کیا اب پشتون بھی ناموس کھو رہے ہیں؟

پختون ولی کا ایک اہم اور قابل فخر جزو ناموس ہے۔ ناموس، جس کا تقاضا ہے کہ ایک پشتون پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی اپنی یا بیگانی عورت کو کسی بھی قسم کے خطرے سے تحفظ دے گا، خواہ یہ خطرہ اس پر کسے جانے والے ایک آوازے کی صورت میں ہو یا ایک گولی کی صورت میں۔ ایک سچا پشتون ایک عورت کی عزت کو ہر شے پر مقدم رکھے گا۔ ورنہ اس کی پختو پر حرف آئے گا۔ لیکن تواتر سے ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ محسوس ہونے لگا ہے کہ پختون ولی کے محافظ روایتی ملک اور مشر نہیں رہے تو اب پختون ولی بھی نہیں رہی۔ اب ان کی جگہ وہ ملا رہ گیا ہے جو عورت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پھر کہاں کی ناموس اور کہاں کا تحفظ۔
اس سلسلے میں پہلا نمایاں واقعہ تو ملالہ کا ہے۔ ایک ننھی بچی کو گولی مار دی گئی۔ اس کے حق میں دلیلیں دینے والے آپ کو آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جو بجائے گولی مارنے والے کے خلاف پختو دکھانے کے، ملالہ کے خلاف بات کرنے کو درست سمجھتے ہیں۔ نہ وہ ملالہ کی عزت کا تحفظ کرتے ہیں اور نہ اس کی جان کا۔ کیا واقعی ناموس باقی ہے؟
دوسرا نمایاں واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان کی شریفہ بی بی کا ہے جسے گلیوں میں برہنہ کر کے گھمایا جاتا رہا۔ کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ ایسے واقعات ملک کے دوسرے صوبوں میں تو سننے میں آتے رہتے تھے مگر گمان بھی نہیں تھا کہ پختونخوا بھی ناموس کھوتا دکھائی دے گا۔
مردان میں چار برس کی ننھی عاصمہ کی لاش ملی ہے۔ ضلعی ناظم کا دعوی ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں ریپ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آئی جی کہتے ہیں کہ رپورٹ میں جنسی تشدد کے نشانات ہیں۔ ابھی یہ خبر چل ہی رہی تھی کہ اب مردان ہی سے ایک اور خبر آ گئی ہے۔ تیسری جماعت کی آٹھ سالہ بچی کو ریپ کیا گیا ہے۔ بچی ہسپتال میں ہے۔ کیا ناموس واقعی رخصت ہو رہی ہے؟
کل ایک خبر کوہاٹ سے آئی ہے۔ میڈیکل کالج کے تیسرے سال کی طالبہ عاصمہ کو مجاہد نامی لڑکے نے اس وقت فائرنگ کر کے قتل کر دیا جب وہ اپنی بھابھی کے ساتھ رکشے سے اتر کر اپنے گھر جا رہی تھی۔ مجاہد اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ تحریک انصاف کے ضلعی صدر آفتاب خان کا بھتیجا بتایا جا رہا ہے۔ کیا عورتوں کی ناموس کی حفاظت کی جائے گی؟
سب سے پژمردہ کر دینے والی خبر کوئٹہ سے آئی ہے۔ کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل میں بارہ تیرہ برس کی طیبہ اپنے گھر میں مردہ پائی گئی۔ اسے ریپ کیا گیا تھا۔ اس کا بھائی پکڑا گیا ہے اور اس نے اقبال جرم کر لیا ہے۔ ناموس واقعی رخصت ہوئی ہے۔
ناموس کے معاملے پر ملکان اور مشران اکٹھے ہوں۔ جرگہ بلائیں۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر بات کریں۔ پشتونوں کو ناموس واپس دلائیں۔ پختون ولی پشتونوں کا فخر ہے۔ دوسرے صوبوں سے یہ ہی پشتون علاقوں کو ممتاز کرتی ہے۔ پختو جاتی رہی تو پیچھے کیا باقی بچے گا؟

