احمق دیہاتیوں نے پٹھان سے فارسی خریدی

روایت ہے کہ جب احمد شاہ ابدالی نے پنجاب فتح کیا تو اس کے سپاہی ایک چھوٹے سے دور دراز گاؤں میں ٹیکس لینے پہنچے۔ اب ابدالی کے سپاہی صرف فارسی بولتے تھے اور گاؤں والے اس زبان سے ناواقف تھے۔ تو ٹیکس وصول کرنے والوں کو وہ اپنی بری مالی حالت کے بارے میں بتانے سے قاصر رہے اور تلوار کی نوک کے ذریعے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں بالکل ہی لٹ گئے۔ سپاہی چلے گئے تو گاؤں

Read more

تیسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

تیسرے جولاہے نے اپنا قصہ شروع کیا: بلاشبہ ان دونوں کی ذہانت بے مثال ہے مگر میری عقل نے بھی میرے سسرال میں میری خوب عزت بنائی ہے۔میری بیوی پہلے ہی اپنے میکے جا چکی تھی۔ میں اپنے سسرال کی طرف چلا تو ساتھ دینے کو گاؤں کے نائی کو بھی ساتھ لے لیا۔ جب ہم سسرال پہنچے تو میری ساس نے نئی چادریں چارپائی پر بچھائیں اور ہمیں عزت سے بٹھایا۔ پھر پوچھا ”اتنے سفر کے بعد تمہیں بھوک تو بہت لگی ہو گی؟ “

Read more

دوسرے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

دوسرا جولاہا بولا: یہ بات ٹھیک ہے کہ تم اچھے بھلے عقلمند ہو مگر جب میری دانشمندی کی کہانی سنو گے تو تم یہ بات تسلیم کر لو گے کہ میں تم سے کہیں زیادہ عقلمند ہوں اور ان پیسوں پر میرا ہی حق بنتا ہے۔جب شادی کے بعد میں نے روایت کے مطابق سسرال جانے کا ارادہ کیا تو یہ فیصلہ کیا کہ سسرالیوں کو خوب شان و شوکت دکھاؤں گا۔ میں نے ایک ہمسائے سے گھوڑا ادھار مانگا، دوسرے سے ہتھیار لئے اور تیسرے سے کچھ زیورات۔ تو خوب سج بن کر گھوڑے پر سوار ہوا اور راستے پر نکلا تو جس مسافر کے پاس سے بھی گزرتا وہ یہی کہتا ”واہ، کیا ذی وقار اور دولت مند جولاہا ہے“۔ راستے میں تیز بارش نے آ لیا تو مجھے چند گھنٹے ایک گاؤں میں رکنا پڑا۔ بارش رکنے پر میں آگے چلا مگر اپنے سسرالی گاؤں تک پہنچتے پہنچتے رات ہو گئی۔ مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس وقت سسرال میں گیا تو اندھیرے میں میری شان و شوکت کو کوئی نہیں دیکھ پائے گا لیکن اگر میں انتظار کر لوں اور دن کی روشنی میں گاؤں میں داخل ہوں تو سب گاؤں والے یہی کہیں گے کہ انہوں نے کتنا بہترین داماد پایا ہے۔

Read more

ایک جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

چار غریب جولاہے ایک مرتبہ راہگزر کنارے بیٹھے تھے کہ ادھر سے ایک مسافر گزرا۔ اس نے ان کو غریب جان کر چار پیسے ان کی طرف اچھال دیے اور اپنی راہ پر چلتا رہا۔ ایک جولاہا سب سے پھرتیلا تھا، اس نے چاروں پیسے اچک لئے۔ باقی تینوں اس سے اپنے حصے کے لئے لڑنے لگے۔ ادھر سے ایک بابا گزرا اور اس نے جھگڑے کی وجہ جاننا چاہی۔

تین جولائے بولے ”اس مسافر نے چار پیسے ہم چاروں کی طرف اچھالے تھے۔ ظاہر ہے کہ ہر ایک کو ایک پیسہ دیا تھا۔ اس نے چاروں پیسے اچک لئے ہیں اور ہمارا حصہ دینے سے انکاری ہے“۔چوتھے جولاہے نے کہا ”نہیں یہ چاروں پیسے میرے ہیں۔ مسافر نے قسمت پر چھوڑ کر اچھال دیے تھے کہ جس کی قسمت میں ہوں وہ پا لے گا“۔

جھگڑا دوبارہ شروع ہونے کو تھا کہ بابے نے کہا ”وہ مسافر زیادہ دور نہیں گیا ہے۔ دوڑ کر جاؤ اور اس سے فیصلہ کرا لو۔ “ چاروں جولاہوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی اور انہوں نے دوڑ کر مسافر کو جا لیا۔

Read more

معصوم مینڈکوں کا عالیشان بادشاہ

نہایت ہی پرانے زمانے میں یونان میں ایسوپ نامی ایک شخص گزرا ہے۔ اس کی ایک مشہور حکایت ہے جو کہ چند ایسے مینڈکوں کے بارے میں ہے جن کو اپنی عظیم قوم اور عالی شان تالاب کے شایان شان ایک ذی جاہ بادشاہ چاہیے تھا تاکہ ساری دنیا پر ان کی دھاک جم سکے۔ آئیے حکایت پڑھتے ہیں۔

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک حسین و جمیل اور مسحور کر دینے والے تالاب میں کوئی بیس بائیس مینڈک رہتے تھے۔ وہ مل جل کر جمہوری طریقے سے تالاب کا نظام چلاتے تھے اور انہیں اتنی آزادی میسر تھی کہ وہ کچھ بھی کر سکتے تھے۔ سارا دن فارغ بیٹھ کر ٹر ٹر کرتے رہتے تھے۔ حتی کہ وہ ایک دوسرے کی آوازیں سن سن کر بور ہو گئے اور ان کے دل میں تبدیلی کی خواہش پیدا ہوئی۔ انہوں نے سوچا کہ ایسی حکومت قائم کی جائے کہ شاہی جاہ و جلال سے کام لے کر ان کو متاثر کرے، اور ان کو احساس دلائے کہ ان کا بھی کوئی بادشاہ ہے اور دور نزدیک کے لوگوں پر بھی ان کی دھاک جم جائے اور اس بادشاہ کے ذریعے ان کی قوم کو باقی جانوروں پر اقتدار حاصل ہو اور ان کے عظیم تالاب کو سب رشک کی نگاہ سے دیکھیں۔

Read more

راجہ کا شیر جاہل نکلا

پیارے بچو، بہت ہی زیادہ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ اندھیر نگری میں چوپٹ مہاراج نامی ایک راجہ حکومت کرتا تھا۔ راجہ کو جانور پالنے کا بہت شوق تھا۔ لیکن معاملہ یہ تھا کہ اگر وہ بکری یا گائے بھینس پالتا تو پرجا بھد اڑاتی کہ یہ مہاراجہ ہے یا گڈریا؟ آج بکری بھینس پالی ہے تو کل دودھ دہی بیچنا شروع کر دے گا۔ آخر ایک دن چوپٹ مہاراج نے سوچا کہ کیوں نا شیر پالا جائے، راجہ مہاراجہ شیر کی کھال اوڑھتے ہیں تو ان کے رعب میں اضافہ ہوتا ہے، اور اگر ہم کتوں کی بجائے محل کی حفاظت کے لیے بھی شیر رکھیں گے تو سب ہم سے بہت ڈرا کریں گے۔

چوپٹ مہاراج نے ایک خوب پلا ہوا شیر محل میں رکھ لیا۔ اسے خوب کھلایا پلایا جاتا۔ مگر شیر کوئی کتا تو تھا نہیں کہ جو راتب ڈالا جاتا، چپ چاپ کھا جاتا۔ اسے شکار کرنا پسند تھا۔ سو ایک دن وہ محل سے باہر نکلا اور بازار میں بندھی ایک غریب کسان کی بکری مار کر کھا گیا۔ کسان اگلے دن دربار میں فریاد کرتا ہوا آیا کہ ”مہاراج آپ کے شیر نے میری بکری کھا لی ہے۔“

Read more

گیان کی شکتی اور شکتی کا گیان

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں چار دوست ہوا کرتے تھے۔ تین دوست نہایت پڑھے لکھے تھے۔ ایک جین مت کا گیانی تھا۔ دوسرا بدھ جوگی تھا۔ تیسرا ہندو اچاریہ تھا۔ تینوں پنڈتوں نے اپنے مذہب کی کتابوں، جاپوں اور منتروں میں کمال پایا تھا۔ اشلوک پڑھ کر کچھ کا کچھ کر دیتے تھے۔ لیکن دنیاوی معاملات میں ذرا بھگوان لوک تھے۔ چوتھا دوست نرا جاہل تھا۔ لیکن بدھی مان تھا۔ عقل سلیم خوب رکھتا تھا۔ تو ہوا یہ کہ

Read more

ہینڈسم تمہارے خاندان میں ہاتھِی کا شکار نہیں کیا جاتا

ایک جنگل میں ایک شیر اور شیرنی رہتے تھے۔ شیرنی نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شیرنی اب بچوں کا خیال رکھے گی اور شیر شکار کر کے لایا کرے گا۔ کئی دن تک ایسا ہوتا رہا کہ شیر ہرن یا نیل گائے مار کر لاتا اور سب پیٹ بھر کر کھاتے۔

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ سارا دن شکار کی تلاش کے باوجود شیر کو شکار نہیں ملا۔ چلتے چلتے جنگل میں اسے ایک گیدڑ کا بچہ بھٹکتا ہوا ملا۔ شیر نے اسے دیکھا تو اسے بہت رحم آیا۔ اس نے سوچا کہ جنگل میں اسے کوئی بھی مار ڈالے گا، اس لئے شیر نے اسے نرمی سے اپنے منہ میں پکڑا اور اپنی کچھار میں لے آیا۔

Read more

نائی کی چالاک بیوی اور سات چوروں کی کہانی

پرانے زمانے کا قصہ ہے کہ ایک ایسا بے وقوف سا نائی تھا جو کوئی کام سیدھا نہیں کر سکتا تھا۔ حتی کہ بال کاٹتے وقت وہ کان کاٹ دیتا تھا اور حجامت کرتے وقت گلا۔ نتیجہ یہ کہ اس کا کام ٹھپ ہوتا گیا اور وہ اپنی چیزیں بیچ کر گزارا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رفتہ رفتہ ایسا وقت آیا کہ اس کے گھر میں صرف دو چیزیں باقی بچیں، اس کا استرا اور اس کی بیوی، اور یہ فیصلہ کرنا دشوار تھا کہ ان میں سے زیادہ تیز کون ہے۔

ایک دن نائی کی بیوی اسے بے وقوفیوں پر طعنے دے رہی تھی کہ وہ بے بسی سے بولا ”یہ سب بار بار کہنے کا کیا فائدہ ہے؟ میں تم سے متفق ہوں، میں نے کبھی خود سے کچھ نہیں کمایا، میں کبھی خود سے کچھ نہیں کما سکتا، اور میں کبھی کسی کو کمانے بھی نہیں دوں گا۔ یہ حقیقت ہے“۔

Read more

معصوم گیڈر اور عیار تیتر کی کہانی

ایک گیدڑ اور تیتر میں دوستی کے عہد و پیمان ہو گئے اور انہوں نے دوسرے کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے کا عہد کیا لیکن گیدڑ دوستی کے بدلے میں بہت کچھ طلب کرنے والا اور حاسد فطرت تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے تیتر کو کہا ”تم دوستی کی باتیں تو بہت بگھارتے ہو لیکن میرے مقابلے میں آدھا بھی نہیں کرتے۔ میرے نزدیک دوست وہ ہے جو مجھے ہنسانے اور خوب دکھی کر کے رلانے پر قادر ہو، جو مجھے خوب اچھا کھلائے پلائے اور ضرورت پڑے تو میری زندگی بچائے۔ تم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے“۔

Read more

شیر کی دم سے بندھا گیدڑ

بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں بیلوں کی جوڑی سے ہل چلا رہا تھا۔ اچانک ملحقہ جنگل سے ایک بڑا سا شیر نکلا اور اس نے نہایت سلیقے سے کسان کو سلام کر کے کہا ”کیسی گزر رہی ہے میرے دوست؟ “

کسان کی پہلے تو شیر کو دیکھ کر جان نکل گئی مگر شیر کا دوستانہ انداز دیکھ کر اسے تسلی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ شیر ڈائیلاگ کرنے آیا ہے تو خیریت اسی میں ہے کہ اس سے بات چیت کی جائے۔ وہ بولا ”بہت اچھی گزر بسر ہو رہی ہے جنگل کے بادشاہ۔ “

Read more

بدرو جولاہا جو پروپیگنڈے سے بادشاہ بن گیا

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک منحنی سے جسم والا جولاہا رہا کرتا تھا۔ اس کا قد چھوٹا تھا، ٹانگیں اور بازو کمزور اور جسم عجیب۔ اس کے ہمسائے اسے ٹڈا بدرو جولاہا کہتے۔

لیکن اپنے چھوٹے سے قد اور کمزور سے جسم کے باوجود بدرو خود کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔ وہ گھنٹوں اپنی بہادری کی تعریف کرتا رہتا اور وہ کارنامے سناتا جو اس نے موقع ملتے ہی سرانجام دینے تھے۔ بس قسمت کی خرابی تھی کہ اسے موقع نہیں ملتا تھا اور قصے سننے والے اس پر ہنستے تھے۔

Read more

سیانے چوہے کی شادی اور ڈیل کرنے سے توبہ

ایک مرتبہ ایک موٹا تازہ اور خوب سیانا چوہا تیز بارش میں پھنس گیا۔ بوچھاڑ سے بچنے کے لئے اس نے جلدی جلدی ایک بل کھودا اور اس میں دبک گیا۔ وقت گزاری کے لئے وہ بل کو مزید کھودتا گیا۔ کھودتے کھودتے اسے ایک مردہ درخت کی جڑ ملی جو بالکل خشک تھی۔ چوہے بہت کفایت شعار اور سلیقہ مند مخلوق ہوتے ہیں۔ سیانے چوہے نے سوچا کہ میں اس لکڑی کو گھر لے جاؤں گا اور اسے جلا کر کھانا پکاؤں گا۔ مینہ تھما تو سیانا چوہا اس جڑ کو منہ میں دبائے اپنے بل کی طرف روانہ ہوا۔

وہ کچھ آگے گیا تو اس نے دیکھا کہ ایک غریب آدمی بہت مایوسی کے عالم میں آگ جلانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے اور اس کے گرد چھوٹے چھوٹے بیٹھے بچے رو رہے ہیں۔
سیانے چوہے نے دلگرفتہ ہو کر پوچھا ”کیا ہوا؟ یہ بچارے کیوں رو رہے ہیں؟ “

Read more

ایک ایمان دار بادشاہ اور کرپٹ عوامی لوٹوں کی حکایت

روایت ہے کہ ایک ملک میں کرپشن سے قوم اس حد تک تنگ آ گئی کہ ادھر انقلاب آ گیا۔ بڑے بڑے کرپٹ افراد کی گردنیں اتار دی گئیں اور ایک نہایت ہی ایماندار اور الو العزم شخص کو بادشاہ بنا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔ نئے بادشاہ نے فوری طور پر اصلاحات شروع کر دیں۔ اس کے امیر وزیر بھی مشورے دینے میں پیش پیش تھے۔ کچھ درباریوں کا خیال تھا کہ بادشاہ کو ایماندار پا کر سب

Read more

بدھو میاں نے ڈاکٹری کی

پردیسی شتربانوں کی ایک ٹولی آرام کرنے بدھو میاں کے گاؤں کے قریب رکی۔ مسافر کھانا ریندھنا کرنے لگے اور اونٹ ارد گرد چرنے لگے۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ایک اونٹ چرتا چرتا تربوزوں کے کھِیت کے قریب جا پہنچا اور اس نے ایک سموچا تربوز نگل لیا۔ تربوز اس کے گلے میں پھنس گیا اور اس کا سانس بند ہو گیا۔ وہ زمین پر گرا تو شتربان دوڑے دوڑے اس کے پاس پہنچے۔ قریب پھرتے بدھو میاں

Read more

چوتھے جولاہے نے عقل لڑا کر سسرال میں عزت بچائی

چوتھے جولاہے نے بات شروع کی۔یہ بات ماننی ہو گی کہ میرے یہ تینوں ساتھی واقعی نہایت ذہین ہیں اور اپنے سسرال میں اپنی عزت بچانے کی خاطر انہوں نے خوب عقل لڑائی ہے۔ لیکن میرا قصہ سن کر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ تینوں میرے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔جب میں اپنے سسرال کی طرف چلا تو ساتھ دینے کے لئے گاؤں کے نائی کو بھی ساتھ لے لیا۔ ہم دونوں گھوڑے مانگ کر ان پر سوار ہوئے اور ساتھ ساتھ میری بیوی ڈولی میں بیٹھ کر چلی۔ جب ہم میرے سسرال پہنچے تو ہمارا پرتپاک استقبال ہوا۔

Read more