ہند و پاک کے مسلمان، بھٹکے ہوئے مسافر


معاشرے کے مختلف طبقوں میں پھیلی بے چینی کو سب سے پہلے ”فن کار“ محسوس کرتا ہے۔ فن کار یہاں وسیع تر معنوں میں ہے۔ اسے محدود کریں تو ”ادیب“ اولین فن کاروں میں سے ایک ہوتا ہے، جو یہ راز پالیتا ہے، کہ تبدیلی ناگزیر ہے۔ تبدیلی کی کیا صورت ہو، اس کا نقشہ ادیب بناتے ہیں، تو مصلح عمارت کھڑی کرتا ہے۔ مصلح کا ہراول دستہ ادیب و شاعر ہوتے ہیں۔

برصغیر کی تاریخ کا سرسری مطالعہ بتاتا ہے، کہ یہاں انقلابی تحریکوں کا نشان ملتا بھی ہو، تو انھیں پذیرائی ملتی نہیں دکھائی دی۔ فلموں ڈراموں اور لوک داستانوں کی حد تک ’ڈاکو‘ کا لاحقہ لگے، خطے کے عوام کے ہیرو ہیں۔ گویا یہاں رابن ہڈ ہی انقلابی ہے۔

برصغیر میں سب سے سے بھٹکا ہوا طبقہ وہ ہے، جو اپنے آپ کو شدت سے مسلمان کہلوانا پسند کرتا ہے۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کا مطلب ہے، محمد بن قاسم، محمود غزنوی، نادر شاہ ابدالی، ظہیر الدین بابر ہذا القیاس کو برصغیر کے مسلمانوں‌ کا قومی ہیرو سمجھا جائے۔ راجا پورس، پرتھوی راج، اشوکا اعظم، چندرگپت موریہ سے ناتا جوڑنا، گویا مسلمانی سے ہاتھ دھونا متصور ہوتا ہے۔ حیرت نہیں کہ پنجابی مسلمان راجا رنجیت سنگھ سے اس لیے برات کا اعلان کرتا ہے، کہ رنجیت سنگھ، سکھ گھرانے سے تھا۔

کیا ہمارے یہاں وہی لکھا گیا ہے، جو ہماری سرکار نے چاہا ہے؟ ہمارے یہاں ایسا ادب جو سرکار کو مطلوب رہا، وہی پروان چڑھا ہے؟ نصاب کی کتب اٹھا کے دیکھ لیں، محمد بن قاسم، محمود غزنوی ہندی مسلمانوں‌ کا ہیرو نہ دکھائی دے، تو کہیے گا۔ اب جس بچے نے ہوش سنبھالتے حملہ آوروں کو اپنا ہیرو مان لیا ہو، انھیں یہ سمجھانا کتنا مشکل ہے کہ یہ اس دھرتی کے ہیرو نہیں ہیں۔ ہیرو تو وہ ہیں جنھوں نے ان حملہ آوروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ کیا یہ سامنے کی مثال نہیں کہ مسلمان بچوں کا نام سکندر تو ہوسکتا ہے، پورس نہیں؛ اس لیے کہ پورس ہندو تھا، اور سکندر؟ یہاں بائیس کروڑ کی آبادی میں سے لگ بھگ پندرہ بیس کروڑ کی آبادی سکندر کو مسلمان ہی سمجھتی ہے، کیوں کہ اس کے مقابلے میں ہندو تھا، اور ہندو کے لیے ہماری نصابی کتب کیا کہتی ہیں؟

محمود غزنوی کو ہیرو سمجھنے والے کو یہ مثال دی جائے کہ آج افغانستان سے اشرف غنی فوج کشی کرے تو ہم اسے کیوں کر اپنا ہیرو مانیں گے۔ اس لیے کہ وہ مسلمان ہے؟ ذات پات کی پوجا کرنے والی برصغیر کی اقوام میں ان خاندانوں کی کمی نہیں جو اپنی ذات کو مقامی ذاتوں سے افضل ترین بتاتے ہیں، وہ کیسے مان لیں کہ شودر انقلابی ہوسکتا ہے۔

اب انھی نکات کو ذہن میں رکھیے؛ وہ بچہ جس نے ”بت شکن“ کی کہانیاں پڑھی ہوں، وہ کل کو ادیب بن جائے تو کیا لکھے گا؟ اس کی بنیاد میں ٹیڑھ ہے، تو عمارت کیسی ہوگی؟ میں اپنے آپ کو ادیب تک محدود کررہا ہوں، کیوں کہ میری نگہ میں ادیب ہی ہیں جو مصلحین کا ہراول دستہ ہیں۔ ہمارے یہاں ادب میں کوئی ایسا کام نہیں ہورہا کہ انقلاب کی پیش گوئی کی جاسکے۔ جب ادب ٹریسنگ پیپر کی مدد سے ڈرائنگ بنانے کا نام ٹھیرا تو، لٹیروں کو انقلابی سمجھ لیا جانا کون سا مشکل ہے۔ کیا آپ کو سمجھ آیا ہم ایوب خان، یحیی خان، ضیاالحق سے پرویز مشرف تک کو اپنا ہیرو کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟ ہمیں حملہ آور ہی بھاتے ہیں، کیوں کہ ہم نے حملہ آوروں ہی کو اپنا ہیرو مان لیا ہے۔

ہمارا ادب اخباری کالم سے بڑھ کے نہیں رہا، اور فن کار وہ ہے جو ٹیلے ویژن اسکرین پہ بیٹھا سازشی تھیوریاں پیش کرتا ہے۔ ایسے ”فن کاروں“ کو دیکھ کر کیسے ”مصلحین“ کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے، یہ بتانا مشکل نہیں۔ ایسے میں کوئی ”انقلاب“ ہوتا دکھائی دیتا ہے تو وہی جو پہلے بھی کئی بار رونما ہوچکا۔ ہندی صدیوں سے غلام رہے ہیں، انھیں آقا چاہیے تو ایسا جس کے سامنے زبان کھولتے ڈر آتا ہو۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran