مند بچے کی کہانی جو چہرے پر چھے گولیاں کھا کر بھی زندہ رہنے کی جدوجہد کرتا رہا۔ ایک ہفتے بعد اس کی شناخت ہوئی اور اس کے گھر والوں کو بھی ایک نئی زندگی ملی۔ ولید کہتا ہے کہ پہلے اپنے لئے جیتا تھا اور حملے کے بعد اب دوسروں کے لئے جیتا ہے)۔

مردہ خانے میں جگہ کم پڑ جانے کی وجہ سے بچوں کی لاشیں برآمدے میں رکھی گئی تھیں۔
ہر لاش سفید چادر سے چھپائی گئی تھی۔ اس وقت آرمی پبلک سکول کے حملے میں مارے گئے تقریبا 80 بچوں کی لاشیں ایک قطار کی صورت میں پڑی تھیں۔

Read more