خلیل جبران: ایک انقلابی آواز


زندگی فقط سورج کے شرق و غرب سفر کرنے کی داستان نہیں ہے۔بلکہ زندگی اقوام میں بیداری اور اس ”شعور” کے بیدار کرنے کی تحریک کا بھی نام ہے جو شعور بعض قوموں میں یا تو کبھی بیدار ہی نہیں ہوا ہوتا یا بعض قوموں میں شعورِ زندگی کو ماضی کے مزاروں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں انہی اقوام میں سے کچھ مرد قلندر اٹھتے ہیں اور اپنی قوم کو پھر سے باشعور زندگی کو پلٹنے کی راہ دکھلاتے ہیں۔پھر کیا ہوتا ہے کہ ایسے مردان حق کی آواز خواہ تقریر میں ہو یا تحریر میں ایک آفاقی پیغام کی صورت صدیوں کا سفر طے کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کو نویدِ سحر دیتی ہے۔

جبران خلیل جبران ایک ایسے ہی قلندرانہ فکرکے حامل شاعر, مصنف اور فلسفی کا نام ہے جس نے آج سے تقریبا پونے دوصدی قبل لبنان کی سرزمیں پر آنکھ کھولی۔لبنان کا قدیم نام البانیہ بھی ہے۔یہ بحیرہ روم کے مشرقی کنارے پر ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ جس کا دارالحکومت بیروت ہے اور لبنان زیادہ تر پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے۔شام اور اسرائیل کے پڑوس میں یہ وادی قدیم تہذیبوں کا مخزن ہے۔اورمدت سے اسکی آغوش میں مسلم اور مسیحی قومیں ایک ساتھ رہتے رہتے اپنے خیالات, اور روم و رواج میں میں ایک دوسرے کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ حتی کہ تصوف سے متعلق خلیل جبران کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے بھی بعض اوقات یہ فیصلہ نہیں ہو پاتا کہ مصنف مسیحی تھا یا مسلمان تھا۔

اس عظیم مصنف نے تصوف, عشق , سیاست ہر موضوع پر ایسا عمیق تجزیہ پیش کیاجو صدیوں تلک اقوام کیلئے نقارہِ انقلاب بنا رہے گا ۔ایک ایسا انقلاب جو مذہب سے بغاوت کو نہیں اکساتا تاہم مذہب کی آڑ میں انسانی اذہان کو یرغمال بنا دینے والے جھوٹے پیشواؤں کو ضرور للکارتا ہے ۔اور ان کی بے عملی پر ان کی کھلے بندوں سرزنش کرتا ہے ۔

خلیل جبران مسیحی اکثریتی شہر بشاری میں ایک عیسائی پادری خلیل کے گھر پیدا ہوئے ۔ماں کا نام کملہ تھا۔ غربت کی وجہ سے جبران باقاعدہ طور پر ابتدائی تعلیم اسکول یا مدرسے حاصل نہیں کر پایا تھا لیکن پادریوں کے پاس اس نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔

جبران کے بچپن میں ان کے گھر کے حالات سے متعلق جو سوانح نگاری ہوئی ہے اسکے مطابق ان کے والد نے بے پناہ معاشی مسائل اور پریشانیاں دیکھیں , بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے مقروض بھی ہوئے۔ تاہم سلطنت عثمانیہ کی ریاست کی جانب سے جب ایک دستے کے سپہ سالار بنائے گئے۔تو حالات کچھ سنبھلے لیکن 1891 میں انہیں اس نوکری سے بھی معطل کر دیا گیا اور جب احتساب ہوا تو نہ صرف قید کی سزا ملی۔بلکہ خاندانی جائداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ جبران کی والدہ کملہ اور جبران نے امریکا ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کملہ کے بھائی رہائش پزیر تھے۔جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگرترکِ وطن کا فیصلہ ترک نہ ہوااور 25 جون, 1895ء کو جبران کے والد نے خاندان سمیت نیویارک ہجرت کی۔امریکا میں جبران کو اسکول میں داخل کروایا گیا اور اسکول کے رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور یہی نام ان کی ادبی پہچان بن گیا۔

جبران کی سوانح پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس کی والدہ ایک محنتی, خوددار اور وطن پرست خاتون تھیں۔امریکہ میں بھی جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کر کے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا۔جبران کی مغربی ثقافت سے متاثر ہونے کی وجہ سے پندرہ سال کی عمر میں جبران کو واپس لبنان بھجوا دیا گیا۔ کیونکہ والدہ اور بڑے بھائی کی خواہش تھی کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت(جس سے جبران متاثر تھے) کو ترک کر دے۔

لبنان سے آ کر انھوں نے عیسائی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور پھر بیروت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے منتقل ہوئے۔ بیروت میں اپنے ایک ہم جماعت کے ہمراہ ایک ادبی رسالے کا اجراء کیا۔ کالج میں ان کو بطور شاعر شہرت ملی۔یہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے۔ البتہ 1902ء میں بوسٹن واپس چلے گئے۔

جبران کی زندگی میں غموں کا آغاز:جبران کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پاگئی۔ اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بال کی۔ ماریانہ ایک درزی کے پاس نوکری کرتی رہیں۔

جبران نے 30 ستمبر 1895ء کواسکول کی تعلیم شروع کی۔ اسکول کی انتظامیہ نے انھیں ہجرت کرکے آنے والے طالب علموں کی مخصوص جماعت میں داخل کیا تاکہ وہ انگریزی زبان سیکھ سکیں۔ اسکول کے ساتھ ساتھ جبران نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک فنون لطیفہ کے اسکول میں بھی داخلہ لے لیا۔ فنون لطیفہ کے اسکول نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور 1898ء میں پہلی بار جبران کی بنائی ہوئے مصوری کے نمونے ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیے گئے۔نیز1897ء میں جب جبران کی عمر پندرہ سال تھی تو ان کی ایک تصویر کو عمر خیام کی رباعیات کے مجموعے کے سرورق کے لئے منتخب کرلیاگیا ۔جبران خلیل نے اپنے فن پاروں کی پہلی نمائش 1904 میں بوسٹس کے ڈے سٹوڈیو میں کی۔

جبران کی ملکی سیاست اور دیگر امور میں دلچسپی:جبران نے شام میں عربی کو بطور قومی زبان نافذ کرنے اور بنیادی تعلیم میں اسے لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ 1912ء میں جبران نے جب ابو باہا سے ملاقات کی تو ان کے ساتھ امریکا بھر کا سفر برائے امن بھی کیا۔ گو جبران نے امن کا پرچار کیا مگر اس کے ساتھ ہی انھوں نے شامی علاقوں کی سلطنت عثمانیہ سے علیحدگی کا بھی مطالبہ کیا۔جبران نے اس بارے ایک معرکۃ الآرا نظم (قابل رحم ہے وہ قوم) بھی لکھی جو Pity the Nation کے عنوان سے گلستان پیغامبر میں شائع ہوئی۔اس کا اردو ترجمہ بھی ہوا۔ اس نظم نے بھی عالمی سطح پربھی مقبولیت کی نئی داستان رقم کی۔

جنگ عظیم اول میں جب عثمانیہ سلطنت کا شام سے خاتمہ ہوا۔ تو جبران نے ایک تصویری فن پارہ (آزاد شام)کے نام سے تخلیق کیا۔ جو وکٹری میگزین کا سرورق بنا۔

اس کے علاوہ اپنے ایک کھیل(ڈراما) میں جبران نے قومی آزادی اور ترقی بارے امید کا اظہار بھی کیا۔

اس کھیل کے بارے خلیل ہوائی کہتے ہیں کہ یہ جبران کے شام بارے قومیت پرستی کے خیالات کو اجاگر کرتا ہے۔ اور اس میں ہمیں عرب اور لبنانی قومیتوں کا فرق واضع محسوس ہوتا ہے۔ اس کھیل میں یہ بھی عیاں ہے کہ کس طرح عمر کے آخری حصے تک جبران کے ذہن میں قومیت پرستی اور عالمی اتحاد کے خیالات ایک ساتھ پروان چڑھتے رہے ہیں۔

جبران خلیل کو جدید عربی زبان کا قادرالکلام شاعر مانا جاتا ہے۔اس کی شاعری فکر و حکمت کے نئے دریچے کھولتی ہے۔ اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔اس کے ایک مجموعہ ” النبی ” کا دنیا کی تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔

جبران نے اپنی معرکۃ الآرا نظم Pity the Nation (قابل رحم ہے وہ قوم) میں اقوام کی بیداری کا جو عالمگیر پیغام دیاہے ۔اس میں بھی اس نے مذہب و سیاست کے میدان میں عقل سے ماورا پیروکاروں کو اھساسِ خودی بیدار کرنے کی تلقین کی ہے ۔وہ کہتے ہیں ۔

قابل رحم ہے وہ قوم, جس کے پاس عقیدے تو بہت ہوں, مگر دل یقین سے خالی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم, جو مانگے کی روٹی کھاتی ہو اور دوسروں کی کشید کردہ شراب سے لطف اندوز ہوتی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم, جو باتیں بنانے والوں کو اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم, جو بظاہر عالم خواب میں بھی ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہو۔مگر عالم بیداری میں مفاد پرستی کو اپنا شعار بنالیتی ہو۔

قابل رحم ہے وہ قوم, جو جنازوں کے جلوس کے سوا کہیں اور اپنی آواز بلند نہیں کرتی۔اور ماضی کی یادوں کے سوا اس کے پاس فخر کرنے کا کوئی سامان موجود نہ ہو۔وہ اس وقت تک احتجاج نہیں کرتی, جب تک اس کی اپنی گردن عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی۔

قابل رحم ہے وہ قوم, جس کے نام نہاد سیاستدان لومڑیوں کی طرح مکار اور دھوکے باز ہوں۔اور جس کے دانشور شعبدہ باز اور مداری ہوں۔

قابل رحم ہے وہ قوم, جو نئے حکمرانوں کو ڈھول بجاکر خوش آمدید کہتی ہو۔اور اقتدار سے محروم ہونے پر ان پر آوازیں کستی ہو۔جس کے اہل علم و دانش وقت کی گردش میں گونگے اور بہرے بن کر رہ گئے ہوں۔

جبران خلیل کے اقوال:

اگر تم بھوکے کے سامنے گاؤ گے تو وہ اپنے پیٹ سے تمہارا گانا سنے گا۔

دین میں تعصب سے کام لینے والا ’’ ایک مقرر ہے ‘‘بے انتہائی بہرا مقرر!

میں نے بکواسیوں سے خاموشی, تشدد پسندوں سے سہولت پسندی اور درشت مزاجوں سے نرمی سیکھی لیکن لطف کا مقام ہے کہ ان میں ان معلموں میں سے کسی کا احسان ماننے کے لئے تیار نہیں۔

انسان نے ہمیشہ سے مشہور مقولہ ’’بہترین چیز درمیانی چیز ہے‘‘پر عمل کیا ۔اسی لئے تم دیکھتے ہو کہ وہ مجرموں کو بھی قتل کرتاہے اور پیغمبروں کو بھی

گہرا آدمی گہرائیوں میں اترتا چلا جاتا ہے اور بلند خیال آدمی بلندیوں پر چڑھتا چلا جاتا ہے۔

خلیل جبران کی ہمہِ جہت شخصیت میں شاعری ,نثر نگاری اور مصوری ان سب کی مدد سے اپنے باطنی کیفیات کا اظہارملتا ہے تاہم اپنی تحریروں میں انہوں نے مذہبی طبقہ کی غفلتوں کو بہت مدلل اور موقر انداز سے بیان کیا ہے یہ انداز’’ فکرِ انسانی ‘‘کے اس اوج پر تھا جہاں انسان کسی خاص مذہب کے پیروکاروں سے مخاطب ہوتا نہیں دکھائی دیتا بلکہ اس کے سامعین تمام عالمِ انسانی کے وہ مظلوم لوگ ہوتے ہیں جنہیں مذہب کی حقیقی روح سے قصداََ دور رکھتے ہوئے ایک خاص طبقہ (مذہبی پیشواؤں کے لبادے میں)اپنے مخصوص نظریات عوام کے اذھان میں انڈیلتا دکھائی دیتا ہے ۔ اور اکثر ان کے یہ خود ساختہ نظریات حاکم کی خوشنودی اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر تشکیل دیئے جاتے ہیں ۔ انسان اور انسانیت کا استحصال اسی منزل سے شروع ہوتا ہے اور قومیں نسل در نسل غلام ابنِ غلام بنتی چلی جاتی ہیں ۔اور یہ رویہ ہر عہد میں برتا جاتا رہا ہے تاہم ہر عہد میں خلیل جبران جیسے صاحبانِ فکر اپنے قلم سے فراعینِ وقت کے رویوں کو بے نقاب کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔

خلیل جبران کی آخری نظم جو انہوں نے مرنے سے کچھ منٹ قبل کہی تھی۔

ہم دھندلکوں میں چلے جائیں گے

شاید ایک دوسری دنیا کی صبح میں جاگنے کے لئے

تاہم محبت موجود رہے گی

اور اس کی انگلیوں کے نشان مٹائے نہیں جا سکیں گے

ہمارے لئے بہتر یہی ہے

کہ

ہم الوہیت میں راحت تلاش کریں

انسانوں اور کمزوروں سے محبت کریں

اور

مستقبل پر راج کریں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں