کیا اب زینب کا قاتل بھی سزا سے بچ جائے گا؟

بعد میں وہ دوبارہ پکڑا گیا۔ ڈی این اے ہوا۔ زینب سمیت آٹھ لڑکیوں کے مجرم سے میچ کر گیا۔ سچ جھوٹ جانچنے والی مشین پر پونے والا پولی گراف ٹیسٹ بھی اس کے خلاف گیا۔ اقبالی بیان بھی دے دیا۔ ڈی این اے ایک پکا ثبوت ہے گو کہ ہمارے ناقص علم کے مطابق اسے سزا دینے کے لئے کلیدی شہادت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر زینب کے ورثا نے قاتل عمران علی کو معاف کر دیا تو؟ اگر مقتول کے ورثا اور قاتل کا پیر ایک ہی نکل آیا اور انہوں نے قاتل کو پیر بھائی سمجھ کر خدا کی راہ میں معاف کر دیا؟ اگر باقی سات بچیوں کے ورثا بھی اسی پیر کے مرید نکلے اور وہ بھی قاتل کو معاف کر دیں تو کیا ہو گا؟ بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ لیکن آئیے چند دن پہلے کراچی میں قتل ہونے والے معصوم بچے محمد حسین کا کیس دیکھ لیں۔
نو دس سالہ محمد حسین کو اس کے والدین نے مدرسے میں داخل کرایا تھا۔ ادھر وہ تشدد سے تنگ تھا اور ایک دن مدرسے سے بھاگ گیا۔ اس کی ماں اس کو واپس مدرسے چھوڑ آئی۔ قاری نجم الدین نے بچے پر اتنے ڈنڈے برسائے کہ وہ مر گیا۔ قاری نے یہ دعوی کیا کہ بچے کی والدہ نے اس پر سختی کرنے کا کہا تھا کیونکہ بچے محمد حسین نے اپنی والدہ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ علاقے کے تھانیدار دھنی بخش نے بتایا کہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچے کو اللہ کی راہ میں دے دیا تھا اور اب ان کا اس بچے سے کوئی تعلق نہیں۔
اب آگے مختلف اخباری ادارے دو خبریں دے رہے ہیں۔ بیشتر نیوز سروسز کے مطابق ایس ایچ او دھنی بخش نے بتایا کہ ’’ مقتول کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ مگر والدین نے بچے کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرائے بغیر ہی تدفین کر دی اور ساتھ ہی ملزم قاری کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرتے ہوئےاسے معاف کر دیا۔ تاہم، پولیس نے ملزم کے خلاف تشدد اور قتل کی دفعات کے تحت سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے‘‘۔ پوسٹ مارٹم کے بغیر کیا خاک مقدمہ چلے گا؟
بی بی سی کے مطابق ”پولیس کے مطابق والدین نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کردیا تھا اور پوسٹ مارٹم پر بھی اعتراض کیا لیکن پولیس نے پوسٹ مارٹم کرایا ہے۔ “ ایسا ہے تو مقدمے میں جان ہو گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ قصاص اور دیت کے قانون کے تحت بچے کے والدین نے قاری نجم الدین کو معاف کر دیا ہے تو اسے سزا ہو گی یا نہیں؟ کیا وہ شاہزیب اور ریمنڈ ڈیوس کی طرح آزاد ہو جائے گا؟
اگر زینب اور دوسری سات بچیوں کے والدین نے قصاص اور دیت کے قانون کے تحت زینب کے قاتل عمران علی کو معاف کر دیا تو پھر؟
ورثا کی طرف سے معاف کر دینے کے علاوہ ایک معاملہ اور بھی ہے۔ ہمارے ناقص علم کے مطابق ڈی این اے کو کسی مجرم کے خلاف کلیدی شہادت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔ فرسودہ پاکستانی قوانین کے مطابق اس کی حیثیت صرف ثانوی شہادت کی ہے جس کی بنیاد پر سخت سزا دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک کلیدی شہادت کی ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن جرم کے عینی شاہد موجود نہیں ہیں۔ مجرم عدالت میں اپنے اقبالی بیان سے پھر جائے گا کہ وہ اس نے تشدد کی وجہ سے دیا ہے۔ کیا اس صورت میں کیا مجرم کو سخت سزا دینا ممکن ہے؟ فوجداری قوانین میں سائنسی ثبوت کی اہمیت ابھی تک کیوں نہیں ہے؟ ایسے کیسز میں ڈی این اے کو کلیدی ثبوت کیوں نہیں مانا جاتا ہے؟ یہ قانون سازی کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟
یہ سب کچھ سوچتے رہیں اور غور کرتے رہیں کہ مجرم کو پکڑ بھی لیا جائے تو وہ سزا نہیں پائے گا۔ وہ کبھی قصاص و دیت کے تحت چھوٹ جائے گا اور کبھی فرسودہ قوانین کی وجہ سے۔
بس سوچتے رہیں۔ حیران ہوتے رہیں۔ اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر خوف کھاتے رہیں۔ اور دعا کریں کہ پاکستان کے بچوں کی وارث ریاست بنے گی۔ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بچوں سے بے پروا والدین سے یہ بچے ریاست لے لیتی ہے اور خود ان کو پالتی پوستی ہے، ویسے ہی ہماری ریاست بھی کرے۔ والدین کے جرم کی سزا میں بچوں کی زندگی کیوں برباد ہو؟ جو والدین اپنے بچوں کا خیال نہ رکھیں، کیا ان کو یہ حق ہے کہ ان کو بچوں جیسی نعمت ملے؟
بدقسمت ہیں وہ بچے جو ایک ایسے گھر میں پیدا ہوں جنہیں ان کی قدر نہ ہو۔ بدقسمت ہیں وہ بچے جو ایک ایسی ریاست میں پیدا ہوں جو ان سے بے نیاز ہو۔
پاکستانی عدالتوں میں ڈی این اے کو بطور شہادت استعمال کرنے کے معاملے میں ”لمز لا جرنل“ کے اس مضمون میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
http://sahsol.lums.edu.pk/law-journal/dna-evidence-pakistani-courts-analysis

