اسکرٹ اور بلاؤز کا چولی دامن کا ساتھ ہے


غالباً پاکستانی ثقافت نے بتدریج اپنا ارتقائی سفر تیزی سے شروع کر دیا ہے۔ ہمارے ذہن میں یہ خیال کیوں آیا؟ اس کی وجہ ہمارے منصف اعلیٰ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے تقریر کا توازن بیان کرنے کے لیے زنانہ اسکرٹ کی مثال دی ہے۔ اگر ہماری ثقافتی اقدار منجمد ہو چکی ہوتیں تو یقیناً وہ دھوتی کی مثال دیتے۔ ہماری معلومات کے مطابق اسکرٹ صرف زنانہ ہی نہیں بلکہ مردانہ بھی ہوتے ہیں۔ آپ نے اسکاٹ لینڈ اور برطانیہ کے مردوں کو ان کے روائتی اسکرٹ میں دیکھا ہی ہو گا۔ منصف اعلیٰ کی زبان پر معلوم نہیں کیوں مثال کے لیے زنانہ اسکرٹ ہی آیا۔

اسکرٹ تیز ہوا میں پہننے والا پہناوا نہیں ہے۔ تیز ہوائیں اسکرٹ کی لمبائی اور چھوٹائی دونوں کو خاطر میں نہیں لاتیں اور اڑا کر رکھ دیتی ہیں۔ پاکستان میں آج کل "جمہوری” حکمراں بھی تیز ہواؤں کی زد میں ہیں۔ یہ تیز ہوائیں پانامہ کی جانب سے پاکستان میں داخل ہوئیں اور ایک وزیر اعظم کو اڑا کر رکھ دیا۔ جیسے تیز ہوا چلنے سے اسکرٹ ادھر ادھر ہو جاتا ہے اور پہننے والا یا والی ادھر ادھر سے پکڑ کر اسکرٹ کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ویسے ہی تیز ہواؤں سے ادھر ادھر ہو جانے والے سابقہ وزیر اعظم کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو بزعم خود اپنی اصل جگہ پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بات بہت واضح ہے۔ جب تک تیز ہوائیں چل رہی ہوں، اسکرٹ ہو یا سیاست دان دونوں ادھر ادھر اڑتے پھرتے ہیں اور اس اڑتے پھرنے میں بہت کچھ عیاں اور عریاں ہو جانے کا خدشہ رہتا ہے۔ اور اکثر اوقات ایسا ہو بھی جاتا ہے۔

اسکرٹ کے ساتھ جب تک بلاؤز نہ ہو یہ لباس مکمل نہیں ہوتا ۔ اسکرٹ اور بلاؤز کو دامن اور چولی بھی کہا جا سکتا ہے۔ چولی دامن کا ساتھ ایک محاورہ بھی ہے جس کا مطلب ہے لازم وملزوم ہونا۔ گویا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اسکرٹ یعنی دامن کا ذکر خیر ہوا ہے تو مستقبل میں چولی یعنی بلاؤز کا ذکر بھی بعید از قیاس نہیں۔ الجھن البتہ اتنی سی ہے کہ اسکرٹ تو حسن بیاں سے متمثل ہو چکا۔ بلاؤز یعنی چولی کا موازنہ کس سے کیا جائے گا؟ "کس بہانے سے مجھے کس کا پتہ یاد آیا”۔

اسکرٹ اور بلاؤز کا دامن اور چولی کا ساتھ ہے۔ اور یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہر کوئی یہی بات جانتے ہوئے بھی جاننا چاہتا ہے کہ چولی کے پیچھے کیا ہے۔ اگر چولی کے پیچھے کیا ہے سے ہمارے نازک جذبات مشتعل یا منجمد ہونے کا خطرہ ہو تو اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم پاکستانیوں کو "وچلی گل” جاننے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ سیاسی افق پر نمودار ہونے والا کوئی بھی واقعہ ہو ہم لوگ مل کر "چولی کے پیچھے کیا ہے” والا گانا گانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ چولی کے ساتھ ایک چیز "چنری” بھی ہوتی ہے اور اس کے نیچے بھی "کچھ” ہوتا ہے۔ مذکورہ گانے میں چنری آہستہ آہستہ سرکتی جاتی ہے بہت کچھ عیاں ہوتا جاتا ہے مگر مغنیہ آخر تک چولی کے پیچھے کیا ہے کا سوال بلند کرتی رہتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی صورت حال ہے۔ چنری سرک چکی ہے۔ بہت کچھ عیاں ہو چکا ہے مگر ایک صاحب ابھی تک "چولی کے پیچھے کیا ہے” والا راگ مختلف الفاظ یعنی "مجھے کیوں نکالا” میں الاپتے پھر رہے ہیں۔ مغنیہ کی طرح شاید وہ بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہ رہے ہیں کہ عوام اچھی طرح سمجھ لے کہ چولی کے پیچھے دراصل کیا ہے۔ مگر جناب چولی کے پیچھے جو بھی ہو اس سے ہمیں کیا بھئی؟

بتایا گیا کہ تقریر اور زنانہ اسکرٹ کے حوالے سے یہ الفاظ دراصل سر ونسٹن چرچل نے ادا کیے تھے۔ ونسٹن چرچل تاریخ کے صفحات میں احترام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ وہ برطانیہ کے وزیر اعظم تھے۔ ان کا ایک اور قول پاکستان میں کھڑکی توڑ رش لیتا رہا ہے جس میں وہ جنگ عظیم دوم کے دوران عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کے حوالے سے اظہار خیال فرما رہے تھے۔ ان کا یہ قول پڑھ کر ہمیں کافی حیرانی اور بعد ازاں پریشانی ہوئی کیونکہ پاکستان میں اگر عدالتیں انصاف نہ کریں تو دشنام طرازی اور دھمکیوں سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ اگر انصاف کردیں تب بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ سر ونسٹن چرچل کے قول سے ایک بات سمجھ میں آئی کہ وہ ایک جمہوری وزیر اعظم کا آزاد اور طاقتورعدلیہ پر بھرپور اعتماد کا اظہار تھا۔ پاکستان میں جمہوری وزیر اعظم کا عدلیہ پر بھرپور اعتماد تب تک ہی رہتا ہے جب تک وہ اس کے مخالفین کے ساتھ انصاف کرتی رہتی ہے۔ جوں ہی انصاف کا رخ وزیر اعظم کی طرف ہوتا ہے عدلیہ کے ساتھ جنگ عظیم چھڑ جاتی ہے۔ اسی لیے اگر پاکستان میں عدلیہ کا سربراہ ایک جمہوری وزیر اعظم کا قول دوہرا دے تو جمہوریت کو بل پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس اسکرٹ والی بات کو لے کر بہت لے دے ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ اس بات کو صنفی امتیاز سے نتھی کر رہے ہیں تو کچھ لوگ اس میں پنہاں معانی دریافت کرنے کے چکر میں ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ منصف اعلیٰ کو یہ بات نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ منصف سے معافی مانگی جاتی ہے مگر چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھنا تھا کہ منصف سے ہی غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ گویا گنگا نے الٹی طرف بہنا شروع کر دیا ہے۔

سوال کیا جا رہا ہے کہ اسکرٹ کا ہی ذکر کیوں یاد آیا؟ دھوتی یا شلوار کی مثال کیوں نہیں دی گئی۔ کوئی مانے یا نہ مانے دھوتی اور اسکرٹ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اگر کوئی فرق ہے تو بلاؤز کا ہی ہے کیونکہ دھوتی پر بلاؤز نہیں پہنا جاتا۔ اب رہ گئی شلوار۔ تو کیا آپ کو سپریم کورٹ کی دیواروں پر لٹکی ہوئی شلواریں یاد نہیں؟

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad