با اثروں کے ڈیروں تک جاتے خون کے نشان


وہ سترہ جنوری بدھ کا دن تھا، تین سے چار اسلحہ بردار بڑی گاڑیوں میں آئے، بیچ بازار میں گولیوں کی بارش کردی، پھر سارا شہر اس تین لاشوں کےگرد کھڑا تھا۔ تین لوگوں کو قتل کرنے والے ملزم اتنے با اثر تھے کہ وہ آئے قتل کی واردات کی اور آرام سے نکل پڑے، اس دوران دو سو قدموں کے فاصلے پر قائم پولیس اسٹیشن میں بیٹھے اہلکار اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ قاتل پارٹی لینڈ کروز پر آئی، گولیاں چلیں اور سیکنڈوں میں تین لاشیں گرا کر شہر سے نکل گئی، مقتولین دو سگے بھائی اور ان کا والد تھا۔

میہڑ دادو ضلعہ کا تحصیل ہیڈکوارٹر ہے، جنرل ضیا الحق کے خلاف ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے چلنے والی جمہوری تحریک میں یہ ہی شہر سیاسی سرگرمیوں اور جمہوریت کی جدوجہد کا مرکز رہا ہے، جمہوریت کے پروانوں پر ضیا الحق شاہی نے فوجی ٹرک اس شہر سے کچھ فاصلے پر چڑھائے تھے، اسی قتلام پر ایک سندھی شاعر نے نظم لکھی کہ
مورے میہڑ دادو میں، کے ڈھاٹیڑا پٹ ڈھول کُٹھا،

آمریتی دور میں جمہوری جدوجہد کا اہم کیمپ سمجھا جانے والا وہی میہڑ آجکل نوابزادوں، رئیس، رئیس زادوں اورسرداروں کی ایک ایسی اسٹیٹ بن گیا ہے کہ وہاں ان کے حکم کے سوا پرندہ تو پر مارے نہ مارے لیکن آدم ذات کا آزاد فضا میں سانس لینا دشوار بن گیا ہے۔ جو کوئی چاہنے والا طواف کوگر نکلے، نظر چرا کر چلے َجسم و جان بچا کر چلے۔

ان سردار اور سردار زادوں کے سامنے اگر کوئی سر اٹھتا ہے تو اسی طرح کٹتا ہے جیسے کرم اللہ، مختیار اور قابل چانڈیو کی جان گئی۔ سترہ جنوری میہڑ کے لیے خون آشوب دن تھا، ویسے بھی یہ تاریخ پہلے ہی سندھ کو ایک گھرا زخم اور بڑا جھٹکا دے چکی ہے، اسی دن مارکسسٹ، لینن اور ہوچی منہ کے روحانی شاگرد، ٹریڈ یوننیسٹ اور ترقی پسند ہاری و مزدور رہنما فاضل راہو کو بدین کے نزدیک چھوٹے سے شہر میں کلہاڑی کے وار کرکے شہید کردیا گیا تھا۔ فاضل راہو کی سیاسی زندگی عملی جدوجہد کا نام ہے، جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل ضیا الحق کے جمہوردشمن مارشل لا خلاف انہوں نے پورے سندھ میں جمہوری تحریک کا مرکز بنائے ہوئے تھا۔ لیکن ایک اعتبار سے یہ خوشی کا دن بھی ہے اس تاریخ کو جدید قومپرستی کے بانی، تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے سپاہی اور محمد علی جںاح کے ساتھی سائیں جی ایم سید کا جنم ہوا، دادو کے سن شہر میں اسی دن سائیں جی ایم سید کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ سترہ جنوری سندھ کے لئے خوشی اور غم یعنی دونوں احساسوں کا دن ہی ہے، سندھ اس دن روتا بھی ہے اور ہنستا بھی۔

یہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، ساہوکاروں، سیٹھوں، پیروں، پھر نمبرداروں، وڈیروں، بھوتاروں، رئیس، رئیس زادوں، نوابوں اور ملکوں کا مُلک ہے، اور وہ سب کے سب خودساختہ حاکم، بادشاہ اور شہزادے بنے ہوئے ہیں، ان حاکموں کی نظر میں باقی سارے لوگ رعایا ہیں، یہ وہ ملک ہے جہاں عوام کا کام تالیاں بجانا، ووٹ دینا، واہ واہ، جی جی اور جئے جئے کرنا ہے، انہی حاکموں کی وجہ سے عوام پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور ہیں، ان کا کام وطن کارڈ حاصل کرنے کے لیے اپنے گاؤں کے مکھیا سے لے کر اپنے حلقے کے منتخب نمائندے کے بیٹھک کے چکر لگانا، پھر وطن کارڈ کے اکاوںٹ میں پیسے آنے والی تاریخوں میں بنکوں کے چکر کاٹنا ہے، وہ بھوتار جنہیں علم، قلم، کتاب اور اسکول سے نفرت ہے اور ان کی محکوم بنی عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھی احتجاج کرنا پڑتاہے۔

سندھ میں اس وقت ”جسٹس فار قابل خان“ اور ”جسٹس فار مٹھی برادرز“ کے نام سے الگ الگ احتجاج ہو رہے ہیں۔ قابل چانڈیو کو اپنے بھائی اور والد کے ساتھ میہڑ شہر میں قتل کیا گیا جب کہ مٹھی میں دو دکاندار بھائیوں کو اسی ماہ کے شروع میں قتل کیا گیا، سندھ میں اکثر قتل پراسرار ہو جاتے ہیں، کچھ میں، معلوم نامعلوموں، کچھ میں با اثر لوگوں کا کردار اور کچھ میں پولیس کی مہربانی شامل ہوتی ہے، اب جب کہ کراچی میں نامعلوم ملزم ٹھکانے لگ چکے ہیں تو وہاں امن قائم ہے، لیکن کراچی کے سوا باقی سندھ میں ہر ڈویزن، ضلعہ اور تحصیل ان نامعلوم با اثر لوگوں کے حوالے ہے جو جب جس کو جہاں چاہیں ماردیں اور پھر قتل کے نشان بھی نہیں ملتے، اس قسم کے بھی دو گروپ ہیں، ایک وہ جن کا سب کو پتہ ہے، اور ان کا کام قومپرست کارکنان کو اٹھا کر گم کرنا یا پھر مسخ شدہ لاش راستوں پر پھینکنا ہے، دوسرا وہ گروپ ہے جن کی سرپرستی حکمران کرتے ہیں، وہ نامعلوم ہر حکمران کے دور میں اتنے ہی با اثر ہوتےہیں جتنے پہلے درجے والے۔ اس ملک میں کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی بڑے یا با اثر بندے کو کسی الزام میں سزا آئی ہو؟ سزا تو درکنار ان میں سے کسی کو گرفتار تک نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ہی جانے مانے با اثرو لوگوں کے نامعلوم اسلحہ بردار میہڑ میں آئے، لاش گرائے اور پھر چلے گئے۔

ہمارے ہاں قاتلوں کو پکڑنے، قانون و انصاف تک رسائی میں بھی تو امتیاز برتا جاتا ہے، اگر چاہیں تو قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی ادارے معصوم زینب کے بے نشان خون اور زیادتی کے ملزم کو بھی پاتال سے نکال کٹھڑے میں لا سکتے ہیں، کراچی کے نوجوان انتظارکے پراسرار قتل میں آٹھ پولیس اہکار بھی گرفتار ہو سکتے ہیں اور وزیرستان کے نوجوان نقیب اللہ کو جعلی پولیس مقابلے میں مارنے والے سارے ڈرامے کا پول کھول کر انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار کے گرد بھی گھیرا کر سکتے ہیں، لیکن دوسرا رخ یہ بھی ہے مٹھی جیسے تین بازاروں والے شہر میں موٹرسائیکل سوار اسلحہ بردار قتل کی واردات کے بعد ضلع بھر کی پولیس کی آنکھ سے غائب ہوجاتے ہیں، اور میہڑ کے خونی خون کرنے کے بعد بڑی بڑی موٹریں بھگا کر نکل جاتے ہیں۔

کیا ہر واردات کا ہائی پروفائیل بن جانا ضروری ہے، یا ہر واقعہ کو میڈیا کی بڑی کوریج ملنا ضروری ہے؟ یا لازمی ہے کہ ہر معاملہ پر سپریم کورٹ ہی ازخود نوٹس لے، یہاں قانون کے رکھوال قانون پر عملدرآمد کے لیے اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ کب ان کا ضمیر جھنجھوڑا جاتا ہے۔ عدالتیں اشوز کا میڈیا پر آنے کی منتظر رہتی ہیں۔ میڈیا کا بھی اپنا حساب کتاب ہے، لازمی نہیں کہ میڈیا وہ کچھ دکھائے جو وہ خود دیکھتا ہے، بلکہ اکثر ہاؤسز کی میڈیا سب کچھ نہیں دکھاتی بلکہ جو دکھانا چاہتی ہے وہ ہی دکھاتی ہے اور کئی معاملات پر آنکھیں بند کردیتی ہے۔ دور دراز تک تو میڈیا نہیں پہنچ پاتا، سندھ، پنجاب سمیت پورے ملک کے دوردراز علائقوں، کسی گاؤں اور دیھات میں کیا کیا، ظلم، نا انصافیاں اور درندگی نہیں ہوتی، وہ سب میڈیا کی آنکھ سے اوجھل ہوتا ہے، اور جو کچھ میڈیا میں دکھتا نہیں اس پر قانون کو حرکت میں آنے کی ضرورت نہیں رہتی، اور پھرمیڈیا اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں دکھاتا، تھرپاکر ضلعہ کا ہیڈکوارٹر مٹھی اور میہڑ دور دراز کے دیھات نہیں شہر ہیں، مٹھی میں دن دہاڑے دو بھائیوں کا قتل ہوا، اس قتل پر ابھی تک احتجاج چل رہا ہے، اس پر پولیس اور قانون کے رکھوال تو چپ ہیں لیکن میڈیا سے بھی اشو گم ہے، دو بھائیوں کے قاتل کون ہیں ورثا کو سب پتا ہے لیکن پتا نہیں تو پولیس کو پتا نہیں، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے۔

اسی طرح میہڑ میں ہونے والی واردات بھی رات کے اندھیرے میں نہیں دن کے اجالے میں، قانون کے رکھوالوں اور سارے شہر کے سامنے ہوئی ہے۔ کوئی پراسراریت نہ ہوتے بھی اس واردات کو پراسرار بنا دیا گیا ہے، سارہ مقدمہ ہی یہ ہے کہ قاتلوں کو سزا دو، سزا تب آئے گی جب ملزم گرفتار ہوں گے، گرفتاری تب ممکن ہے جب ان کی سیاسی پناہ گاہوں تک رسائی ہوگی، اس اعتبار سے خون کی وارداتوں میں ملوث کئی مجرم سیاسی پناہ گزیں بنے ہوئے ہیں، اور ان پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، میہڑ کے مقدمے میں تو اب مقتولیں کے ورثا پر ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباء بڑہ رہا ہے۔

مقتول قابل چانڈیو، نقیب اللہ، شاہزیب، اور انتظارکی طرح اسپیشل اس لیے نہیں کہ ان کا تعلق کراچی سے نہیں؟ وہ نوجوان تھا، وہ زیادہ مظلوم اس لیے ہے کہ وہ اکیلا نہیں اپنے بھائی اور والد کے ساتھ مارا گیا، وہ نوجوان تھا، پڑھا لکھا تھا، اس کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، اس کا قصور بھی کوئی نہیں تھا، وہ میڈیا کے لیے بھلے نقیب اللہ، شاہزیب اور انتظار نہ ہو، لیکن اس کی ماں کے درد اور نقیب اللہ یا انتظار کی ماں کا درد تو سانجھا ہے، ان کے قتل میں دوسرا ایک جیسا پہلو یہ بھی ہےکہ قتل کی دنوں وارداتوں میں با اثرلوگ ملوث ہیں۔ فرق ہے تو وردی کا ہے، قابل کے قاتل بغیر وردی والے تھے۔

قانون اور انصاف کے اس اندھے نظام کے سامنے قابل اس کا مقتول بھائی اور والد دوسرے مقتولین نقیب اللہ، شاہزیب اور انتظار جیسے خوشنصیب اس لیے نہیں کہ بڑی عدالت نے اس تہرے قتل پرازخود نوٹس نہیں لیا، اور میڈیا اس کو ذاتی دشمنی کہہ کر ایک سیکنڈ کی خبر چلانے سے بھی قاصر ہے، لیکن سبب یہ نہیں، سبب یہ ہے کہ یہ قتل کی واردات کراچی یا پاکستان کے کسی بڑے شہر میں نہیں ہوئی، بڑے شہروں کو چھوڑ کر باقی مانندہ پاکستان کو میڈیا ایسے ہی دیکھتا ہے جیسے حکمران دیکھتے ہیں، بڑے شہروں سے باہر رہنے والوں کی ضروریات، ان کے بنیادی حقوق، ان کے مسائل، ان کی مصیبتوں سے کسی کو سروکار نہیں۔ کراچی میڈیا کا مرکز ہے، اور کراچی کے علاوہ پورے سندھ کو قومی میڈیا بلکل اس نظر سے دیکھتا جیسے اس وقت کے مغربی پاکستان کے حکمران بنگالیوں کو دیکھا کرتے تھے۔

میہڑ کے قابل چانڈیو، اس کے بھائی اور والد کے ناحق قتل کے خلاف پورے سندھ میں مظاہرے اور قاتلوں کی گرفتاری کے لئے احتجاج جاری ہے، اسلام آباد میں بھی احتجاج ہوا، وکلا برادری بھی سراپا احتجاج ہے، سندھی میڈیا میں اس کیس کو زیادہ کوریج ملی ہے، لیکن قاتل کیوںکہ با اثر ہیں، جب کسی کے خلاف ایف آئی آر درج ہو جائے تو پھر قاتل نامعلوم نہیں رہتا، لیکن لمبرداری نظام قانون میں ایسے شخص پر ہاتھ ڈالنا بہت مشکل ہوتاہے کسی پولیس اہلکار کی مجال نہیں ہوتی کہ کسی تگڑے بندے پر ہاتھ ڈالے۔ تین شہریوں کے قتل کا مقدمہ سندھ کی حکمران جماعت کے ایک ممبر اسمبلی پر درج ہے، لیکن مقامی پولیس صوبائی حکومت اور انتظامیہ میں سے کوئی مقتولین کو انصاف دلانے میں سنجیدہ نہیں، جیسے کوئی قتل کوئی واردات نہیں ہوئی، جب کسی بے پہنچ خاندان یا غریب مسکین بے اثر بندے کا خون ہوجائے تو یہ قانون اس طرح سست پڑجاتا ہے، راشی، چاپلوس، منشی گیر سوچ پر چلتے قانون کے رکھوالے بھی تب جاگتے ہیں جب میڈیا اور عدالتیں ان کے ضمیر کو جنجھوڑتے ہیں، لیکن ایسا کب تک چلے گا، اس تھپکی پر سارا پراسیکوشن نظام کیسے چلنا ہے۔ ناحق خون بہانے والا ہر ملزم دہشتگرد ہے، دہشتگرد صرف داڑہی والے نہیں ہوتے، وردی والے، بغیر وردی والے، پیسے والے، زمین والے، ملکیت والے، امیر زادےبھی دہشتگرد ہو سکتے ہیں۔

ہم اس سماج میں رہتے ہیں جس میں کہیں نہ کہیں ایک با اثر، ایک بھوتار، ایک، ایک طاقتور شخص یعنی ڈاڈہا مٖڑس رہتا ہے، جو باقی لوگوں کو رعایا سمجھ کر اس بات کا متقاضی ہے کہ کسی کو گردن اونچی کرکے بات کرنے کی جرعت نہیں ہونی چاہیے، اور جو کوئی ایسی جرعت کرتا ہے تو، بندوق کی گولی اس کا مقدر بنتی ہے، اگر نہیں تو جیل اور تھانے تو اس کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ میہڑ بھی پڑوسی شہر کے ایک ڈاڈہے مڑس کے اثر سے نہیں بچ سکا، قابل خان کےبھائی کا قصور یہ تھا کہ اس نے برادری کے سردار کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا تھا اور اپنی ذات برادری کے مسائل کے حل کی خاطر ایک تمندار نامی کونسل بنائی تھی، لیکن میہڑ کو اپنی جاگیر سمجھنے والے اسی بھوتار سے یہ سب کچھ برداشت کرنا مشکل تھا۔ قتل کی ایف آئی آر میں بھی درج ہے کہ ملزم نے کئی بار دھمکیاں دیں تھی، انصاف ہونا کافی نہیں ہوتا ہوا بھی دکھائی دینا چاہیے، یہ انصاف کا عالمی اصول مانا جاتا ہے، لیکن یہاں جن مقدمات کو میڈیا اور بڑی عدالتوں کی تھپکی نہیں ہوتی اس میں اںصاف دکھائی دینا تو دور کی بات ہے انصاف ہوتا بھی نہیں۔

Facebook Comments HS

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 57 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar