مہوش حیات کے مہذب لباس پر بھی بے جا تنقید: پاکستان کی خدائی فوجدار نسل چریا ہو گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف اداکارہ مہوش حیات نے انسٹا گرام پر اپنی کچھ تصویریں شیئر کی جسے دیکھ کر پاکستان کا سوشل میڈیا طبقہ بھڑک اٹھا اور اداکارہ کو شدید اور بے سروپا تنقید کا نشانہ بنا دیا۔ تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی اداکارہ مہوش حیات نے انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر مداحوں سے شیئر کی۔ اس تصویر کو دیکھ کر پرستاروں نے ان کے لباس کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ اس وقت اداکارہ مہوش حیات امریکا کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے عالمی شہرت یافتہ موسیقار اور اداکارہ پریانکا چوپڑا کے شوہر نک جونس سے ملاقات کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے یو ایس اوپن چیمپیئن شپ میں بھی شرکت کی تھی جن کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر اداکارہ کی جانب سے شئیر کی گئی تھیں

مہوش حیات کی تصویر دیکھ کر ایک سوشل میڈ یا صارف نے لکھا کہ “”مسلمان خواتین کو اپنے جسم کا یہ حصہ ننگا دکھانے کی اجازت نہیں“۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کمنٹ کرنے والا شخص کس بنیاد پر خود کو مذہب پر سند سمجھتا ہے۔ اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ یو ایس اوپن کے مقابلوں میں پاکستانی کی ثقافتی نمائندگی کرنے والی اداکارہ نے کب یہ دعویٰ کیا کہ وہ مذہبی تبلیغ کے دورے پر نکلی ہیں۔

جان علی نامی شخص نے کہا ایک ہمارا وزیراعظم بیرون ملک دوروں میں شلوار قمیض پہن کر ہمارے ملک کی ثقافت دکھاتا ہے۔ ایک ڈریس آپ نے پہنا ہوا ہے، اگر آپ خود کو مسلمان سمجھتی ہے تو آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ مسلمان خواتین کو ننگی لاتیں اور ننگے بازو دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر تم اپنا قومی لباس پہنتی تو ان لوگوں کو پتہ چلتا کہ پاکستانی کہیں بھی جائیں۔ اپنی ثقافت نہیں بھولتے ۔

یہ کمنٹ کرنے والا نہ تو ثقافت کی اصطلاح سمجھتا ہے اور نہ اسے یہ معلوم ہے کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں جس کی رو سے شلوار قمیض پہننا پاکستان کے شہریوں پر لازم قرار پائے۔ ثقافت رہن سہن کا ایک ڈھنگ ہے جو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر شہری کا صوابدیدی اختیار ہے۔ کسی بھی معاشرے میں بیک وقت ایک سے زیادہ ثقافتی نمونے موجود ہوتے ہیں اور کسی کو حق نہیں کہ اپنی ترجیحی نمونے کو متفقہ ثقافت قرار دے کر دوسروں پر مسلط کرے۔ اس شکص کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کسی دوسرے انسان کے عقیدے کو فرض کرنا یا اس پر تبصری کرنا مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ بہرصورت اس تبصرہ کرنے والے کی دور اندیشی کی داد دینا واجب ہے کہ اس نے ان تصاویر میں Cleavage بھی ڈھونڈ نکالی۔ یقیناً اس دریافت کے لئے انہیں “دیدہ بینا” سے مدد لینا پڑی ہو گی۔

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی ساڑھی اور غرارے میں ان گنت تصاویر موجود ہیں۔ تاہم چونکہ مادر ملت مطالعہ پاکستان کا نصاب نافذ ہونے سے پہلے انتقال کر گئی تھیں اور انہیں سوشل میڈیا نسل کے پسندیدہ حکمران ایوب خان نے وطن دشمن بھی قرار دیا تھا اس لئے وزیر اعظم پاکستان کے لفظوں میں چھوٹا دماغ رکھنے والی 45 فیصد نوجوان نسل دوسروں پر اپنی ثقافتی ترجیحات مسلط کرنے کو جائز سمجھتی ہے۔ اس کے باوجود یہ نشاندہی کرنا نہایت ضروری ہے کہ کسی دوسرے انسان کے لباس پر تنقید کرنا اس کی آزادی میں مجرمانہ مداخلت ہے اور بدتہذیبی کی انتہا ہے۔

محترمہ مہوش حیات کی ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے عریج خان نامی لڑکی (نام سے یہی باور ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاتون ہیں) نے لکھا ہے کہ “دل کر رہا ہے کہ پورا جسم کاٹ کر رکھ دوں”۔ یہ صرف غیر شائستہ کمنٹ نہیں بلکہ باقاعدہ مجرمانہ حملے کی دھمکی کے ذیل میں آتا ہے۔ کچھ قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ تشدد پر اکسانے والے ایسے کمنٹ پر بغیر کوئی تاخیر کئے سائبر کرام کے شعبے کو رپورٹ کرنا چاہیئے۔ ایسے سادیت پسند افراد کے لئے مناسب ہو گا کہ وہ دوسروں پر مشق ستم کرنے کی بجائے اپنے جسم کے متعلقہ حصہ کاٹ پھینکیں کیونکہ نفسیات کی رو سے وہ اپنے وجود پر شرمساری کی سزا دوسروں کو دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر تبصروں اور مکالمے کی سطح خطرناک حد تک غیرذمہ دار اور انتہا پسند ہو رہی ہے۔ متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس رجحان کا نوٹس لینا چاہیے اس سے پہلے کہ اس طرح کی اشتعال انگیزی سے شہ پا کر بہاوپور کے استاد کے قتل، مشال خان کی بہیمانہ موت اور راہ چلتی عورتوں پر تیزاب پھینکنے جیسے واقعات رونما ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •