انٹرنیٹ کی 5 جی رفتار کتنی ہو سکتی ہے؟ نیز پاکستان میں ممکنہ دستیابی؛ تحقیقاتی رپورٹ


آج کل وائرلیس فور جی ایل ٹی ای ٹیکنالوجی کو اکثر موبائل نیٹ ورکس پر استعمال کیا جارہا ہے، جو کہ انتہائی تیز وائرلیس کمیونیکشن ڈیٹا ٹرانسمنٹ کرنے کے لیے فراہم کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں فائیو جی نیٹ ورک کو گھروں پر انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا جبکہ اس کی رفتار آنے والے دور کی ٹیکنالوجیز کے لیے بھی موزوں ہوگی، جیسے ڈرائیور لیس کار سسٹم میں ڈیٹا کے لیے درکار اسپیڈ وغیرہ۔

فائیو جی نیٹ ورک موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشن سے سوگنا جبکہ گھروں کے براڈ بینڈ کنکشن سے دس گنا تیز ہوگا۔ گزشتہ سال موبائل ورلڈ کانگریس میں سام سنگ نے فائیو جی ہوم روٹر کو پیش کیا تھا جس کی رفتار 4 گیگابائٹس فی سیکنڈ تھی، یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے 500 میگا بائٹس فی سیکنڈ، جس کی مدد سے پچاس جی بی کی فائل صرف دو منٹ جبکہ سو جی بی کی فلم چار منٹ میں ڈاﺅن لوڈ کی جاسکتی ہے۔

اس وقت امریکا میں انٹرنیٹ کی اوسط رفتار صرف 55 میگا بائٹ فی سیکنڈ ہے۔ تاہم جب فائیو جی ٹیکنالوجی صحیح معنوں میں سامنے آئے گی تو درست اندازہ ہوگا کہ اس کی اوسط رفتار مختلف رکاوٹوں یا لوگوں کے ہجوم کے دوران کیا ہوگی تاہم پھر بھی فور جی ایل ٹی ای سے کئی گنا زیادہ تیز ضرور ہوگی، یعنی اگر پچاس فیصد کم بھی ہوتی تو بھی گھریلو انٹرنیٹ کی رفتار 2 گیگا بائٹس فی سیکنڈ ہوگی جبکہ ایک گیگابائٹ فی سیکنڈ بھی موجودہ تناظر میں زبردست ہی قرار دی جاسکتی ہے

گزشتہ سال جولائی میں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان فائیو جی ٹیکنالوجی کا تجربہ کرنے والا پہلا ایشیائی ملک بنے گا اور حکومت 2021 تک اس ٹیکنالوجی کو ملک میں متعارف کرانے کی تیاری شروع کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی عوام اس نئی ٹیکنالوجی کو سب سے پہلے استعمال کرسکیں گے۔

Facebook Comments HS