’’سول بالادستی کا مطالبہ درست لیکن مولانا کے طرز سیاست سے اختلاف ہے‘‘

’’اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائین میں سوال سیاست میں مداخلت کا ہے، سیاسی انجینئرنگ کا ہے، منظم دھاندلی کا ہے، اور لوگوں کو ان کے حق حکمرانی سے محروم کرنے کا ہے۔ اس پر ہمارا ان سے اتفاق ہے۔" وجاہت مسعود ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک سوال توراتر کے ساتھ کیا جا رہا…

Read more

سب کچھ ٹھیک ہونے کا حکومتی دعویٰ درست نہیں: خاتون کشمیری رہنما شہلا رشید

’جواہر لعل نہرو یونیورسٹی‘ کی اسٹوڈنٹ لیڈر اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی رہنما، شہلا رشید نے کہا ہے کہ آئین کی دفعہ 370 کو ہٹا کر جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے حکومتی اقدام کو بھارتی عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جائے گا۔ بقول ان کے ’’اس اقدام سے کشمیریوں…

Read more

عورت مارچ: ’تاکہ میری بیٹیوں کو حقوق کی سخت لڑائی نہ لڑنی پڑے‘

آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں میں خواتین کی تنظیمیں ’عورت مارچ‘ کا انعقاد کر رہی ہیں، جن میں خواتین کے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی جائے گی۔ اس مناسبت سے پاکستانی سوشل میڈیا پر #WhyIMarch ٹرینڈ کر رہا ہے، یعنی ’میں مارچ میں کیوں جاؤں…

Read more

’میڈیا مخالف سوشل میڈیا مہم کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں‘

  پاکستانی ٹوئیٹر پر ایک آج سارا دن ’بائی کاٹ نیگیٹو میڈیا‘ یعنی منفی میڈیا کا بائی کاٹ کیا جائے ٹرینڈ کرتا رہا۔ اس ٹرینڈ میں سوشل میڈیا صارفین پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ٹرینڈ شروع کرنے میں سوشل بلاگر فرحان ورک آگے آگے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے…

Read more

پلاؤ بمقابلہ بریانی، پاکستانی سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن

پاکستانی سوشل میڈیا میں پلاؤ اور بریانی کے عاشقان کے درمیان جنگ کا سماں ہے۔ دونوں اطراف سے اپنے پسندیدہ کھانے کی اہمیت کے حق میں دلائل دئے جا رہے ہیں۔ بریانی کے حق میں بہت سے صارفین نے یہ دلیل دی کہ اصل بریانی تو کراچی میں ملتی ہے۔ لاہور والوں کو بریانی بنانی…

Read more

سانحہ ساہیوال میں میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں کا نفسیاتی استحصال کیا

سانحہ ساہیوال کے بعد میڈیا میں بچوں کو لے کر کوریج پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سانحے کے فوری بعد میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں سے انٹرویو لئے اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا یہاں تک کہ اے آر وائی نیوز چینل کے اینکر عارف بھٹی نے اپنے پروگرام میں مقتول خلیل کی ایک بیٹی سے سوالات کئے جن میں یہ سوالات بھی تھے کہ بچی سے پوچھا گیا کہ آپ کے ابو کہاں گئے ہیں، اور بچی کے کہنے پر کہ فوت ہو گئے ہیں اینکر نے پوچھا کہ کیسے فوت ہو گئے ہیں، کل تک تو وہ درست تھے۔

اس پروگرام کے بعد اس پر مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بہت تنقید کی گئی۔

معروف اینکر اور تجزیہ نگار ضرار کھوڑو نے ہم سب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصولاً تو میں اس بات کے مخالف ہوں کہ جو بچے ابھی اس سانحے سے گزر رہے ہیں ان سے میڈیا ایسے سوالات کرے۔ لیکن اگر شروع میں بچوں کے ایسے کلپ نہ آتے تو شاید یہ کیس ایکسپوز نہ ہوتا۔

Read more

پاکستانی ڈرامہ کچن اور بیڈ روم سے نکل رہا ہے

حال ہی میں پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو ایک خط بھیجا کیا گیا جس میں انہیں متنازعہ اور غیر اخلاقی موضوعات پر مبنی ڈراموں کی نشریات فوری روکنے کی ہدایت کی گئی۔

خط میں کہا گیا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری زوال کا شکار ہے اور یہ کہ پاکستانی ڈرامہ حقیقی پاکستانی معاشرے کی عکاسی نہیں کر رہا۔

وائس آف امریکہ نے ڈرامہ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ہدایت کاروں اور قلم کاروں سے چند فیس بک لائیو انٹرویو کیے جن میں انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری زوال کا شکار ہے۔

ہدایت کار اور اداکار سرمد کھوسٹ نے کہا کہ میں اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ ہم نے ڈراموں سے نفاست نکال دی ہے، ایکٹنگ کا معیار گر گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مگر سوال یہ کیا جانا چاہئے کہ نجی ٹی وی نے سٹار پلس کو اپنا رول ماڈل کیوں بنایا۔

Read more

فرقہ وارانہ نفرت کے خلاف ہندوستان میں #MyNameInUrdu کا ٹرینڈ ٹاپ پر

ہندوستانی ٹویٹر پر #MyNameInUrdu کا ٹرینڈ چل رہا ہے جس میں ہندوستانی ٹویٹر کے صارف اپنے ٹویٹر ہینڈل میں اپنے نام اردو رسم الخط میں لکھ رہے ہیں اور اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ ٹرینڈ سب سے پہلے ہندوستانی ٹویٹر صارف بربھا راج نے شروع کیا جو @deepsealioness کے ہینڈل سے ٹویٹ کرتی…

Read more

کیا پاکستان میں سیاسی طنزنگاری کے نام پر ’بازاری مزاح نگاری‘ ہو رہی ہے؟

پاکستانی ٹیلیویژن اسکرینوں پر روزانہ شام کو سیاست پر مبنی مزاحیہ پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ حسب حال، خبرناک، خبردار، خبرزار اور ایسے ہی بہت سے پروگرام تقریباً ہر ٹیلی وژن چینل سے نشر کئے جاتے ہیں جن میں سہیل احمد، امانت چن، امان اللہ، افتخار ٹھاکر، ناصر چنیوٹی، آغا ماجد اور ہنی البیلا جسے سٹیج اور ٹی وی کے مشہور مزاحیہ فنکار نظر آتے ہیں۔

ان ٹی وی پروگراموں پر وقتاً فوقتاً نسل پرستی، جسمانی عیوب اور جنسی شناخت پر مبنی جملوں کے ذریعے مزاح نگاری کرنے کا الزام لگتا رہتا ہے۔

Read more

اکیڈیمک پلیجرزم: کیا پاکستان کے اکثر استاد چور ہیں؟

    ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے 2002 میں قیام کے بعد سے پاکستان میں جامعات کی تعداد 74 سے بڑھ کر 174 تک پہنچ چکی ہے اور ان جامعات میں طلبا کی تعداد پونے تین لاکھ سے بڑھ کر 2015 تک تقریباً تیرہ لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ ایچ ای سی کی آفیشل ویب سائٹ…

Read more