پشاور میں گزشتہ سال باہمی رضا مندی سے زنا کے 30 کیسز رجسٹر ڈ ہوئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال پشاور شہر میں مجموعی طور پر دفعہ 371۔ AB ( باہمی رضامندی پر زنا) کے 30 کیسز مختلف پولیس سٹیشن میں درج ہو ئے ہیں جن میں 5 کیسز زیر تفتیش ہیں با قی کیسز ڈسڑکٹ پبلک پرا سیکیو ٹر (ڈی پی پی) کو ارسال کر د ئیے گئے ہیں جو مقا می عدالت میں زیر سما عت ہیں جبکہ 496 اور376 (غیر شادی شدہ لڑکی اور عورت کو زنا کے لئے آمادہ کر نا اور ان کے سا تھ زبر دستی زنا کرنا) کے 18 کیسز رجسٹر ڈ ہو ئے جن میں 13 کیسز مقا می عدالت میں زیر سما عت ہیں اور پانچ کیس انو سٹی گیشن پولیس کے پاس زیر تفتیش ہیں۔ 376 کے دفعا ت پا کستان پینل کو ڈ (پی پی سی ) کے تحت دفعا ت درج کیے جاتے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب ملزمو ں کا بیان ہے کہ اس جرم میں خواتین ان کی بر ابر کی شریک ہوتی ہیں لیکن پولیس اور خوا تین کے تحفظ کے لئے کام کر نے والی غیر سرکاری تنظیمیں خواتین کو ان دفعات سے بری الزمہ قرار دیتے ہیں۔ رپو رٹ کے مطابق صوبا ئی دارلحکومت پشاور میں جنسی ہراساں کر نے اور زنا بالجبر اور دونو ں کے با ہمی رضا مندی سے زنا کرنے کے مختلف کیسز سا منے آئے ہیں۔

محکمہ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق پشاور کے مختلف پولیس سٹیشن میں 371۔ AB کے 9 مہینو ں کے دوران 21 کیسز رجسٹر ڈ ہو ئے ہیں جن میں 16 کیسز کو ڈسڑکٹ پبلک پرا سیکیو ٹر (ڈی پی پی) کے ذریعے مقا می عدالت میں زیر سما عت ہیں۔ ان زیر سما عت کیسز میں 103ملزما ن ملوث ہیں جن کے خلاف ایف آئی آرز ہو تی تھی جبکہ با قی پا نچ کیسز انو سٹی گیشن ونگ پولیس کے پا س زیر تفتیش ہے۔ اسی طر ح 376 اور496 سیکشن کے 18 کیسز رجسٹر ڈ ہو ئے ہیں جن میں 35 ملزمو ں کیخلاف ایف آئی آز درج کی گئی ہے جن میں 27ملزمو ں کو گرفتار کر کے عدا لت میں پیشی کے بعد جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ پا نچ ملزم تاحال عدم گرفتار ہیں جن کی گرفتاری کے لئے چھا پے ما رے جا رہے ہیں اور انو سٹی گیشن ونگ بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

پشاور شہر اور ملحقہ علا قو ں میں جنسی ہراساں کر نے کے کیسز میں تیزی سے شہریو ں میں تشویش کی لہر دوڑ چکی ہے کہ حکومت اور غیر سر کا ری تنظیمو ں کے جانب سے کی گئی اصلاحات اور حقوق نسوا ں بل کے پا س ہو نے کے با وجود بھی واقعات رونما ءہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب غیر سر کا ری تنظیمو ں کے عہدیدارو ں نے دعوی کیا ہے کہ نجی اور سرکاری دونوں ادارو ں میں کا م کرنے والے خوا تین کو جنسی طور پر ہراساں کر نے کے مجموعی طور پر 200سے زیا دہ کیسز وقوع پذیر ہوئے ہیں لیکن ان میں 80فیصد کیسز رجسٹر ڈ نہیں ہو ئے ہیں کیو نکہ وہ خوا تین اور ان کے رشتہ دار نہیں چاہتے کہ خوا تین جا کر پولیس سٹیشن میں رپور ٹ درج کریں۔

جبکہ غیر سر کا ری تنظیمو ں کا یہ بھی دعوی ہے کہ جا ب کر نے والی خوا تین میں سب سے زیا دہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ جن میں ہسپتالیں سر فہر ست ہیں ان کی خوا تین کو جنسی ہراساں کر نے کی کوشش کی گئی جبکہ دوسرے نمبر پر غیر سرکاری تنظیمو ں میں کا م کر نے والی خواتین شامل ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی جنسی ہراسانی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں مگر ان پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

جنسی ہراساں کر نے اور زنا کر نے پر محکمہ پولیس کی جانب سے جتنے بھی دفعا ت اور سیکشن لگائے جاتے ہیں وہ ناقابل ضما نت ہیں لیکن پولیس ان ملزمو ں کو سیا سی مدا خلت اور اثر رسو خ رکھنے کی بناءپر ضما نت پر رہا کر دیتی ہے جو قانونی طور پر درست نہیں جبکہ دوسری جانب مقا می عدالت میں 376، 371، اور 496، 497، 498، 493، 494 کے جتنے بھی سیکشن اور دفعا ت ہیں اس میں ملو ث ملزم پہلے عدالت جا کر بی بی اے کرا لیتے ہیں جبکہ دوسری جانب ملزما ن بھی اس با ت کا اعترا ف کر تے ہیں کہ نکا ح در نکاح کے کیسز میں خوا تین مر دو ں کو جنسی ہراساں کر نے کی کو شش کر تے ہیں کچھ تعلیمی اداروں میں مردوں کی جانب سے اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق انہیں خواتین ہراساں کرتی ہیں لیکن اس صورت میں پولیس اور غیر سر کاری تنظیمیں مر دو ں کیسا تھ اس با ت پر متفق نہیں ہو تے اور نہ ہی ہما را معا شرے میں مر د کہہ سکتا ہے کہ اس عورت نے مجھے ہرا ساں کیا ہے۔ جنسی ہراساں کر نے والے کیسز میں ملوث مرد اور خوا تین کو برابر کی سز اء دینی چاہیے۔ تاکہ معا شرے میں انصا ف ہو اور جینڈر ڈسکریمینیشن کا خاتمہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •