شریعت، حجاب، اسلامی تاریخ اور اکیسویں صدی کی مسلمان عورت
ہمارے معاشرے میں عورت کے حقوق کے بارے میں جب بھی کچھ کہا جاتا ہے اس کے خلاف یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ عورت کی آزادی مانگنے والے غیر اسلامی اور غیر شرعی مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد چادر اور چار دیواری کی ایک بحث چھڑ جاتی ہے۔ عورت کو ایک انسان کی بجائے ایک ایسی چیز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کا مقصدِ تخلیق ہی مرد کے جنسی جذبات ابھارنا ہے۔ عورت کی نقل وحرکت پر پابندی، برقعہ، حجاب اور اسلام کو لازم و ملزوم قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے خلاف بات کرنے والے کو مغرب زدہ قرار دے کر اسے معاشرے میں بے راہ روی پھیلانے کا موجب ٹھہرا دیا جا تا ہے۔ معاشرے کی گندگی کے سارے ڈانڈے عورت کی آزادی کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ اگر کوئی عورت پر معاشرے میں ہونے والی زیادتیوں کی طرف توجہ دلائے تو مولانا سراج الحق تک یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ عورت کو شریعت میں دئیے گئے حقوق سے زیادہ حقوق نہیں دلا سکتے۔
میں تاریخ کی ایک معمولی سی شاگرد ہوں اور میرا تاریخ کا مطالعہ مجھے بتاتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور کی مسلمان عورت اتنی پابندیوں میں زندگی نہیں گذار رہی تھی جتنی آج کی عورت پر لگانے پر زور دیا جاتا ہے۔ اسلام کی ابتدائی دور کی عورت مردوں کو بھی پڑھاتی تھی، بزنس کرتی تھی، مسجد کی صفائی پر مامور تھی، جنگوں میں نہ صرف نرسنگ کا کام کرتی تھی بلکہ میدانِ جنگ میں لڑائی میں بھی حصہ لیتی تھی۔ عورت پر پابندیوں کی موجودہ لِسٹ نجانے کس وقت شریعت کا حصہ بنی؟ اس کا جواب اسلام کے مورخین کو ڈھونڈنا ہوگا۔
میں تاریخی شخصیات اور واقعات پر تنقید کے خلاف نہیں ہوں۔ میرے خیال میں ایسی بحث ادب کے ساتھ کرنا ضروری ہے تاکہ ہم اُن سب واقعات کو حقیقت کی روشنی میں دیکھ سکیں۔ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام کی چند شخصیات کے بارے میں مختلف مسالک میں شدید اختلاف ہے۔ اس بارے میں میرے رائے یہ ہے کہ اگر اس وقت کیتھولک اور یہودی اس بات پر آمادہ ہو سکتے ہیں کہ وہ تاریخ کے واقعات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو اب نفرت کا نشانہ نہیں بنائیں گے تو مسلمانوں کے مختلف فرقے ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟
اس کالم میں میں اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓپر ہونے والے تاریخی تبصرے اور موجودہ دور کے دینی مبلغ کی آرا کے حوالے سے بات کروں گی کہ کس طرح یہ آرا مسلمان عورت کے حقوق کے بارے میں موجود نقطہ نظر کو تحفظ دیتی ہیں۔ آج کے مبلغ اسلامی تاریخی واقعات کو عام لوگوں تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ اس حوالے سے میں مرحوم جنید جمشید کی ایک یوٹیوب وڈیو کا ذکر کروں گی جس میں اُنہوں نے حضرت عائشہ ؓ پر تنقید کی ہے۔ اس وجہ سے اُن پر بلا سفمی کا الزام بھی لگا تھا۔ اُن کی خوش قسمتی تھی کہ اُن کے مذہبی بیک گراونڈ کی وجہ سے اُن کی جان بخشی ہو گئی تھی اور اُنہیں ان گنت دوسرے لوگوں کی طرح جیلوں اور مقدموں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن سے چھٹکارا تاحیات ممکن نہیں ہوتا خواہ الزام جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
میں نے جب مرحوم جنید جمشید کی متذکرہ وڈیو دیکھی تو مجھے حیرت ہوئی کہ ایسا شخص جو کئی برس سے مذہب کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اور تبلیغ کر رہا ہے اُسے حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں صرف یہی کہنا ہے کہ وہ رسول اکرم ؐکی توجہ حاصل کرنے کیلئے سردردی کا بہانہ کر کے بیٹھ گئی تھیں۔ اس واقعہ سے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ عورت ٹیٹرھی ہے کہ وہ پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ میں نے اس بات کو سمجھنے کیلئے اس کا ذکر ایک بہت پڑھے لکھے بزرگ (یونیورسٹی گریجوایٹ) سے کیا جو جنید جمشید کے بہت بڑے فین ہیں اور اُنہیں کے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔اُنہوں نے مجھ سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ جنید جمشید اس ویڈیو میں ٹھیک کہتے ہیں کہ عورت ناقص العقل ہے اور قوم کی لیڈر شپ کی اہل نہیں ہے۔ وہ فرمانے لگے کہ حضرت عائشہ ؓ کی وجہ سے جنگِ جمل میں کئی ہزار مسلمانوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ میں نے اُنہیں یاد دلایا کہ اس جنگ سے پہلے ہی مسلمانوں میں نفاق پیدا ہو چکا تھا، حضرت عثمان ؓ کی شہادت اس کا ثبوت ہے۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں کے درمیان جنگوں کا خاتمہ نہیں ہوا تو کیا اس سے اُن سب مسلمان مردوں کا ناقص العقل ہونا ثابت ہوتا ہے؟ میں نے اُنہیں یاد کروایا کہ اس جنگ میں حضرت عائشہ ؓ نے ہزاروں مسلمانوں کی قیادت کی تھی جس میں کچھ جید صحابہ بھی شامل تھے۔ باقی امہات المومنین نے بھی ان کو سپورٹ کیا تھا۔
کئی مسلمان مبصر اور مورخین یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس جنگ میں حضرت عائشہ ؓ غلطی پر تھیں۔ اس کے ثبوت کے طور پر وہ ایک حدیث پیش کرتے ہیں۔ اس حدیث کے مطابق رسول اکرم ؐ نے کہا تھا کہ اُن کی ایک بیوی پر خِواب کے مقام پر کتے بھونکیں گے اور جنگِ جمل میں حضرت عائشہ ؓ پر یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ وہ مورخین صلح حدیبیہ سے پہلے کے ایک واقعے، بیعتِ رضوان، کو بیان نہیں کرتے جس میں رسول اکرم ؐنے مسلمانوں سے حضرت عثمانؓ کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے بیعت لی تھی کہ اُس وقت یہ افواہ تھی کہ حضرت عثمانؓ کو دشمنوں نے قتل کر دیا ہے۔ ممکن ہے کہ حضرت عائشہؓ بیعت ِرضوان کے مطابق حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے فوری بدلے کے حق میں تھیں۔ اور حضرت علی ؓ مسلمانوں کو مضبوط کرکے حضرت عثمان ؓ کے قتل کا بدلہ لینے کے حق میں تھے اور اس معاملے میں انتظار کے قائل تھے۔
یہ بھی عین ممکن ہے کہ حضرت عائشہ ؓ غلطی پر تھیں۔ یہ ایک ضروری بحث ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ عورت ناقص العقل ہے اور حضرت عائشہ ؓ کو ایک عورت ہونے کے حوالے سے جنگ کی قیادت نہیں کرنا چاہیے تھی، غلط ہے۔ میں نے بہت ساری تفسیروں اور تاریخی کتابوں میں یہ پڑھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے اس کے بعد توبہ کر لی تھی اور پھر کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ یہ بات تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔ حضرت عائشہؓ ہمیشہ حکمرانوں کے غلط فیصلوں اور غلط احکام پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ اور اسی وجہ سے ان کی وفات ہوئی ہے۔ اکبر شاہ نجیب آباد ی کی کتاب، تاریخ اسلام، جلد اول، نومبر 2003 کی اشاعت، صفحہ نمبر 592 میں ان کی وفات کی وجہ کے بارے میں لکھا ہے،
سنہ 58ھ میں حضرت اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فوت ہو کر جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔ آپ مروان کی مخالفت کیا کرتی تھیں۔ کیونکہ اس کے اعمال اچھے نہ تھے۔ مروان نے ایک روز دھوکے سے دعوت کے بہانے بلا کر ایک گڑھے میں جس میں ننگی تلواریں اور خنجر وغیرہ رکھ دئیے تھے، آپ کو گرا دیا تھا۔ آپ بہت ضعیف اور بوڑھی تھیں۔ زخمی ہوئیں اور انہیں زخموں کے صدمے سے فوت ہو گئیں
مروان بن حکام حضرت معاویہؓ کے دور میں مدینہ کا گورنر تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پچھلی کئی صدیوں سے لے کر اب تک ہمارے مورخین، مبلغ اور علما نے اپنے ذہنوں میں مسلمان عورت کے لباس، نقل وحرکت اور اس کے فرائض کا ایک تصور قائم کر رکھا ہے اور حضرت عائشہ ؓ اس تصور پر پوری نہیں اترتیں۔ حضرت عائشہؓ کا جنگ میں ہزاروں مردوں کی قیادت کرنا، اُنہیں مذہب کی تعلیم دینا اور حاکم ِ وقت پر تنقید کرنا اُن سب کو بہت ناگوار گذرتا ہے جو عورت کو چار دیواری میں بند رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے اسلام کو استعمال کرتے ہیں اور اسے اسلامی شریعت کا نام دیتے ہیں اور اس کے لیے تاریخ کے واقعات کو جھٹلانے کو بھی برا نہیں سمجھتے۔
