مذہب سے دوری اور معاشرتی پستی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کی فطرت بھی عجیب ہے ڈرا کے رکھنا چاہتا ہے اور ڈر کے بھی رہنا چاہتا ہے۔ انسان نے ازل سے ہی کسی ایسی شے کی کھوج کی جس کو وہ طاقتور مان کر اس کے آگے گھٹنے ٹیک سکے، اس کی عقل کے مطابق جو چیز جتنی گہرائی، وسعت، طاقت، دھک، فائدہ، اور خوف کا تاثر دیتی تھی وہ اسی کے زیرِ دام آجاتا تھا، اور اسے خدا مان کر خود کو اس کے تابع کر کے خود نفس کے تابع ہو جا تا تھا۔ یوں اچھا ئی برائی، سزا، جزا، انعام، عذاب کی فکر میں مبتلا رہ کر کبھی ظلم تو کبھی عجز کا مظاہرہ کرتا، مگر اس سب کے باوجود حقْیقی معنوں میں وہ آسائش دینے والی چیزوں اور خود سے زیادہ طاقتور انسان ہی کے زیرِ اثر رہا، لیکن اسے دوسروں کے سامنے خود کو کسی طاقتور ہستی کے ساتھ سپردگی کے اعتراف میں ہمیشہ تسکین ملتی رہی خود کو کسی کے رحم کرم پر چھوڑ دینے کا احساس اسے ایک روحانی خوشی دیتا رہا۔

سجدہ کرنا، ماتھا ٹیکنا، اس کی رضا و منشا کے مطابق زندگی گزارنے کو ایک طرف تو وہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا رہا اور دوسری طرف اسے خود بھی ایسی ہی کوئی ہستی، یا چیز بننے کی خواہش رہی کہ ساری دنیا اس کے زیرِ نگیں ہو، وہ بلا شرکتِ غیرے دنیا پر حکمران ہو، ہوائیں، طوفان، سیلاب سب اس کی مرضی سے اپنا رخ بدلیں، وہ ہی لوگوں کا پیٹ بھرے، یا نہیں بھوکا رکھے، وہ انہیں موت یا زندگی دینے کا مجاز ہو یوں خشکی، کبھی سمندر اور سمندر کبھی خشکی میں تبدیل ہوا اور کروڑہا صدیاں بیت گئیں انسان نے دو پیروں پر چلنا شرع کیا اور اگلے دو پیروں کو اس نے ہاتھ بنا کر ان سے سر کھجانا شروع کر دیا، تب اسے اپنی انگلیوں میں نوکیلوں ناخنوں کا احساس ہوا، یہ ناخن اس کے پاس قدرت کی طرف سے بہت بڑا ہتھیا ر تھے، انسان کے جبلی ارتقائی عمل کے ساتھ ساتھ اسے اپنی پوشیدہ اور ظاہری صلاحیتوں کا علم ہو تا رہا اور وہ اپنی عقل، اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر انہیں حتی المقدور استعمال کرتا چلا گیا، پھر ساری دنیا میں صالح پیغمبرانِ کرام کا سلسہ شروع ہوا سب سے پہلے ان کی اطاعت اور احترام خطے کے چند طاقتورلوگوں کی جانب سے کیا گیا، جب دوسرے لوگوں نے طاقت اپنے ہاتھ سے جا تی دیکھی تو وہ پیغمبر اور ان کے ماننے والوں کے دشمن ہو گئے، یوں نیکی اور شر آمنے سامنے ہوئے تو کبھی اس لڑائی میں نیکی غالب آتی تو کبھی شر جیت جاتا لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ دائمی فتح نیکی کو ہی نصیب ہوئی۔ سچائی، نیکی، پرھیز گاری کا چلن خدا کے ان دیکھے تصور سے بھی پرا نا ہے، اسی طرح، باطل، گناہ اور دھوکہ دہی کا چلن بھی ان کے ظاہری ہیبت ناک خدا سے پہلے کا ہے۔

جب مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ہر پیغمر اور نبی نے اسلامی شعائر کو عام کیا اور ایک ان دیکھے خدا کا تصور پیش کیا، تب انسان کو یہ تصور زیادہ فطری اور عقلی دلائل کے لیے معقول لگا۔ ان دیکھے خداکی حاکمیت پوری کائنات پر تھی اور وہ دلوں کے بھید اور نیتوں کے حال بھی جان سکتا ہے دنیا کے وہ خطے جہاں مذہب کی عمداری مقدم ہے وہاں ہر انسان اپنے اپنے معلوم علم، معلومات، صحبت، دوستی اور میراث کی بنا پر اپنے بچوں کو اپنے عقیدے اور نظریے پر کار بند دیکھنا چاہتا ہے اس لیے شیر خواری سے ہی بچے کے ذہن میں اپنے باپ یا ماں کے دیے ہوئے عقائد و نظریات اس کے اندر ایک احساسِ برتری اور تخافر کے جذبات بھر دیتے ہیں۔ اور وہ اپنے عقائد کو درست مان کر دوسروں کے عقیدے کی درستی کی سعی کو اپنی زندگی یا موت کا مقصد بنا لیتا ہے۔ وہ خود کو خدا کر قریب محسوس کرتے ہوئے اس سے محبت کرتا ہے اور کسی گناہ یا غلطی کی صورت میں اس کی سزا کے خوف میں مبتلا ہو کر اپنے نیک اعمال کو مٹتے دیکھتا ہے تو اللہ سے معافی اور آئندہ غلطی نہ کرنے کا عہد کرتا ہے۔

مگر پھر انسان کی مکاریوں نے اللہ کی محبت اور اس کے خوف کو دل سے نکال کے اپنی زبان میں قید کر دیا اس مملکتِ خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اللہ کو ایک ماننے والے اس بات پر کامل یقین رکھنے اور دل و دماغ میں بسانے کے بجائے، اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ خدا ان کی نیتوں سے واقف ہے، ان کی شہ رگ سے قریب ہے وہ ستر ماؤں سے ذیادہ پیار کرتا ہے۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، ہمارے ایک ایک عمل اور سوچوں پر اس کی نظر ہے اس کا پہرا ہے۔ جو کچھ ہے اسی نے عطا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زندگی اور بعد از موت دائمی زندگی میں جزا اور سزا کا تصور پیش کیا گیا۔ یہ محض ایک تصور نہیں، اعلیٰ و ارفع پیغام بھی ہے اس پیغام کو انبیاء اور پیغمرانِ کرام کے اعلیٰ اخلاق و کردار کے عملی نمونے کی معرفت نافذ کیا گیا مگر افسوس ہم نے ان کے ذکر کو بھی کاروبار بنا لیا، ہم نے ایسے ادارے قائم کیے جہاں زبان و بیان میں شیرینی اور شخصیت میں کشش پیدا کرنے کی تربیت دی جا تی ہے، یو ں ادارے قائم ہو تے رہے کاروبار چمکتا رہا، کمزوروں کو آخرت میں انصاف کی نوید دی گئی اور وہ یومِ حساب ظالم کا گریبان پکڑنے کی امید پر قبر میں جا لیٹا اور طاقتور دنیا میں جنت کے مزے لیتا اور آخرت میں بھی اس سے فیضیاب ہو نے کے لیے، مساجد کی تعمیر، خواہش مندوں کو مکے کی زیارت اور صدقہ و خیرات میں اپنی دولت دان کر کے اپنے تئیں پاک کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

ان کی شان شوکت احترام و عقیدت نے لوگوں کو ان کی تقلید پر مجبور کیا، انہوں نے ایک قدم اور لیا اورجائز ناجائز دونوں ہاتھوں سے دولت لوٹنی شروع کر دی ہاتھ کی انگلیوں پر وظیفہ اور زبان پر میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، کا ورد رہنے لگا۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی، یہ کھوج بھی ضروری ہوگئی کہ بزورِ طاقت دوسروں کے عقیدے کو درست کیا جا ئے چنانچہ چوکوں چوراہوں اور منبروں سے اپنے دوسروں کے عقائد کو برا کہا جا نے لگا سب کام چھوڑ چھاڑلوگ اسی بحث میں مصروف ہو گئے، اور سرمایہ داروں وڈیروں اور جاگیر داروں کا محنت کش غلام طبقہ اپنے آقا کی خوشنودی کے لیے اپنے جسم وجان، عزت اور خوہشات کی قربانی دیتا رہتا ہے، اس تک ایک اللہ کاپیغام، جنت کی نوید اور دوزخ کا خوف نہیں پہنچایا جا تا، وہاں تو مساجد تک بھی ان کی رسائی ہے نہ وقت۔

جب کہ ہمارے پاس نبی کے اعلیٰ اخلاق کی مثال، صبر، ایثار، نیکی اور ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے مقدس کتاب سے فرامین موجود ہیں اب جیسے آپ اپنے بچے سے کہتے ہیں ماں باپ کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے، صفائی نصف ایمان ہے یا ماں باپ جب بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں تو انہیں اف نہ کہو، جب ہم یہ تمام باتیں دینی عقائد کی روشنی میں کرتے ہیں تو کوئی طنز سے مسکراتا ہے نہ ڈھٹائی سے ترکی بہ ترکی کرتا ہے۔ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ گھرا نے جہاں مذہب کی عمداری کو اولڈ فیشن سمجھا جا تا ہے، وہاں بے معنویت نے لوگوں کی زندگی کو ڈپر یسڈ کیا ہو اہے، اولاد ماں باپ کی نصیحت سننا ہی نہیں چاہتی اور والدین بھی ان سے توقع نہیں رکھتے یوں مایوسی پھیلتی ہے، میاں بیوی بھی اپنے معاملات میں مکمل آزاد ہیں، یوں ایک دوسرے پر اپنا حق جتانے کا تصور دور ہوتا گیا، ہر انسان پرائیوسی کی چاہ میں تنہا ہوتا چلا گیا۔ تنہائی انسان کو نفسیاتی بحران مبتلا کر دیتی ہے۔ لیکن افسوس کہ مذہب کی دوری اور مذہب سے محبت دونوں میں انتہا پسندی کے فروغ کے باعث انسانیت کہیں پیچھے چلی گئی۔ اگر مذہب سے دوری یا قربت انسان کو انسان سے قریب کرتی محبت کو فر وغ ملتا تو ہمیں ایک اللہ کافی تھا۔

لبرلز کے خیالات اور میڈیا کی بے لگام آزادی بہرحال ہمارے اختیار میں اور محدود پیمانے پر ہے، ہمارے اسلامی معاشرے میں جو مذہب پر یقین نہیں رکھتے انہیں اپنے خیالات کے پرچار اور اس پر عمل در آمد کے لیے بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں جب کہ تبلیغی اجتماعات، دینی مجالس، محافل، سڑکوں چوراہوں ہر مذہبی بحث، مساجد کی تعمیر، عبادات، خواتین میں حجاب کی مقبولیت اور صدقہ خیرات میں پہلے سے کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارا معاشرہ بری طرح اخلاقی انحطاط کا شکار ہے۔

آزاد خیال سوچ کو ان کی سوچ پر قدغن کی شکائت ہے جب کہ ہمارے علماء کرام بے راہ روی کا ذمہ دار آزاد خیال سوچ کو ہی سمجھتے ہیں۔ اللہ کو ایک ماننا، آخرت پر یقین رکھنا اور حیات بعد از موت پر ایمان تمام مسائل کا حل ہے، نیکی کے پرچار، اسلامی پیغام اور رسول کی سنت عام کرنے اور لوگوں کی دل و دماغ کو اس پیغام سے اجالنے ا ور ان کی زندگیوں میں شرعی تعلیم کے (حقیقی معنوں میں ) نفاز میں کیا رکاوٹ ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کی رکاوٹ میں ہماری خود کی تشہیری خواہش رکاوٹ ہو، ہو سکتا ہے، حقیقی دینداری میں پارسائی اور تقوے کی شہرت کا تڑکہ نہ ہو، اس راہ پر چلنے کے لیے بڑی کٹھنائیاں ہوں، لیکن معاشرے کو ایک اسلام اور ایک اللہ کے پیغام کے ذریعے انسانیت کی تعلیم ضرور دی جاسکتی ہے، جو ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قرآن کا درس ہے۔ انسانیت کی تعلیم میں ہی فلاح ہے۔

اس کے پردے سے ہی نکلیں گے خدا و اہرمن
دیکھ لینا تم جو انساں کو کبھی سمجھا گیا
میر احمد نویدؔ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •