معاشرہ،احترام اور عدم برداشت

پہلی بات ہے تربیت کی۔ سکول کی صفائی کرنا ہمارے ملک کا دستور نہیں ہے۔ چند ایک ان سکولوں کے سوا جو لائف سکلزسکھانے کے زمرے میں طلبا کی باقاعدہ تربیت کرنے کے لیے انہیں سکول اور جماعت کو اپنانا سکھاتے ہیں اور اس لیے وہ طلبا خوشی سے سکول کے ہر کام میں حصہ لیتے ہیں جس میں سکول کو صاف کرنا بھی شامل ہے۔ جیسا کہ جاپان میں بھی روایت ہے کہ سکول کی صفائی بھی اسی طرح روٹین کا حصہ ہے جس طرح پڑھنا لکھنا۔ لیکن مذکورہ سکول نہ تو کوئی ایسا ادارہ تھا نہ ہی ایسی کسی روایت کا پالن کرنے والا۔ یہ لاہور کا ایک گورنمنٹ سکول ہے۔ اگر طالبہ خوشی سے کام کرنے پہ رضامند نہیں تھی اور کام بھی وہ جو اس کی ذمہ داری نہیں تھا تو بجائے زور زبردستی کرنے کے اس بات کو نظر انداز بھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس معاشرے میں جہاں استاد کی بات کو حرف آخر سمجھا جاتا ہو اور ایسی روایات و امثال موجود ہوں کہ استاد سے سوال کرنا، کسی بات پہ بحث کرنا، گستاخی تصور کیا جاتا ہو وہاں استاد تربیت کا ادارہ نہیں ہوتا بلکہ ڈکٹیٹر ہوتا ہے۔ خود کو ایسا حکمران سمجھتا ہے کہ جس کے کسی بھی حکم سے سرتابی ناممکن ہے۔ پھر نہ فرض اہم رہتا ہے نہ ہی تربیت۔ کچھ اہم رہتا ہے تو’میں ہوں‘ کا تصور اور اپنی ہر بات کو حرف آخر سمجھنے کا زعم۔انا کی وہ شدت جو اپنی ہر بات منوانے کے لئے کسی بھی انتہا تک جا سکتی ہے۔
دوسرا پہلو استاد کے مقام اور عزت کے حوالے سے ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ گورنمنٹ اساتذہ کو اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کرکام سر انجام دینا پڑتے ہیں۔ ان پہ پرہجوم کلاسز کو سنبھالنے کا دباو ہوتا ہے۔ اور تنخواہ اتنی نہیں ملتی جتنا کہ کام لیا جاتا ہے۔ اب یہاں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اساتذہ کو ادب کے سوا معاشرے سے ملتا ہی کیا ہے۔یہ تصور اتنا پختہ ہے کہ اساتذہ اس ادب کو ہر صورت حاصل کرنا چاہتے ہیں اپنے عمل اور تربیت سے نہیں بلکہ ڈنڈے کے زور پہ۔ کسی طالب علم کی جرات کیسے ہو کہ وہ آنکھ اٹھا کے بات کرے یا کسی بات سے انکار کر سکے۔ یہ خیال اس طرح کی صورتحال کی طرف لے جاتا ہے جب استاد اس طرح کا قدم اٹھا لیتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اساتذہ کا اصل کام تربیت کرنا ہے نہ کہ رٹو طوطے بنانا۔ اس میں نصاب کو بھی الزام دیا جا سکتا ہے لیکن تربیت کرنے کے لیے کردار اور عمل کی ضرورت ہوتی ہے اور سکول میں گزارے گئے پانچ یا چھ گھنٹوں میں جنہیں ہر صورت گزارنا لازم ہے کیا یہ ممکن نہیں کہ اپنے رویے اور عمل سے طلبا کی بہتر تربیت کی جا سکے؟ ان میں برداشت، رواداری اور بردباری جیسی صفات پیدا کی جا سکیں۔ اس وقت کو مثبت انداز فکر کو پروان چڑھانے پہ صرف کیا جائے۔ رویوں کی افزائش کے لیے نصاب سے زیادہ کردار و عمل ضروری ہے جس کے لیے کوئی طے شدہ سلیبس کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
ایک اور رویہ جو سماج میں بہت عام ہے وہ جرم کا جواز تلاشنے کا ہے کہ اس کا یہ محرک ہو سکتا ہے، وہ وجہ ہو سکتی ہے،کیا اسے بے حسی کہا جائے یا ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کا طریقہ کہ غلط بات کو غلط تک نہ کہا جائے۔ اگر، مگر، چونکہ،چنانچہ کرنے والے لوگ غلط بات کو غلط کہتے ہوئے ایسی ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں کہ اگر صاف لفظوں میں مذمت کی تو کوئی قہر ٹوٹ پڑے گا۔ ظلم کے پیچھے محرک ڈھونڈنا کہ اس وجہ سے ایسا ہوا ہو گا یہ وجہ ہوگی وہ وجہ ہوگی۔معذرت کے ساتھ ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔عرض یہ کرنا ہے کہ جس معاشرے کے معمار عدم برداشت کے اس مقام پہ کھڑے ہیں کہ اپنی کسی بات کے انکار کو برداشت نہیں کر سکتے وہ معاشرہ انتہا پسندی کے کس مقام پر پہنچے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اساتذہ کی تقرری کرتے ہوئے انٹرویو کے دوران کوئی ماہر نفسیات موجود ہوتا ہے جس کی موجودگی ہر اہم تقرری کے انٹرویو کے دوران لازم ہوتی ہے؟ صرف امتحان میں اور این ٹی ایس میں لیے گئے نمبروں کے علاوہ کوئی ایسا پیمانہ ہے کہ جس کی بنا پہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ جن ہاتھوں میں قوم کا مستقبل سونپا جا رہا ہے وہ محفوظ اور متوازن سوچ کے حامل ہیں۔ ایک استاد کا براہ راست تعلق انسانوں سے ہے وہ انسانوں کی کھیپ تیار کرتا ہے ،اس مقام پہ ہوتا ہے کہ چاہے تو انہیں اچھا انسان بنا دے چاہے تو انتہا پسندی کی طرف جھونک دے۔ یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے۔ نسلوں کو بگاڑنے یا سنوارنے کا معاملہ۔ پھر اس کی جانب اتنی غفلت کیوں۔کیوں کم آمدن کا بدلہ ان معصوموں کی غلط تربیت سے لیا جائے جو ان کے رحم و کرم پہ ہیں کہ چاہو تو سنوار دو چاہو تو بگاڑ دو۔ مانا کہ یہ ہماری تہذب کا تقاضا ہے کہ استاد کا احترام کرو لیکن کیا احترام وہی ہوتا ہے جو ڈر پہ قائم ہو؟ احترام حاصل کرنے کے لیے خود کو اس مقام پہ لے جانا ضروری ہے جہاں احترام خود بخود حاصل ہوتا ہے۔ورنہ اندھا دھند تقلید سے ایسے واقعات ہی جنم لے سکتے ہیں۔ جس ملک کے تعلیمی اداروں میں اس طرح کی اخلاقیات اور روایات موجود ہوں اس کی نئی نسل سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ روشن خیال اور معتدل مزاج ہو گی؟جن اداروں میں گونگے، اندھے اور بہرے تیار کیے جاتے ہیں جو نہ خود دیکھ سکتے ہیں ،نہ سن سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں بلکہ انہیں سوچنے ،سننے ،بولنے ،دیکھنے کے لیے مستعار لیے گئے خیالات آنکھیں ،کان اور زبان درکار ہے وہ دنیا کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ کیا وہ خود سوچ سکتے ہیں اور ان میں وہ حوصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی سوچ کا اظہار کر سکیں؟ تو جواب نہیں میں ہے۔احترام روایت ضرور ی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اپنا مقام بلند رکھنے کے لیے تمام ذہنوں کو غلام کر لیا جائے۔اس پہ قابو نہیں پائیں گے تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے نفرتیں پنپتی رہیں گی۔

