امریکی سپریم کورٹ قومی پرچم کی توہین کے حق کی حامی ہے


امریکہ بھی عجیب ملک ہے۔ ملک کے اہم ترین نشان یعنی قومی پرچم کی توہین اور اسے جلانے پر اکساتا ہے۔ بلکہ قومی پرچم کیا، اس کا کہنا تو ہے کہ امریکہ کو بھی جو مرضی برا بھلا کہو، وہ سزا نہیں ہونے دے گا۔ حالانکہ امریکی کانگریس اور 50 میں سے 48 ریاستیں قومی پرچم کی تکریم کروانا چاہتی ہیں مگر سپریم کورٹ ان کی راہ میں حائل ہے۔ وہ کہتی ہے کہ امریکہ یا قومی پرچم وغیرہ کی توہین غداری کیا، قابل سزا جرم تک نہیں ہے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ 1984 میں انقلابی کمیونسٹ یوتھ بریگیڈ نامی تنظیم کا تقریباً 28 سالہ رکن گریگری جانسن نامی تھا۔ حالانکہ اس کی اچھی بھلی عمر ہو چکی تھی مگر پھر بھی اسے شوق تھا کہ ملک میں انقلاب آئے اور وہ نیا امریکہ بنا دے۔ ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں ریپبلکن پارٹی کا کنوینشن ہو رہا تھا۔ اس کے خلاف وہ مظاہرے کرنے چلا گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملر کر یوتھ کے خاص سٹائل میں انقلاب لانے کا عمل شروع کر دیا۔ نعرے بازی کی، توڑ پھوڑ کی، کوڑے دانوں سے کوڑا نکال کر سڑکوں پر پھیلایا، لیکن اسے حسب خواہش انقلاب نہیں ملا۔ تنگ آ کر اس نے ایک عمارت کے باہر کھمبے پر لگا قومی پرچم اتارا، سٹی ہال کے باہر اسے مٹی کے تیل میں بھگو کر نذر آتش کر دیا۔ قومی پرچم جلتا رہا اور یہ مظاہرین نعرے بازی کرتے رہے ”سرخ سفید اور نیلے امریکہ، ہم تم پر تھوکتے ہیں، تم لوٹ مار کے داعی ہو، تم تباہ ہو جاؤ گے“۔

محب وطن عناصر کو قومی پرچم اور امریکہ کی توہین پر شدید غصہ چڑھا۔ جانسن پر ٹیکساس کے ریاستی قانون کے تحت مقدمہ قائم کر دیا گیا جو مقدس اور متبرک علامات کو غارت کرنے کو جرم گردانتا ہے۔ جانسن کو ایک برس قید اور دو ہزار ڈالر جرمانے کی سزا سنا دی گئی۔ اس نے ٹیکساس کی عدالت عالیہ میں سزا کے خلاف اپیل کر دی لیکن ہار گیا۔ اس نے ٹیکساس کی عدالت عظمی میں اپیل کر دی جس نے سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی اور فیصلہ دیا کہ اختلاف کا حق امریکی آئین کی پہلی ترمیم کا مرکزی نقطہ ہے، ایک حکومت محض حکم نامہ جاری کر کے تمام شہریوں میں اتحاد پیدا نہیں کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایک حکومت اتحاد کی کوئی علامت بنا کر اسے مقرر کردہ مقولوں کے ذریعے مقدس نہیں بنا سکتی۔

ریاست ٹیکساس کی حکومت کو بہت غصہ چڑھا۔ اس نے امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔ سپریم کورٹ میں اس وقت رجحان ساز قدامت پرست جج انتونین سکیلیا بھی موجود تھے۔ سپریم کورٹ کے نو ججوں نے مقدمے پر غور کرنا شروع کیا۔ پہلا سوال تو یہ تھا کہ کیا فری سپیچ میں صرف الفاظ ہی شامل ہیں یا اعمال بھی، یعنی کیا صرف ملک دشمن نعروں کو ہی فری سپیچ کے تحت معافی مل سکتی ہے یا قومی پرچم جلانا بھی پہلی ترمیم کے تحت جائز ہے۔

سپریم کورٹ نے 1931 کا سپریم کورٹ کا ایک گزشتہ فیصلہ دیکھا جس میں کہا گیا تھا کہ سرخ پرچم دکھانا بھی فری سپیچ ہے، اور 1969 کا کیس دیکھا جس میں کہا گیا تھا کہ بازور پر سیاہ پٹی باندھنا بھی ایک اظہار ہے۔ اور فیصلہ کیا کہ قومی پرچم جلانا بھی آزادی اظہار کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاست ٹیکساس کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ قومی پرچم جلانے سے اشتعال پھیلتا ہے اور کہا کہ فوری اشتعال پھیلنے کا ثبوت نہیں ملا۔ سپریم کورٹ نے پانچ چار کی اکثریت سے یہ فیصلہ دیا کہ وہ ریاستی اور وفاقی قوانین جو قومی پرچم کا تحفظ کرتے ہیں، آئین میں دی گئی آزادی اظہار کی نفی کرتے ہیں۔ قومی پرچم اس لئے مقدس ہے کہ یہ آزاد لوگوں کی سرزمین کی علامت ہے، اور ان کی آزادی میں مظاہروں کے دوران قومی پرچم کا استعمال یا اس کی توہین بھی شامل ہیں۔ اس اکثریتی فیصلے سے چیف جسٹس ولیم رینکوئسٹ اور سینڈرا ڈے اوکونر جیسے لیجنڈ ججوں نے اختلاف کیا جو قومی پرچم کے ایک خاص سٹیٹس کے حامی تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے امریکہ کی پچاس میں سے اڑتالیس ریاستوں میں موجود قومی پرچم کی تکریم کے قوانین کو منسوخ کر دیا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ردعمل میں امریکی کانگریس نے ”قومی پرچم کے تحفظ کا قانون“ منظور کر دیا جس میں قومی پرچم کے خاص پیغام والے حصے کو گول کر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ناکارہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اسی دوران سیٹل شہر میں سابق فوجیوں نے ایک مظاہرہ کیا اور قومی پرچم جلایا جس پر ان میں سے چند کو شناخت کر کے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری کے خلاف گریگری جانسن نے اپنے تین ساتھیوں سمیت (جن میں سے ایک جنگ آزمودہ فوجی بھی تھا) واشنگٹن میں کانگریس کی عمارت کے باہر مظاہرہ کیا اور امریکی قومی پرچم دوبارہ جلایا۔ دونوں مقدمات میں سیٹل اور واشنگٹن کے وفاقی ججوں نے سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کی روشنی میں مقدمات خارج کر دیے۔ امریکی وفاق نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔

دوبارہ اسی پانچ چار کی اکثریت سے مقدمہ خارج کر دیا گیا اور کہا گیا کہ کسی سمبل کی ظاہری شکل کی تباہی یا خرابی اس سمبل کی اصل کو خراب یا تباہ نہیں کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کے دونوں فیصلوں میں کہا گیا کہ قومی پرچم جلانا بھی علامتی اظہار رائے ہے۔ سیٹل کے چار ملزموں پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی ایک اضافی دفعہ بھی لگائی گئی تھی کیونکہ انہوں نے جلایا جانے والا قومی پرچم ڈاکخانے کی عمارت سے اتارا تھا۔ اس چوری پر ان کو جرمانے کی سزا ہوئی۔

سنہ 2002 میں کانگریس کے 104 ویں سیشن میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہوئی تو اس نے آئینی ترمیم کے ذریعے قومی پرچم کے تحفظ کی کوشش کی۔ یہ کوشش سنہ 2006 میں کانگریس کے 109ویں سیشن تک کی جاتی رہی مگر ہر مرتبہ کانگریس سے یہ ترمیم منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں مسترد ہوتی رہی اور اس سیشن کے بعد کبھی اس کو پیش نہیں کیا گیا۔

2006 میں صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد مگر عہدہ سنبھالنے سے پہلے امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ وہ قومی پرچم جلانے پر سخت سزاؤں بشمول شہریت کی تنسیخ کی حمایت کریں گے۔

سینیٹ کے اکثریتی لیڈر مچ میکانن جو ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا کہ قومی پرچم کو نقصان پہنچانا توہین آمیز ہے لیکن اس کا جواب آزادی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہے۔ ”کوئی کلام اتنا مکروہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بنیاد پر پہلی ترمیم کو چھیڑا جائے۔ ہمارا آئین اور ہمارا ملک اس سے بہت توانا ہے۔ آخر ایسے لوگ ملک کو کچھ نقصان نہیں پہنچاتے لیکن پہلی ترمیم سے چھیڑ چھاڑ یہ نقصان پہنچا سکتی ہے“۔

سپریم کورٹ کے دونوں مقدمات میں قومی پرچم جلانے کے حق میں فیصلہ دینے والے کلیدی قدامت پرست جج جسٹس سکیلیا نے بہت عرصے بعد 2012 میں سی این این کو ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ قومی پرچم جلانے کی حمایت نہیں کرتے لیکن اسے بنیادی طور پر آئین اور اس کے علاوہ ملک کے بانیوں کی ایک ایسی حکومت قائم کرنے کی کوشش جو جبر پر مبنی نہ ہو، تحفظ دیتے ہیں۔

”اگر میں ایک بادشاہ ہوتا تو میں لوگوں کو امریکی پرچم جلانے کی اجازت نہ دیتا۔ لیکن ہمارے ہاں ایک پہلی آئینی ترمیم موجود ہے، جو یہ کہتی ہے کہ آزادی اظہار کے حق کو گھٹایا نہیں جائے گا، اور اس کا موضوع خاص طور پر وہ آزادی اظہار ہے جو حکومت مخالف ہو۔ یہ وہ آزادی ہے جو غاصب حکمران خاص طور پر کچلنا چاہیں گے“۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar