جنسی درندے کون پیدا کررہا ہے؟ (1)


آٹھ سالہ بچی زینب کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے چند روز بعدسوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل رہی جس میں ایک نوجوان نے دعویٰ کیا کہ معصوم بچیوں سے جنسی زیادتی کی وجہ ایک ٹی وی شو ہے جس میں چھوٹی بچیوں کو رقص کرایا جاتا ہے اور بچیوں کی جسمانی حرکات دیکھ کر دوسری صورت میں ’معصوم‘ لوگ اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور انہیں جنسی ہوس کا نشانہ بنائے بغیر نہیں رہ سکتے۔

اس ویڈیو کا وائرل ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ ہمارے ہاں عام تاثر یہی ہے کہ رقص و موسیقی سے وابستہ لوگ اور لبرلز ملک میں بے حیائی پھیلارہے ہیں جبکہ مذہبی حضرات اس بے حیائی کے سیلاب کے آگے سینہ سپر ہوکر ضرب المثالی آخری چٹان بنے کھڑے ہیں۔ اگر یہ نیک لوگ نہ ہوں تو شاید ہماری بچیوں کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔

 تاہم ملک میں روز بروز پیش آنے والے ہولناک واقعات کی وجہ اس قدر سادہ نہیں پاکستان میں یہ تاثر پیدا کرنے پر مذہبی حلقوں نے خوب محنت کی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ بُرائی کو کہاں تلاش کرنا ہے اور اچھائی کو کہاں پر۔ ہمارے اندر برائی دیکھ کر بھی آنکھ بند کرلینی ہے اور دُوسرے کے خلاف شور مچادینا ہے۔ لوگوں کو یہ بنا بنایا فارمولا دے دیا گیا ہے کہ مذہب سے دُور حلقے ہی گناہ کا گڑھ ہیں جبکہ ساری نیکی اور اچھائی مذہبوں حلقوں میں مرتکز و محصور ہوکر رہ گئی ہے۔ تاہم نیکی اور بُرائی کے ارتکاز کا یہ فارمولا انتہائی سادہ ہونے کی بنا پر غلط و گمراہ کن ہے غیر مذہبی اور سیکولر ادب تو اپنی جگہ خود مذہبی و رُوحانی ادب میں اس قدر سادگی سے خبردار کیا گیا ہے۔

دہشت گردوں کے تناظر میں علمائے کرام یہ حدیث خود پیش کرتے رہے ہیں کہ ایک گروہ عام لوگوں سے زیادہ عبادت گذار، تلاوت کرنے والا اور مذہبی دکھائی دینے والا ہوگا مگر وہ دین کو نقصان پہنچائے گا۔ اس کے علاوہ صوفیائے کرام نے مُلا نصیر الدین کے کردار کی مدد سے اس بنیادی غلطی کی نشان دہی کرتے رہے ہیں کہ ہم بعض اوقات کچھ وقوفی و شناختی تعصبات کی بنا پر چیزوں کو وہاں تلاش نہیں کرپاتے جہاں وہ موجود ہوتی ہیں۔ صوفیانہ ادب سے اس پر دو مثالیں پیش خدمت ہیں۔

ایک بار شہر کے کوتوال کو شک پڑتا ہے کہ ملا نصیر الدین شاید کسی قیمتی چیز کی سمگلنگ کرتا ہے اس لئے دن بہ دن امیر ہوتا جارہا ہے۔ کوتوال سرحد پر پہرے لگا دیتا ہے۔ ملا نصیر کچھ ساتھیوں کے ساتھ گدھوں پر گذرتا ہے ، گدھوں پر لادے سامان کی تلاشی لی جاتی ہے لیکن ہربا ر ان سے اینٹ پتھر کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔ کوتوال کئی مرتبہ اُسے رنگے ہاتھوں پکڑنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہر بار گدھے پر کبھی گھاس پھوس اور کبھی ٹوٹے ہوئے مٹی کے برتن برآمد ہوتے ہیں۔ کوتوال ہار مان لیتا ہے اور ریٹائرمنٹ سے کئی سال بعد ایک دن ملا سے پوچھتا ہے کہ اب تو بتاؤ کہ تم کیا چیز سمگل کیا کرتے تھے تو مُلا جواب دیتا ہے :

’’گدھے‘‘۔

ملا نصیر الدین کا ایک اور لطیفہ ہماری اس سادگی پر اس سے بھی گہری چوٹ کرتا ہے۔

ایک شام ایک شخص بغداد کی گلیوں سے گذر رہا ہوتا ہے جب وہ ملا نصیر الدین کے گھر کے سامنے گذرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ملا گلی کے چراغ کی روشنی میں گھر کے سامنے کچھ تلاش کررہا ہے۔ وہ شخص ملا کو سلام کرکے آگے بڑھ جاتا ہے اور جب کئی گھنٹے بعد واپسی پر وہیں سے گذرتا ہے تو مُلا اس وقت بھی اسی جگہ چراغ کے نیچے کچھ تلاش کررہا ہے۔ وہ شخص ملا سے پوچھتا ہے کہ کچھ کھوگیا ہے تو ملا ہاں میں جواب دیتا ہے۔ اس پر وہ شخص پوچھتا ہے :

’’کیا تمہیں یقین ہے کہ تم نے جو کھویا ہے اسی مقام پر کھویا ہے جہاں تلاش کررہے ہو؟‘‘۔ اس پر مُلا جواب دیتا ہے :

’’کھویا تو اند ر ہے لیکن اندر اندھیرہ ہے اس لئے باہر روشنی میں تلاش کررہا ہوں ‘‘۔

کوتوال مُلا کو اس لئے نہ پکڑسکا کیونکہ وہ اپنے اس تعصب کا غلام تھا کہ جو چیز مُلا سمگل کررہا ہے وہ گدھا نہیں ہوسکتا مگر گدھے پر لدی کوئی چیز ہوسکتی ہے۔ دوسرے لطیفے کی مدد سے کسی نے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ عام طور پر ہمیں گمشدہ چیز ، یا کوئی راز ، یا کسی مسئلے کا حل اس لئے نہیں ملتا ہے کہ ہم تلاش میں سنجیدہ نہیں ہوتے یوں ’آسان‘ اور ’غلط العام ‘ مقامات پر تلاش کرتے ہیں۔

ملک میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی اور قتل کے کیسز کے سلسلے میں بھی ہمارے سماج کا زوایہ فکر کچھ ایسا ہی سہل پسند اور غلط الاعام فارمولوں کا محتاج دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں کسی نے بتا دیا ہے کہ جنسی جرائم اور بے حیائی کے ٹھیکدار رقص و موسیقی اور دین سے دُور لوگ ہیں اور ہم یہ دیکھ کر بھی کہ روزانہ بنیادوں پر کوئی معصوم بچی یا بچہ دینی تعلیم دینے والا قاری یا مولوی کی ہوس کا نشانہ بن رہا پھر بھی ہم کوتوال اور خود ملا نصیر الدین کی طرح وہاں دیکھ رہے ہیں جہاں یہ سب دیکھنے کی ہمیں ’ہدایت‘ دی گئی ہے یا جہاں دیکھ کر ہم اپنی نیکوکاری کو مشکوک نہیں بنانا چاہتے۔

زینب کیس کا مجرم سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو چلا ہے کہ ہمارے سماج کو ایک مدقوق طرزِ فکر نے بُری طرح ہپناٹائز کررکھا ہے۔ دنیا بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے سلسلے میں ہونے والی تحاقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ وہ قریبی رشتہ دار یا ماں باپ کے دوست بناتے ہیں جن پر بچوں کے والدین شک نہیں کرسکتے ہیں اور ہمارے سماج کے وہ رشہ دار جن پر عام طور پر شک کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے ، مولوی اور دین دار طبقہ ہے۔

 ابھی زینیب کے واقعے کے چند روز بعد ہی اوکاڑہ میں ایک قاری نے اپنی نو سالہ شاگردہ کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا ہے۔ اس مولوی کی نیکوکاری کے چرچے شاید اس قدر نہ ہوں جس قدر مفتی قوی کے رہے ہیں لیکن اُن کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایسے ہی واقعات نے پہلی بار پاکستان میں یہ صحت مند بحث چھیڑ دی ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے پیچھے ایک مخصوص مذہبی سوچ کارفرما ہے جو عبادات کا صلہ بے اختیار ’کم سن‘ حوروں کے ساتھ طویل المیعاد جنسی تعلقات بتاتی ہے۔ یہ بحث صحت مند ہے کیونکہ روزانہ کی بنیاد ہونے والے ایسے واقعات کے بعد اگر ہم اپنی بچیوں کو جنسی درندگی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس مسئلے پر کھل کر بات کرنی ہوگی۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS