نہال ہاشمی، یوم حساب، عبرت کا نشان

ذوالفقار علی بھٹو وطن عزیز کے مقبول و محبوب سیاسی رہنما تھے لیکن جلد ہی مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسی مقبولیت کسی بھی سیاسی رہنما کو اب تک حاصل نہیں ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی کا ہر سیاسی جلسے میں نعرہ ’ زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے ‘ اب بھی سب سے مقبول نعرہ ہے۔ بھٹو صاحب کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے عوام میں پذیرائی حاصل کی لیکن انتشار زدہ سیاسی و مذہبی بربریت کا شکار ہوئیں۔ اس وقت محترم نواز شریف اور محترم عمران خان وطن عزیز کے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ جمہوری ثقافت پے در پے مارشل لاء کی وجہ سے کبھی بھی مستحکم نہیں ہوسکی ہے۔ ہر جمہوری حکومت کو ہمیشہ یہ شکوہ رہتا ہے کہ ہماری حکومت کے خلاف غیرجمہوری قوتیں سازش کررہی ہیں او ر سیاسی تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ یہ شکوہ کسی حد تک بجا بھی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت بھی اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی، ان مبینہ سازشوں کا شکوہ کر رہی ہے۔ ان سازشوں کا تذکرہ کرنے کی پاداش میں، وفاقی حکومت کے دو وفاقی وزراء کو استعفا بھی دینا پڑا۔
عدالت عظمی میں جب پانامہ کیس کی سماعت کا آغاز ہوا، تو اس کے ساتھ ہی سیاسی کشیدگی میں بھی مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سیاسی و جمہوری عدم استحکام کی وجہ سے کارکنان کی سیاسی انداز میں تربیت دینے کا موقع کسی بھی سیاسی جماعت کو اب تک نہیں ملا ہے۔ اس وجہ سے ہر جماعت کے سرکردہ رہنما اور کارکنان، اپنے قائد کے دفاع اور حمایت میں تمام حدود کو پھلانگ جاتے ہیں اور سیاسی مخالفت کو ذاتی مخاصمت میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اس طرح کی انتشار زدہ سیاسی فضا کاغیر جمہوری عناصر نے ہمیشہ فائدہ اٹھایا ہے۔ لیکن اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی سیاست دان سیاسی سمجھ بوجھ سے قاصر نظر آتے ہیں۔ سینیٹرنہا ل ہاشمی نے بھی ایک تقریب میں اپنے محبوب قائد کی عقیدت میں غیر سیاسی تقریر کی اوردھمکی آمیز لہجہ اور الفاظ استعمال کیے، اس طرح کی تقاریر خود اپنی سیاسی قبر کھودنے کے مترادف ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے جب تقریر منظر عام پر آئی، تومسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے بھی نہال ہاشمی کی تقریر سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور مذمت کی۔ سابق وزیراعظم محترم نواز شریف کی ہدایت پرنہال ہاشمی نے استعفا تو دے دیا لیکن پھر واپس بھی لے لیا ور سینیٹ میں براجمان ہوگئے۔ نہال ہاشمی کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے، ان کی جماعت نے سیاسی خدمات کے اعتراف میں کسی نہ کسی طرح ان کو پنجاب سے سینیٹ کی نشست دلادی، پس پردہ نہال ہاشمی کے سیاسی عزائم کا بھانڈا، ان کی تقریر میں پھوٹ گیا، جب انہوں نے جے آئی ٹی کے اراکین اور عدالت عظمی کے ججز کو براہ راست مخاطب کرکے سر عام دھمکیاں دیں، حاضر سروس جے۔ آئی۔ ٹی اراکین اورججز کو عبرت کا نشان اور ان کی اولادوں کے لیے وطن عزیز کی زمین تنگ کرنے کی دھمکی دی۔ نہال ہاشمی کی تقریر کے اثرات پانامہ کیس میں بھی دکھائی دیے اور سابق وزیر اعظم نے اس کا نقصان بھی اٹھایا۔
سینیٹر نہال ہاشمی پر توہین عدالت کا مقدمہ قائم ہوا، تو انہوں نے عدالت عظمی سے غیر مشروط معافی مانگی کیونکہ صفائی میں کچھ کہنے کو نہیں تھا۔ عدالت عظمی نے فیصلہ محفوظ کیا ہوا تھا، آج عدالت نے عظمی نے سینیٹر نہال ہاشمی کا یوم حساب مقرر کیا تھا۔ عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں نہال ہاشمی کی غیرمشرو ط معافی کی درخواست کو مسترد کردیا اور ایک ماہ سزا اور جرمانے کے ساتھ، پانچ سال کے لیے پارلیمان کا رکن بننے پر پابندی لگادی۔ عدالتی فیصلے میں جہاں نہال ہاشمی کو عبرت کا نشان بنایا گیا، وہیں پانچ سال کے لیے ایوان اور ایوان بالا کا فلور استعمال کرنے پر بھی پابندی لگ گئی۔

