ڈیپ ویب کیا ہے اور اس پر کیا کچھ کیا جا رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے پچھلے دنوں زینب قتل کیس کے سلسلے میں ڈارک ویب، ڈارک نیٹ اور ڈیپ ویب کی اصطلاحات سنی ہوں گی کہ کیسے ان پر ایک غیر قانونی مارکیٹ چلتی ہے۔ ڈارک نیٹ پر بچوں کی فحش ویڈیوز سے لے کر منشیات اور کرائے کا قاتل تک دستیاب ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود ماہرین کی جانب سے ان جرائم کا بتا کر بے حد درد مندی سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ان تاریک چیزوں پر پابندی لگائی جائے اور انٹرنیٹ کا 90 فیصد مواد ڈارک نیٹ کی ٹریفک پر مشتمل ہے۔ آپ شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ ان ٹیکنالوجیز سے آپ محفوظ ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ آپ کے ارد گرد موجود ہیں اور آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں مگر آپ ان سے واقف نہیں ہیں۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

سب سے پہلے تو دیکھتے ہیں کہ ڈیپ ویب کیا ہے جس سے ہمیں ڈرایا جا رہا ہے۔ ڈیپ ویب انٹرنیٹ پر موجود وہ ویب سائٹ کانٹینٹ ہیں جو سرچ انجن کی دسترس سے باہر ہیں۔ سرچ انجن ان کو انڈیکس نہیں کر پاتا۔ ان میں سب سے بڑا نیٹ ورک فیس بک ہے۔ جی میل، یاہو میل، آپ کی انٹنیٹ بینکنگ، ہر وہ سروس جو آپ کو کسی خاص ذریعے (مثلاً یوزر آئی ڈی اور پاسورڈ) سے رسائی فراہم کرتی ہے اور جس کے بغیر اس مواد تک رسائی ممکن نہیں، ڈیپ ویب ہے۔ اس لئے مطمئن رہیں کہ ڈیپ ویب اتنی خوفناک شے نہیں ہے جتنی آپ سمجھے بیٹھے ہیں۔ اس کے بہت سے مفید استعمالات بھی ہیں۔

ڈیپ ویب کا ایک حصہ ڈارک ویب ہے۔ یہ اتنی خفیہ چیز نہیں ہوتی کہ اسے عام ویب یوزر سے بہت چھپا کر رکھا جائے۔ ان ویب سائٹس کے سرور کا آئی پی ایڈریس اور اس کی لوکیشن خاص براوزر یا نیٹ ورکنگ کے ذریعے چھپائے جاتے ہیں جبکہ ان پر موجود مواد عام دستیاب ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی ڈارک ویب کی سائٹس کو کھول سکتا ہے مگر یہ جاننا بہت دشوار ہے کہ انہیں کون چلا رہا ہے اور کس جگہ سے چلا رہا ہے۔ عام طور پر ان کی لوکیشن کو ٹور براوزر یا آئی ٹو پی ٹیکنالوجی کی مدد سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے جو نہ تو سرور کو یوزر کا آئی پی دیکھنے دیتی ہے اور نہ یوزر کو سرور کا۔ افواہوں کے برعکس ڈارک ویب انٹرنیٹ کے 90 فیصد پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ صرف صفر اعشاریہ صفر ایک 0.01 حصہ ہے۔

ڈارک ویب سے خاص طور پر چائلڈ پورنوگرافی اور ڈرگز کی مارکیٹ کا نام جوڑا جا رہا ہے۔ مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس کے بہت سے دوسرے استعمالات بھی ہیں۔ ڈارک ویب کی مشہور ترین ویب سائٹ وکی لیکس ہے۔ فیس بک بھی ٹور کے یوزرز کے لئے ڈارک ویب سروس فراہم کرتا ہے جسے لاکھوں لوگ استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک کے پاس آپ کی اصل آئی ڈی ہوتی ہے لیکن اس کے پاس آپ کا آئی پی ایڈریس نہیں ہوتا۔ درمیان میں بیٹھی حکومتی ایجنسیاں آپ کی یہ فیس بک ٹریفک خود سے ہیک کر کے آپ تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ٹور پراجیکٹ کے تین بانیوں میں سے ایک راجر ڈنگلڈائن کے مطابق ٹور کے صرف تین فیصد یوزر ڈارک ویب سائٹس کو استعمال کرتے ہیں بلکہ باقی عام ویب سائٹس کو اپنی شناخت چھپا کر دیکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ راجر کے مطابق ٹور پر دیکھی جانے والی سب سے مقبول ویب سائٹ فیس بک ہے۔

آپ ٹور براوزر اس لنک سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں جو آپ کو نہ صرف ڈارک ویب کی ایکسس دے گا بلکہ آپ کو بین شدہ ویب سائٹ پر کوئی پراکسی انسٹال کیے بغیر بھی رسائی فراہم کرے گا:
http://www.torproject.org/

اور آپ ٹور براوزر میں یہ لنک کاپی پیسٹ کر کے فیس بک کی ڈارک ویب سروس استعمال کر سکتے ہیں
https://www.facebookcorewwwi.onion/

انٹرنیٹ پر ایک اور شے ہوتی ہے ڈارک نیٹ۔ اس تک رسائی کے لئے خاص قسم کے سافٹوئیر یا کنفیگریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال وٹس ایپ ہے۔ اس کی چیٹ اور گروپس میں رسائی صرف ان افراد کو ملتی ہے جنہیں ان میں ایڈ کیا جائے۔

ان تمام ٹیکنالوجیز کے برے استعمال ہیں تو ان سے بڑھ کر اچھے استعمالات ہیں۔ ان کو منشیات، چائلڈ پورنوگرافی، کمپیوٹر ہیکنگ، کاپی رائٹس شدہ مواد کی چوری، اور دیگر جرائم کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور ان کو اپنی نجی بات چیت خفیہ رکھنے، اپنی شناخت کو چھپا کر کسی جرم کی اطلاع دینے، حکومتی نگرانی سے بچنے، سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ریاست کے انتقام کا نشانہ بننے، حکومتی سینسر شپ سے بچنے، فری سپیچ، اور دیگر کاموں کے لئے مفید انداز میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگر آپ ڈیپ ویب یا ڈارک نیٹ پر پابندی لگانا چاہتے ہیں تو یہ سوچ لیں کہ آپ انٹرنیٹ کی ان تمام سروسز پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جنہیں آپ پاسورڈ دے کر استعمال کرتے ہیں اور ان کے مواد کو پبلک نہیں کرنا چاہتے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ تکنیکی طور پر یہ پابندی محض ایک خام خیالی ہے۔ ٹیکنالوجی ایسی کسی پابندی کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ یہ چور سپاہی کی دوڑ ہے۔ دنیا بھر کے حکومتی ادارے چاہتے ہیں کہ آپ کی پرائیویسی نہ ہو، اور ٹیکنالوجی یہ ممکن بناتی ہے کہ آپ کی پرائیویسی برقرار رہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس پرائیویسی کو قانونی استعمالات میں لاتے ہیں یا جرائم کرنے کے لئے۔ ہر اچھی بری چیز کو اپنے خلاف سازش سمجھنا غلط ہے، اور رسی کو سانپ سمجھ کر گتھ جانا حماقت۔
Jan 25, 2018 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1190 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar