محافظوں کے بھیس میں بھیڑیے


پاکستان کے طول وعرض میں ان دنوں بری خبروں اور ناقص تجزیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے۔ کراچی ملیر کے ایس پی راؤ انوار جو دہشت گردوں کے خلاف خوف کی ایک علامت تھا‘ ایک بے گناہ شہری کا قاتل قرارپایا۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ راؤ انوار کا جرم بے نقاب ہوگیا۔ راؤ انوار محض ایک کریکٹر ہے۔ درجنوں ایسے ا ور بھی پولیس افسر ہوں گے جو شہریوں اور خاص کر جن کا کوئی والی وارث نہیں ‘پر قہر بن کرٹوٹتے ہیں۔ طاقت وروں کے سامنے ہاتھ باندھے حکم کے منتظر ہوتے ہیں۔ محافطوں کے بھیس میں بھیڑئیے کراچی سے خیبر تک پھیلے ہوئے ہیں لیکن کوئی مواخذہ کرنے والا نہیں۔

افسوس! زینب کا قاتل ایک مذہبی شخص کی شناخت رکھتا ہے جو باقاعدہ مجالس منعقد کراتا۔ قصور شہر میں اس کی نقابت کے چرچے عام تھے۔ زینب کے ساتھ ہونے والا بھیانک سلوک بھی کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ماں جیسی اس ریاست میں آئے روز ایسے واقعات رونماہوتے ہیں جنہیں خاموشی سے چھپا دیا جاتا ہے۔ خاندان اور معاشرے کی خام تربیت کا کمال ہے لوگ ظلم سہا جاتے ہیں لیکن احتجاج نہیں کرتے۔ خواہ کتنا بھی بڑا حادثے نہ گزرجائے خواتین اور بچوں کو یہی تعلیم کی جاتی ہے کہ انہوں نے لب کشائی نہیں کرنی۔ انصاف مانگنے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے نہ صرف خاندان کی عزت پر حرف آتا ہے بلکہ ناک بھی کٹتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے نے ہمارے معاشرے کے کھوکھلے پن کی قلعی کھول دی اور ہماری سماجی اقدار کی چولیں ہلادی ہیں۔

ابھی اس واقعے کی سیاحی خشک نہ ہوئی تھی کہ اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے زینب قتل کیس کے حوالے سے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔ نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے ایک من گھڑت کہانی میڈیا کے ذریع عام کردی۔ فرمایا کہ زینب کا قاتل درجنوں بینک اکاؤنٹس رکھتا ہے۔ کئی ایک سیاستدانوں کے ہمراہ عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے جو براہنہ تصویروں اور ویڈیوز کا بیوپار کرتا ہے۔ اس خبر نے پورے ملک کو ایک اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیا۔ سیاستدان بے چارے جو اس ملک کا سب سے مظلوم طبقہ ہے نہ صرف شہریوں کی نفرت کا ہدف بنا بلکہ ہر سیاستدان کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھاجانے لگا۔ اسٹیٹ بینک نے اس خبر کو جھوٹ کا پلندہ قراردیا تو کچھ اطمینان ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایسی درفتنی چھوڑ کر کیا حاصل کیا؟ ان کے اس غیر ذمہ دارانہ طرزعمل نے اینکرپرسنزاور ٹی وی کے مہمانوں کے معیار اور اعتباریت پر بھی سوال اٹھا دیا۔ اتنے سینئر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ محض میڈیا اور سوسائٹی میں زیربحث رہنے کے لیے بے سروپا شوشے چھوڑتے ہیں تو پھر میڈیا کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ وقت ہے کہ میڈیا بھی اپنی صفوں میں موجود ایسے عناصر کے خلاف آواز اٹھائے جو شہرت او رپیسے کی خاطر ملک میں ہیجان پیدا کرتے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ بیان بازی اور تجزیوں کے ذریعے ملک کی ساکھ خراب کرتے ہیں اور شرفا کی پگڑی اچھالتے ہیں۔ امید ہے کہ سپریم کورٹ افواہ سازی کی ان فیکٹریوں کو اب تالا لگانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

گزشتہ دنوں عدالت نے سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں انتشار پھیلانے اور نائن الیون کے بعد افغانستان میں پاکستان کی سرکاری پالیسی کے برعکس شہریوں کے جتھے بنا کر مہم جوئی کے معمار صوفی محمد کو رہا کیا۔ یہ خبر کسی بھونچال سے کم نہ تھی۔ صوفی محمد رہائی کے بعد ایک قومی ٹیلی وژن پر نمودار ہوتے ہیں اور ملک میں امن قائم کرنے کا بھاشن دیتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ صوفی محمد کے دامن پر انگنت پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کا داغ ہے۔ انہوں نے معصوم لوگوں کو شریعت کے نفاذ کے نام پر گمراہ کرکے ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کے راستے پر ڈالا۔ ان کے داماد ملافضل اللہ نے سوات میں نہ صرف بے گناہ شہریوں کو قتل کیا بلکہ افغانستان سے ہو کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی درجنوں کارروائیاں کرائیں۔ معلوم نہیں کہ عدالت نے انہیں کس بنیاد پر رہا کیا لیکن ان کی رہائی سے یہ پیغام ضرور ملا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں اور آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والوں کے ساتھ بھی سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے۔ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ موصوف چودھری شجاعت حسین اور ملک ریاض حسین کی کوششوں سے جیل سے رہا ہوئے اور اب بحریہ ٹاؤن میں قیام پذیرہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ جناب کے وعظ کے نتیجے میں جو سینکڑوں لوگ مارے گئے کون ان کے خون کا حساب دے گا؟ مولانا کو عدالتوں سے کلین چٹ دے دی گئی۔ یاد ر ہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک خصوصی کمیٹی کا وفد بھی اسلام آباد آیا تاکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف سرکاری سطح پر کی جانے والی کارروائی کا جائزہ لے سکے۔ اسے جب خبر ملی ہوگئی کہ صوفی محمد نہ صرف آزاد ہیں بلکہ ٹی وی چینلز پر امن کی تبلیغ بھی کرتے ہیں تو یقیناً ان کے چودہ طبق روشن ہوگئے ہوں گے۔

زیادہ پرانی بات نہیں کہ لیاری گینگ وار کا سربراہ عذیر بلوچ دوبئی سے گرفتار کرکے کراچی لایاگیا۔ چند ہفتوں بعد وہ ٹیلی وژن پر نمودارہوا۔ طویل دورانیہ کے انٹرویومیں عذیر بلوچ نے سیاست اور مافیا کے تل میل پر بھرپور روشنی ڈالی۔ ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے صولت رضا نے جیل کی کال کوٹھری سے میڈیا کو کئی ایک انٹرویو زدیے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح الطاف حسین نے کراچی میں بے گناہ شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگے اور شہر کا امن تباہ کیا۔

دنیا بھر میں کوئی بھی ریاست قانون توڑنے والوں کی عزت افزائی نہیں کرتی۔ قیدیوں یا جرائم میں ملوث لوگوں کو ہیرو بنا کر نہیں پیش کیا جاتا۔ سزا مکمل ہونے کے بعد جو لوگ جیل سے رہا ہو جاتے ہیں ان کا سماجی مقام اور مرتبہ بحال ہوتے ہوتے زمانہ گزر جاتا ہے۔ لوگ ان کی بات پر اعتبار نہیں کرتے۔ معاشرہ انہیں عزت کا مقام نہیں دیتا۔ میڈیا ایسے لوگ کو سیکرین پر لانے کا تصور بھی نہیں کرتا۔

حکومتوں اور ریاستی اداروں کی انہی دوغلی اور خام پالیسیوں نے پاکستان کو ایک کمزور ریاست میں تبدیل کیا جہاں روپے اور اثرورسوخ کے ذریعے انصاف خرید ا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ریاست کی ہیبت اور اعتباریت ختم ہوگئی۔ زورآ ورلوگوں کو فکر ہی نہیں کہ ان کے غلط کاموں پر قانون حرکت میں آئے گا اور ان کے لیے جان بچانا مشکل ہوجائے گی۔ رفتہ رفتہ ملک میں بے شمار چھوٹے چھوٹے مافیا بن گئے جنہوں نے اپنی اپنی سلطنتیں قائم کررکھی ہیں۔ کئی راؤ انوار ہیں تو کئی عمران علی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔
مجرموں کے ساتھ نرمی یا رعایت کرنے کا موجودہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند ہونا چاہیے۔ ورنہ پاکستان کوئی بھی محفوظ نہ ر ہے گا۔

Facebook Comments HS

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ershad.mahmud@gmail.com

irshad-mehmood has 178 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood