وقت پڑے تو حکمران کو بھی جھوٹ بولنا پڑ جاتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک راجہ ہوتا تھا جو سارا دن تخت پر بیٹھ کر انصاف کرتا تھا اور شام کو بھیس بدل کر رعایا کا کچا چٹھا جاننے نکل جاتا تھا۔ ایک شام وہ ایک باغ سے گزر رہا تھا کہ درخت کے نیچے چار لڑکیوں کو دیکھتے ہی وہیں رک گیا اور چھپ کر ان کی باتیں سننے لگا۔ بظاہر یہ غیر اخلاقی بات ہے مگر راجہ جنگل کے شیر ہوتے ہیں، وہ جو مرضی کریں کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

پہلی لڑکی بولی ”میرا خیال ہے کہ دنیا میں انسان سب سے زیادہ گوشت کو انجوائے کرتا ہے“۔
دوسری لڑکی نے اختلاف کیا ”میرے خیال میں شراب سے بڑھ کر کسی اور شے کا لطف نہیں آتا“۔
”نہیں نہیں، تم دونوں غلط ہو۔ دل کھول کر محبت کرنے سے بڑھ کر کسی دوسری چیز میں راحت نہیں ہے“۔
چوتھی نے کہا ”بلاشبہ گوشت، شراب اور محبت سب لطف اندوز ہونے کی چیزیں ہیں۔ لیکن میرے خیال میں جھوٹ بولنے سے زیادہ کسی شے کا مزا نہیں“۔

لڑکیاں تبادلہ خیال کرنے کے بعد اٹھ کر اپنے گھروں کو چل دیں۔ راجہ ان کا پیچھا کرنے لگا۔ اس نے ان کے گھروں کو دیکھا اور ان پر چاک سے نشان لگا دیے۔

اگلی صبح اس نے منتری کو بلایا اور کہا کہ فلاں گلی میں چار گھروں پر چاک کا نشان ہے۔ ان کے مالکوں کو دربار میں پیش کرو۔ منتری ذاتی طور پر گیا اور چاروں آدمیوں کو لے آیا۔
راجہ نے پوچھا ”کیا تم چاروں کی بیٹیاں ہیں؟ “۔
انہوں نے جواب دیا ”ہیں“۔
”انہیں میرے سامنے پیش کرو“۔ راجہ نے حکم دیا۔
”ہماری عزت خاک میں مل جائے گی۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے“۔
”ان کی عزت رکھی جائے گی۔ تم انہیں خاموشی سے لا سکتے ہو“۔
لڑکیوں کو ڈولی بھیج کر لایا گیا اور انہیں ایک ایک کر کے راجہ کے سامنے پیش کیا گیا۔

راجہ نے پہلی لڑکی سے پوچھا ”کل تم اپنی سہیلیوں سے کیا بات کر رہی تھیں؟ “
”راجہ سلامت ہم آپ کے خلاف کوئی بات نہیں کر رہے تھے“۔
”میرا مطلب یہ نہیں ہے۔ میں بس جاننا چاہتا ہوں کہ تم کیا بات کر رہی تھیں“۔
”میں نے صرف یہ کہا تھا کہ زندگی میں گوشت کے ذائقے سے بڑھ کر کسی شے کا وجود نہیں ہے“۔
”اپنے والد کے بارے میں کچھ بتاؤ؟ “
”میں ایک بھابڑا کی بیٹی ہوں“
”اگر تم بھابڑا قبیلے سے تعلق رکھتی ہو تو تم تو گوشت سے اجتناب کرتی ہو گی اور تمہیں اس کے ذائقے کا علم نہیں ہو گا۔ وہ تو اتنے محتاط ہوتے ہیں کہ کنویں سے پانی پیتے ہوئے پیالے پر ایک کپڑا لگا دیتے ہیں تاکہ بھولے سے بھی کوئی کیڑا مکوڑا نہ نگل لیں“۔

”جی ہاں یہ بات درست ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ گوشت بہت ہی زیادہ لذیذ ہوتا ہو گا۔ ہمارے گھر کے سامنے ایک قصائی کی دکان ہے۔ گوشت اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ چھوٹی سی بوٹی بھی ضائع نہیں کی جاتی۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ گوشت کھاتے ہیں تو ہڈیاں تک چوس لیتے ہیں۔ پھر یہ ہڈیاں کتے بہت شوق سے کھاتے ہیں اور ان کو نیزے کی انی کی مانند چمکا کر ہی چھوڑتے ہیں۔ اس کے بعد کوے ان ہڈیوں سے ضیافت اڑاتے ہیں۔ کووں کے بعد چیونٹیوں کی باری آتی ہے جن کا جتھا ان ہڈیوں پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس سب کچھ کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ گوشت سے بڑھ کر کسی شے کا مزا نہیں ہے“۔
راجہ یہ مدلل جواب سن کر خوش ہوا اور لڑکی کو انعام اکرام دے کر رخصت کیا۔ اس کے بعد اگلی لڑکی کی باری آئی اور راجہ نے اس سے پچھلی شام کے بارے میں پوچھا۔

”میں نے کہا تھا کہ شراب سے بڑھ کر کسی شے کا مزا نہیں آتا“۔ لڑکی نے بتایا۔
”تمہارے والد کیا کام کرتے ہیں؟ “
”وہ ایک مولوی ہیں“۔
”بہت اچھا مذاق ہے۔ مولوی تو شراب کے نام سے ہی نفرت کرتے ہیں۔ پھر تمہیں کیا پتہ کہ اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے؟“

”یہ درست ہے کہ میں نے کبھی شراب کو نہیں چھوا۔ میں نے اپنے گھر کی چھت سے دیکھا ہے کہ بہت قیمتی کپڑے پہنے ہوئے شریف لوگ بھی نیچے گلی میں موجود شراب خانے میں جاتے ہیں۔ ایک دن دو امرا اپنے نوکروں کے ساتھ شراب خانے میں گئے اور بیٹھ کر خوب شراب پی۔ اس کے بعد وہ بمشکل اٹھے اور گرتے پڑتے واپس ہوئے۔ میں نے سوچا کہ جس طرح یہ دیواروں سے ٹکرا رہے ہیں اور نیچے زمین پر گر رہے ہیں تو دوبارہ کبھی شراب کو نہیں چھوئیں گے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ گلی شام وہ پھر وہیں موجود تھے۔ میں نے سوچا کہ شراب کا ذائقہ ضرور بہت اچھا ہوتا ہو گا ورنہ ایسی ذلت اٹھانے کے بعد یہ لوگ اسے پینے دوبارہ نہ آتے۔ “
”تم ٹھیک کہتی ہو۔ “ راجہ نے کہا اور اسے بھی انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔

تیسری لڑکی آئی اور اس نے بتایا ”میں نے کہا تھا کہ دنیا میں محبت سے بڑھ کر کسی شے کا لطف نہیں ہے“۔
”لیکن تم تو ایک بہت نوعمر لڑکی ہو۔ تمہیں کیا پتہ محبت کیا ہوتی ہے؟ “
”میں ایک میراثی کی لڑکی ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ میں بہت کم عمر ہوں لیکن مجھے پتہ ہے کہ محبت بہت پر لطف شے ہے۔ میرے چھوٹے بھائی کی پیدائش پر میری ماں بہت تکلیف میں تھی۔ وہ بمشکل زندہ بچ پائی۔ لیکن کچھ دن بعد وہ دوبارہ گربھ وتی ہو گئی۔ اور اس کے آٹھ بچے اور بھی ہوئے۔ اسی وجہ سے میں نے نتیجہ نکالا کہ محبت سے بڑھ کر کسی شے کا لطف نہیں جس کی خاطر لوگ اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتے“۔
راجہ نے اتفاق کیا اور اس لڑکی کو بھی بہت انعام دے کر رخصت کیا۔

چوتھی لڑکی کی باری آئی۔ راجہ نے پوچھا کہ ”کل تم نے کیا بات کیا تھی“۔
”میں نے کہا تھا کہ دنیا میں جھوٹ بولنے سے بڑھ کر کسی شے کا مزا نہیں ہے۔ میں نے بے شمار لوگوں کو جھوٹ بولتے دیکھا ہے“۔
”تمہارے والد کیا کرتے ہیں؟ “
”میں ایک کسان کی بیٹی ہوں“
”تمہیں کس وجہ سے یہ خیال آیا کہ لوگ جھوٹ بولنے میں لطف اٹھاتے ہیں“۔
”اوہ میرے آقا۔ کسی دن آپ خود بھی جھوٹ بولیں گے۔ اس دن آپ کو اس کے لطف کا احساس ہو گا“۔
”کیا مطلب؟ بھلا ایک راجہ کیوں جھوٹ بولے گا؟“
”اگر آپ مجھے دو لاکھ اشرفیاں اور چھے ماہ کی مہلت دیں تو میں اپنی بات ثابت کر دوں گی“۔

راجہ نے لڑکی کو دو لاکھ اشرفیاں دے کر رخصت کیا۔ چھے مہینے بعد راجہ نے لڑکی کو دوبارہ بلایا۔ اس دوران میں لڑکی نے دور جنگل میں ایک خوبصورت محل بنوا لیا تھا۔ اس کی دیواروں پر خوبصورت تصاویر آویزاں تھیں اور ریشمی پردے در و بام پر لہرا رہے تھے۔ لڑکی نے راجہ کو کہا کہ ”میرے محل میں چلو تمہیں وہاں بھگوان دکھائی دے گا اور پھر تمہیں میری بات پر یقین آ جائے گا“۔

راجہ اپنے ساتھ دو منتریوں کو لے کر محل میں چلا گیا۔
”محل کے اس کمرے میں بھگوان رہتا ہے۔ لیکن وہ صرف ان لوگوں کو اپنے درشن کراتا ہے جن کے حسب نسب میں فی نہ ہو اور اس کی ماں اپنے پتی کی وفادار ہو۔ “۔ لڑکی نے بتایا۔

راجہ نے کہا ”ٹھیک ہے۔ لیکن پہلے میرے منتری بھگوان کے پوتر کمرے میں جائیں گے۔ “
پہلا منتری بھگوان کے کمرے میں چلا گیا۔ اسے کمرے میں بھگوان نہ دکھائی دیا۔ منتری نے سوچا کہ ”کہیں میرے حسب نسب میں فی نہ ہو۔ اگر میں باہر جا کر یہ کہوں کہ بھگوان نے مجھے درشن نہیں کرائے تو دوسرے منتری راجہ کو بدظن کر دیں گے اور میں وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا۔ مجھے کہنا چاہیے کہ مجھے بھگوان نے درشن کرا دیے ہیں“۔

وہ باہر گیا تو راجہ نے پوچھا ”کیا تمہیں بھگوان نے درشن کرائے ہیں؟ “
”ہاں مجھے بھگوان نے درشن کرائے ہیں۔ “
”کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ بھگوان نے تمہیں کیا کہا؟ “
”بھگوان نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے مجھے جو کہا وہ میں کسی کو نہ بتاؤں“۔ منتری نے بہت اعتماد سے جواب دیا۔

راجہ نے دوسرے منتری کو بھگوان کے کمرے میں بھیجا۔ دوسرے منتری کو بھی کچھ دکھائی نہ دیا تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور بھگوان کو غائب پر کر اس کو اپنے والدین پر شدید شک ہوا۔ ”اگر میں نے یہ کہا کہ مجھے بھگوان نے درشن نہیں کروائے تو سب میرے نسب پر شک کریں گے اور میں پورے راج میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔ مجھے یہی کہنا پڑے گا کہ مجھے بھگوان نے درشن کرائے ہیں“۔ اس نے باہر آ کر یہی کہا۔

”کیا تم نے واقعی بھگوان کے درشن کیے ہیں؟ “ راجہ نے پوچھا۔
”نہ صرف درشن کیے ہیں بلکہ بھگوان نے مجھ سے بات بھی کی ہے۔ مگر اس نے مجھے کسی کو بھی کچھ نہ بتانے کا حکم دیا ہے۔ “ منتری نے جواب دیا۔

اب راجہ کی باری تھی۔ وہ کمرے میں گیا۔ اسے بھی کچھ دکھائی نہ دیا۔ اس نے سوچا کہ ”دونوں منتریوں کو بھگوان نے درشن کرائے ہیں۔ مجھے نہیں کرائے۔ ضرور میرے نسب میں فی ہے اور پرجا مجھے جائز حکمران نہیں مانے گی۔ میں نے یہ کہا تو میرے خلاف بغاوت ہو جائے گی۔ مجھے یہی کہنا پڑے گا کہ بھگوان نے مجھے بھی درشن کرائے ہیں“۔ راجہ باہر آ گیا۔

لڑکی نے پوچھا ”اؤ مہان راجہ۔ کیا آپ کو بھگوان نے درشن کرائے ہیں؟ “
”ہاں۔ مجھے بھگوان نے درشن کرائے ہیں“۔
لڑکی نے تین مرتبہ پوچھا۔ راجہ نے تینوں مرتبہ اثبات میں جواب دیا۔
”اے راجہ، کیا تمہارا ضمیر تم پر ملامت نہیں کرتا؟ تم بھگوان کے درشن کیسے کر سکتے ہو۔ بھگوان تو شوالک پہاڑی پر رہتا ہے۔ میرے گھر وہ کیوں آ کر رہے گا؟ آخر کار تم جھوٹ بولنے پر مجبور ہو گئے ہو“۔

راجہ کو یاد آیا کہ لڑکی نے اسے یہی چیلنج کیا تھا کہ ایک دن راجہ بھی جھوٹ بولے گا۔ اس نے ہنستے ہوئے تسلیم کیا کہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔ یہ دیکھ کر دونوں منتریوں کو حوصلہ ہوا اور انہوں نے بھی اقرار کیا کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے۔

لڑکی نے کہا ”اے میرے راجہ، ہم غریب لوگ کبھی کبھار اپنی زندگی بچانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ لیکن تمہیں کس بات کا خوف تھا جو جھوٹ بولا؟ جھوٹ بولنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ اس کے اپنے ہی فائدے ہیں۔ اس وجہ سے جھوٹ بولنے میں جو مزا ہے وہ کسی دوسری شے میں نہیں ہے۔ ضرورت ہو یا نہ ہو، سب جھوٹ بولتے ہیں“۔
راجہ نے کچھ دیر غور کیا اور لڑکی کی بات اس کی سمجھ میں آ گئی۔ وہ لڑکی کی ذہانت سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے لڑکی سے شادی کر لی اور وہ اس کی قریب ترین مشیر بن گئی۔
تو صاحبو۔ وہ وقت ہے اور آج کا وقت، کسی حکمران نے جھوٹ بولنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1191 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar