گلگت کی بیٹیاں تاریخ کے رخ پر رقص کرتی ہیں


\"aliکوہ ہندو کش ، قراقرم اور پامیر  کے پہاڑی سلسلوں کے بیچ میں واقع خوبصورت گلگت کا شہر دراصل ایک عظیم  حکمران ملکہ جوار خاتون   نے آباد کیا تھا ۔ اہل گلگت اس عظیم خاتون کو دادی جواری کے نام سے یاد کرتے ہیں اور اس شہر کو آباد کرنے کے لئے بنواۓ گئے پانی کے کوہل (کوہل واٹر چینل کو کہتے ہیں جس کو پنجاب میں کھال کہا جاتا ہے)  کو سونی یب (رانی کی نہر)  کہا جاتا ہے۔ اس عظیم خاتون نے گلگت میں کشمیر سے لاکر ہنر مند آباد کئے اور  گلگت کی تاریخ میں اس جیسا حکمران  نہیں ملتا   جس نے جنگیں لڑنے کے بجاۓ وطن کو آباد کرنے اور لوگوں کو خوشحال بنانے میں زندگی صرف کی ہو۔   ملکہ جوار خاتون کے لاۓ ہنر مند آج اس شہر کے ہی نہیں بلکہ اس خطے کے مالک اور حکمران بن بیٹھے ہیں۔ اس  عظیم خاتون کے آباد کئے شہر میں بسنے والے آج اس کے نام سے بھی واقف نہیں اور نہ کسی نے کہیں کوئی تختی لگواکر نئی نسل کو ان کی شاندار  ماضی سے روشناس کرانے کی  کوشش کی ہے۔

فیض احمد فیض سراپا فیض تھے جس نے   اپنی  سحرانگیز نظموں سے انقلاب  کی کٹھن راہوں کو ایک رومان بناکر نہ صرف  معاشرے کے محروم طبقات کو  جبر و استحصال کے گھٹا ٹوب اندھیروں  میں ایک امید سحر   دی بلکہ اپنی آفاقی شاعری سے امرا ء  و خواص کے ایونوں میں بھی انقلاب کی نوید پہنچا دی۔ اسلام آباد کے شکر پڑیاں میں واقع لوک ورثہ  فیض ہی کا فیض ہے جو پاکستان کے طول و عرض پر پھیلےگوں ناگوں  ثقافتی ورثے کی پرورش گاہ  کے طور پر کام کر رہا ہے۔  جب سے \"jawar-khatoon\"اس ادارے کی سربراہی  فوزیہ سعید  نے   اپنے قبول کی ہے یہاں کے اطوار ہی بدل گئے ہیں۔  فوزیہ سعید کو ہم سب ان کی لاہور کے بازار حسن کی ثقافت پر لکھی  شہرہ آفاق کتاب کلکنک  اور معرکۃ لارا ءتصنیف بھیڑ کی کھال میں   کے بعد  بخوبی واقف ہیں ۔   اس خاتون نے اس ادارے میں فروغ  زبان و ثقافت کے لئے کی جانے والی سرگرمیوں میں  نہ صرف شدت لائی ہے بلکہ جدت بھی نظر آجاتی ہے۔

پچھلےدنوں منعقدہ گلگت بلتستان کے ایک ثقافتی شو  میں لوک ورثہ کے  مرد اور خواتین فنکاروں نے ایک رقص  پیش کیا     جو ایک بہت اچھی کاوش تھی۔ راقم خود اپنی ثقافت کا دلدادہ ہے اور اسکی موسیقی کی دھنوں پر اپنے جسم  سے خراج پیش کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ گلگت بلتستان کی موسیقی پر ناچ ایک خاص سمجھ کامتقاضی ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوۓ کوئی عار نہیں کہ اس محفل میں ان تمام فنکاروں نے گلگت بلتستان سے تعلق نہ ہونے اور اس موسیقی پر  پہلے سے رقص کے تجربہ نہ ہونے کے باوجود بہت اچھے فن کا مظاہرہ کیا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ گلگت بلتستان کی موسیقی کو  پیشہ ورانہ سطح پر   ترقی دینے کے لئے یہ ایک اچھی ابتدا ثابت ہوگی۔

اسی بارے میں: ۔  دو عظیم اتفاقیہ دریافتوں کی کہانی

دوسری طرف اس گلگت بلتستان کے  موسیقی پر رقص کے اس خوبصورت مظاہرے پر  ایک  خاص طبقے کو اعتراضات کی  پیچش لگ گئی ہے ۔ ان کے نام نہاد اعتراضات  میں نمایاں بات یہ ہے کہ  گلگت بلتستان میں مخلوط رقص کے نہ ہونے  اور  خواتین  کے مردوں میں آکر رقص نہ  کرنے کی روایت کی پامالی ہے۔ گلگت بلتستان میں  گانابجانا اور رقص ایک عام روایت ہی نہیں بلکہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر علا قوں کے بر عکس   ناچنا باعث توقیر ہے۔  ہر قبیلے اور خاندان کی اپنی دھن مخصوص ہوا کرتی ہے جس پر اس  قبیلے اور خاندان کے لوگ اپنے بزرگوں کی سرکردگی میں فخر سے ناچتے ہیں۔ کسی بھی شادی کی تقریبات کا آغاز رسم تاؤ سے ہوتی ہیں جس میں دلھا یا دلھن کی پھوپھی یا بہن اپنے شوہر یا بیٹے کے ہمراہ  توےّ  کو ہاتھوں میں اٹھا کر ناچتی ہے ۔

 مذہب  میں سعودی عرب اور ایران کے کے تنگ نظر بنیاد پرست نظریات  کی درآمد سے پہلے گلگت بلتستان میں بھی موسیقی اور رقص عمومی طور پر کوئی معیوب \"hunza-kids-dancing-in-traditional-dress\"چیز نہیں تھی۔ نوروز  کے دن کو بڑی گرم جوشی سے منایا جاتا تھا اور ایک خاص مقام پر گاؤں کی عورتیں اکھٹی ہو جا یا کرتی تھیں جہاں اس سال پیدا ہونے والے بچوں کے بال کاٹنے اور پیٹ پر اٹھانے کی رسم ادا کی جاتی تھی۔  اس رسم کے بعد  عورتیں اپنے خاندانی دھنوں پر رقص کرتی تھیں   ، گویا نوروز عورتوں کا ہی تہوار ہوا کرتا تھا۔ یہ رسومات آج بھی بعض علاقوں میں موجود ہیں جہاں سعودی اور ایرانی  مذہبی ثقافت کے اثرات نہیں پہنچے ہیں۔ جہاں بیرونی اثرات پہنچے ہیں وہاں سے موسیقی سے وابستہ لوگوں کو فن موسیقی سے دور ہٹایا گیا ہے۔ کسی کو تبلیغ پر بھیج دیا گیا تو کوئی ایران اور اعراق جاکر زوار کہلایا۔

 اسلام آباد میں خواتین کے رقص پر  اعتراض کرنے والے وہی لوگ ہیں جو گلگت بلتستان کو مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت  کی طرف لے جانے کے زمہ دار ہیں۔ اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلانے والے یہ لوگ  اپنے گاؤں میں رہنے والوں کو آج بھی  کفر کی تعلیم سے دوری کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان پڑھ رکھتے ہیں۔ اعتراض کرنے والے بیشتر سرکاری افسران ہیں  جو رشوت کو ماں کے  دودھ کی طرح ہی حلال سمجھتے ہیں اور کمیشن کو  بیوی کے جہیز کیطرح ہضم کر جاتے ہیں لیکن جیسے ہی معاشرتی   روشن خیالی کا کوئی  موقع آجاۓ تو ان کو قبر کے عذاب سے لیکر  مغربی سازش تک ہر جیز نظر آجاتی ہے۔ پینٹ کوٹ کے ساتھ نکٹائی  لگا  کر نوکریاں کرنے والے سارا دن فیس بک پر بیٹھ کر نوجوانوں  کو جہاد کی تعلیم دیتے ہیں اور فرقہ ورانہ  نفرت پر مبنی مواد کو پھیلاتے رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ  ہیں جنھوں نےاپنی  ثقافت کو ہی حرام قرار دیا ہے اور مذہب کے نام پر باہر کی ثقافت کو اپنایا ہے۔ یہ لوگ درا صل خواتین کے نہیں بلکہ موسیقی اور  رقص کے ہی دشمن ہیں ۔ اگر یہ دشمن نہ ہوتے تو گلگت بلتستان سے موسیقی کا ہی صفایا کیوں کر ہو جاتا۔\"silk-route-festival\"

اسی بارے میں: ۔  عظیم موسیقار سلیم اقبال کی یادیں

مگر اعتراض کی بیماری میں مبتلا ذہنی مریض یہ بھول رہے ہیں کہ گلگت بلتستان کے  خواتین میں  بالعموم تعلیم کی شرح اور بالخصوص انفرادی  ترقی  کی رفتار بہت تیز ہے۔ دادی جواری  کی پوتیوں نے ایورسٹ کی چوٹی سر کر لی ہے ۔  ان لوگوں  کے اعتراضات کے باوجود گلگت بلتستان کی بیٹیاں پاکستان کے کرکٹ اور فٹ بال کی قومی ٹیموں میں کھیل رہی ہیں۔پہاڑوں کی بیٹیاں   پاکستان کے ہر یونیورسٹی  میں موجود ہیں اور مغرب کے تعلیمی اداروں کے دروازے ان پر کھل رہے ہیں۔  وہ دن دور نہیں جب پورے  ملک نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں گلگت بلتستان کی بیٹیوں کی مثال دی جائیگی کہ مشکل حالات کے بوجود انھوں نے کیسے اپنی منزل پالی تھی کیونکہ ان  کے لبوں پر یہی بول ہیں
تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم
( تُو وہ قاتل کہ تماشے کیلیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خوں خوار خنجر کے نیچے رقص کرتا ہوں)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

4 thoughts on “گلگت کی بیٹیاں تاریخ کے رخ پر رقص کرتی ہیں

  • 02-12-2016 at 11:10 pm
    Permalink

    اعتراض کرنے والے بیشتر سرکاری افسران ہیں جو رشوت کو ماں کے دودھ کی طرح ہی حلال سمجھتے ہیں اور کمیشن کو بیوی کے جہیز کیطرح ہضم کر جاتے ہیں لیکن جیسے ہی معاشرتی روشن خیالی کا کوئی موقع آجاۓ تو ان کو قبر کے عذاب سے لیکر مغربی سازش تک ہر جیز نظر آجاتی ہے۔ پینٹ کوٹ کے ساتھ نکٹائی لگا کر نوکریاں کرنے والے سارا دن فیس بک پر بیٹھ کر نوجوانوں کو جہاد کی تعلیم دیتے ہیں اور فرقہ ورانہ نفرت پر مبنی مواد کو پھیلاتے رہتے ہیں- Spot On

  • 03-12-2016 at 5:59 am
    Permalink

    I really appreciate you sahab g our culture disappearing our women are neglated if the women is not allowed to go out home why God has create them. If there was no woman how the man is here. They have right enjoy there life. Only the that societies are developed which has great women’s input and they are encouraged.

  • 03-12-2016 at 7:08 pm
    Permalink

    u r not representing the culture of GB, however it might be of yours

  • 03-12-2016 at 11:22 pm
    Permalink

    گلگت تین مشہور پہاڑی سلسلوں (ہمالیہ، ہندوکش، قراقرم) کا سنگم ہونے کیوجہ سے تینوں سلسلوں میں موجود مخلتف ثقافتی اقدار کے اثرات کا حامل ہے۔ کسی ایک ثقافتی عمل کو یہاں کے مجموعی کلچر کے طور پر متعارف نہیں کرایا جا سکتا۔ اور یہ بھی مد ںظررکھنا ضروری ہے کہ یہ یہاں کا معاش نہیں ہے۔ یعنی ناچنے گانے والے اور والیوں کے گروپ عام ناظرین و تماشائیوں کو خوش کرنے اور معاوضے کے لئے ناچتے ہوں۔ البتہ شادیوں کی رسومات کے طور پرخاندان کے افراد کا مل کر ناچنا گانا اب بھی مخصوص وادیوں میں پایا جاتا ہے۔ علی صاحب کی یہ بات صحیح ہے کہ نوروز کے دن یہاں خواتین ناچتی گاتی تھیں لیکن بھائی یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ صرف خواتین ہی کے لئے مخصوص ہوتا ہے۔ مجال ہے کہ اس علاقے سے مردوں کا گزر بھی ہو۔ کیونکہ یہاں تو خواتین کے احترام کا کلچر خواتین کی ناچ سے زیادہ مضبوط ہے۔ تاریخ کے اس موڑ پر اگر ہم اس کا رخ بدل کر اپنی بیٹیوں کو لیکر لوک ورثہ میں نچائیں تو یہ کلچر کے ساتھ تاریخی زیادتی ہوگی۔

Comments are closed.