مسلمان عورت کی آزادی کو سلب کرنے کیلئے ہمیں قرآن کی پردہ کے متعلق اُس آیت کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جو کہ حضور ؐکی ازواجِ مطہرات کیلئے کچھ مخصوص حالات میں اُن کی حفاظت کے لیے اتری۔ اُس دور کے مسلمانوں کو اس آیت کے پسِ منظر کا علم تھا، یہی وجہ ہے کہ ہزاروں مسلمانوں نے اس جنگ میں حضرت عائشہؓ کی قیادت قبول کی تھی۔
پندرہ بیس سال پہلے امریکا کے ایک سنی امام، شیخ حمزہ یوسف نے فتویٰ دیا تھا کہ امریکہ اور یورپ میں مسلمان عورتوں کو اپنی حفاظت کیلئے حجاب نہیں لینا چاہیے کہ حجاب کا بنیادی حکم کا مقصد اُن کی حفاظت ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں وہ حجاب لینے سے غیر محفوظ ہوجاتی ہیں۔ خصوصاًان ملکوں کے دور دراز علاقوں میں ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کوئی سر پھرا ان پر حملہ کر سکتا ہے کہ حجاب پہننے والی مسلمان عورت کی پہچان آسان ہے۔ اُن کے اس فتوے پر اتنی تنقید ہوئی کہ اُنہیں اپنا فتوی واپس لینا پڑا۔
پچھلے سال امریکہ کی ایک ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں ٹرین میں بیٹھی ایک مسلمان عورت جو حجاب لیے ہوئی تھی پر ایک آدمی آواز ے کسنے لگا۔ وہاں بیٹھے دو امریکیوں نے اُسے منع کیا۔ تو اُس آدمی نے دونوں کو چاقو مار کر مار دیا۔ مرنے والوں میں ایک 53 سالہ رِکی جان بسٹ تھا جو کہ ملٹری میں رہ چکا تھا اور چار بچوں کا باپ تھا۔ دوسرا 23سال تالین نامکائی میک تھا جو حال ہی میں کالج سے گریجوایٹ ہوا تھا۔ ان د و بہادر امریکیوں نے اپنی جان اپنی ہم وطن عورت، جو ان کی ہم مذہب بھی نہیں تھی، کیلئے دے دی۔ ایسے ہی ہیروز کی وجہ سے ابھی تک کسی مسلمان عورت کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا مگر یہ خطرہ بدستور موجود ہے۔
اسی سلسلے میں امریکہ میں مقیم ایک مشہور مبلغ نعمان علی خان نے حجاب کے بارے میں ایک وڈیو نشر کی ہے جس میں حجاب کو مسلمان عورت کیلئے اسلامی طور پر لازم قرار دیا ہے۔ اس وڈیو میں موصوف نے خود مغربی سٹائل کا سوٹ ٹائی سمیت زیب تن کیا ہوا ہے۔
میں نعمان علی خان کی رائے کا بھی احترام کرتی ہوں اور شیخ حمزہ یوسف کی رائے کو بھی مستند سمجھتی ہوں۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ ہمارے اوپر ایک ہی رائے یہ کہہ کر مسلط نہ کی جائے کہ اصل اسلام یہی ہے اور اس رائے کے خلاف بولنے والے غیر اسلامی اور غیر شرعی مطالبے کر رہے ہیں۔ اور اگر اپنی بنائی ہوئی شریعت میں اکیسویں صدی کی عورت کے حقوق کو مد ِ نظر نہیں رکھا جا سکتا تو یہ شریعت اُس پر مسلط کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ واضع رہے کہ اگر آج کے مسلمانوں کو اسلام کی سمجھ ہے تو وہ بھی اسلام کو سمجھتے تھے جنہوں نے ساتویں صدی میں عورت کو ایک ذہین اور سمجھ دار انسان سمجھا تھا اور اس کی قیادت میں جنگوں میں حصہ لیا تھا، اس سے تعلیم حاصل کی تھی اور اس کے ساتھ بزنس میں مارکٹ شیئر کی تھی۔
ہم نے معاشرے کو صالح بنانے کے لیے کئی صدیوں سے مسلمان عورت پر پابندیاں لگا کر دیکھ لی ہیں۔ اب وقت ہے کہ اس اپروچ کو بدلا جائے۔ اب معاشرے میں عورت کے تصور کو بدلیں۔ اس کو ایک جنسی شے کی بجائے ایک سمجھ دار اور برابر کا انسان بنا کر پیش کریں جو کہ حقیقت ہے اور عورت کا حق ہے۔ سوسائٹی کو یہ باور کروائیں کہ عورت ماں، بہن، بیٹی، بیوی کے علاوہ بھی عزت کی حق دار ہے۔ اگر اس میں سپہ سالار بننے کی صلاحیت ہے تو اس کے پیچھے چلیں۔ اگر وہ دفتر میں سیکرٹری ہے، گلی میں جھاڑو دیتی ہے یا گھروں میں مزدوری کرتی ہے، تو بھی اس کی عزت لازمی ہے۔ اگر وہ بازار میں خریداری کے لیے آتی ہے تو آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ اسے ہراساں کریںکہ اس دنیا پر اس کا بھی اتنا ہی حق ہےجتنا آپ کا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ ایسی سوچ سے اس صالح معاشرے کا حصول ممکن ہو جائے گا جس کی جدوجہد کئی صدیوں سے جاری ہے۔


