عمران خان نے پارلیمنٹ پر نہیں، خود پر لعنت بھیجی: ارکان اسمبلی
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان نے عمران خان کے پارلیمنٹ کو لعنت دینے پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیرمین تحریک انصاف نے ایوان کو نہیں بلکہ خود کو گالی دی۔ خبروں کے مطابق ارکان اسمبلی نے عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے کل والی باتوں کا بہت دکھ ہوا۔ ہم حکومت کی ناکامیاں پارلیمنٹ کے سر ڈال رہے ہیں، میں اپنے منہ سے وہ الفاظ بول نہیں سکتا جو کل کہے گئے۔ ہر اس شخص کے منہ میں خاک جوایسا لفظ استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کے 20 کروڑ عوام کو ذہنی مریض بنا دیا گیا ہے۔ کیا آپ پارلیمنٹ کو تالا لگا کر آمر کو بلانا چاہتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کو ایک سیکنڈ میں نکال دیا گیا پھر بھی ہم نے اداروں کی توہین نہیں کی۔ مردان اور ڈی آئی خان میں بھی جنسی زیادتی کے واقعات ہوئے جنہیں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن ادارے کو گالیاں دینا قابل مذمت ہے۔ تحریک انصاف نے 2014 میں بھی استعفے دیے لیکن پھر گھٹنوں کے بل چل کر واپس آئے، شیخ رشید کو 2002 میں ایک کرنل نے تھپڑ مارا تو شاہد خاقان عباسی نے اس کرنل کی درگت بنائی۔ اب یہ پارلیمنٹ کو گالی دیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے بغیر سیاست دانوں کا کوئی وجود نہیں۔ آپ جس ایوان کا قائد ایوان بننے کی خواہش رکھتے ہیں، اس ایوان کو گالی دے رہے ہیں۔ آپ اداروں کی تکریم نہیں جانتے، اس لیے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ عمران خان خود بھی اس پارلیمنٹ کا رکن ہے اور اس نے خود پر بھی لعنت بھیجی ہے۔ ان لوگوں نے اپنی پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی پر بھی لعنت بھیجی ہے، ہم ان الفاظ کی سخت مذمت کرتے ہیں، ان لوگوں کے خلاف تحریک استحقاق پیش ہونی چاہئے، اپنے لوگ پارلیمنٹ کو گالیاں دیں گے تو دوسرے ادارے کیسے پارلیمنٹ کا احترام کریں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کے دوران خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو پارٹی سربراہ بنائے، جبکہ آج انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ پارلیمنٹ کے لیے ’لعنت‘ کا لفظ تو بہت چھوٹا ہے اگر کسی کو میرے اس لفظ پر اعتراض ہے تو عوام سے پوچھ لے۔


