بدمعاشیہ کی چیخیں نکلنے دیں۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے: ڈاکٹر شاہد مسعود


اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ میں اپنی خبر پر قائم ہوں، میرے پاس اور تفصیلات آتی جا رہی ہیں، ثبوت میڈیا کو نہیں، عدالت میں دوں گا۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے ٹیلی ویژن پروگرام میں کہا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد اچانک جے آئی ٹی بن گئی جس میں پتہ نہیں کون ہے؟ اس نے فٹافٹ رپورٹ بھی بنا دی، پچیس، تیس لوگوں نے اسے جھوٹا بھی قرار دیا، میں نے کسی کا نام نہیں لیا، میں نے کہا ایک حکومتی شخصیت ،ایک وزیر، ہو سکتا ہے وہ ن لیگ یا کسی اور کا ہو، میں نے خاموشی سے نام دے دیا، میں نے کہا صرف یہ دیکھیں اس کے پیچھے کوئی گروہ تو نہیں، عمران باہر کے مافیا کا ننھا سا کارندہ ہے، جسے چھپانے کے لیے سارے ادارے متحرک ہو گئے ہیں، میرے پاس اس کے اکاؤنٹ نمبر ہیں، وہ کہیں ختم نہ کر دیے گئے ہوں؟۔

اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ اس اسٹیٹ بینک کے ذریعے اربوں ڈالر باہر گیا، قصور میں جو بچیاں ماری گئی تھیں، کسی بھی یورپی ملک میں اونین روٹر کھولیں اور دیکھیں پاکستان سے کتنے بچوں کی وائلنٹ ویڈیوز آتی ہیں، سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس نہیں لیا، میری درخواست پر مجھے بلایا، سو بچوں کے قاتل جاوید اقبال نے آخر میں خودکشی کر لی تھی اور مقدمہ ختم ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ چیف جسٹس نے مجھے کہا یہ مقدمہ اتنا سنگین ہے میں نے کراچی نہ جانا ہوتا تو کل ہی سماعت رکھتا۔ بدمعاشیہ کی چیخیں نکلنے دیں۔ جے آئی ٹی بنے گی، تو میری خبر کی تصدیق کرنے والے سامنے آئیں گے، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے، حکمران پریشان کیوں ہو گئے، مجھے کون سی جے آئی ٹی نے بلایا؟

اینکر پرسن نے کہا کہ میری خبر کے زیادہ ذرائع بیرون ملک ہیں، مقتدر ایوانوں میں بیٹھے متعدد لوگوں کو شرم کرنی چاہیے کہ وہ ملک کو اس مقام پر لے آئے۔ سپریم کورٹ نے بلایا تو جاؤں گا، 37 سے زائد بینک اکاؤنٹس میں اچھی خاصی رقم دیکھی، اگر سپریم کورٹ نے میری فراہم کردہ حقیقی فہرست انھیں نہیں دی تووہ اکاؤنٹس موجود ہونے چاہئیں۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید کہا کہ فائل سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے، اسٹیٹ بینک اگر اکاؤنٹس جعلی قرار دیتا ہے تو میری عزت ختم نہیں ہوگی، میری کوئی فکرنہ کرے، میں ٹھیک ہوں، سب کو کہہ دیں، میں نے خبر دی، تحقیقات کرنا اداروں کاکام ہے۔

Facebook Comments HS