سوشل میڈیا پر اپنے لئے انصاف کی دہائی دیتے ہوئے جج

حال ہی میں سندھ کے شہر میھڑ جہاں پر ایک چانڈیو سردار کے اشارے پر دن دھاڑے چانڈیو برادی کے تیں قتل کیے گئے۔ اس شہر کے ایڈیشنل سیشن جج غلام علی کناسرو، سجاول شہر کے سینئر سول جج ایاز علی کناسرو، ایڈوکیٹ فرمان علی کناسرو سابق ATC جج اور ایڈووکیٹ صفدر علی کناسرو کے اپنے والد ایڈووکیٹ صاحب خان کناسرو سمیت اپنے خاندان کے تین افراد کے دن دھاڑے خیرپور کے پتافی قبیلے کی طرف سے کیے گئے قتل پر بے یار و مددگار نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے ایڈیشنل سول جج غلام علی کناسرو صاحب لکھتے ہیں کہ انہوں نے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا 2013 الیکشن میں دوہری شہریت کی وجہ سے ان کا نامزدگی فارم مسترد کیا تھا اورجس کی بنا پر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ آج تک سخت ناراض ہیں اور انصاف کے حصول میں ان سے تعاون نہیں کر رہے۔
مراد علی شاہ، پتافی سردار اور رانی پور کے پیروں کی ساز باز سے کناسرو خاندان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بقول ایڈووکیٹ صفدر علی کناسرو کہ پتافی خاندان کے کچھ لوگ جو ملک کے با اثر اداروں میں کام کرتے ہیں وہ بھی ان مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سکھر ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود بھی پولیس اور رینجرز مجرموں کی گرفتاری اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کناسرو خاندان کے افراد ججزز اور وکلاء ہونے کے باوجود بھی مجرموں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ خونی جھگڑا کپاس کی فصل کو بکریوں کے کھانے پر 2014 میں شروع ہوا۔ سندھ کے وکلاء، سول سوسائٹی اور باشعور عوام چانڈیو اور کناسرو برادری کے قتل عام پر سراپا احتجاج نظر آتے ہیں مگر سب کو یقین ہے کہ یہ قانون ان با اثر سرداروں، جاگیرداروں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا کیوں کہ مبینہ طور پر پولیس، کچہری اور بیوروکریسی کی کالی بھیڑیں ان کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔
آپ خود اندازہ لگائیں کہ جس خاندان کے دو حاضر سروس ججز ہوں اور سابق جج ATC اور ایڈووکیٹ ہوں اور وہ اپنے انصاف کے حصول کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور آرمی چیف کو اپیل کرتے ہوئے احتجاجاً سڑکوں پر نظر آئیں اس ملک میں کس طرح ایک عام آدمی کو انصاف ملے گا؟ اور کس طرح خیرپور کی مقتولہ تانیہ خاصخیلی اور ڈی آئی خان کی بے قصور لڑکی جس کو ظالموں نے برہنہ کر کے گاؤں میں گھمایا تھا ان کے مجرموں کے قرار واقعی سزا دلا سکے گے اور کون کرے گا انصاف مردان کی چار سالہ اسماء کو جس کو درندوں نے جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا اور کون کرے گا انصاف کوہاٹ کی میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی اور اس جیسی کئی معصوم نہتی لڑکیوں کا؟
ہم تو ابھی معصوم زینب کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے غم کو نہیں بھلا سکے تھےکہ یہاں پورے ملک میں جنسی زیادتی اور قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا جا رہا ہے۔ عموماً قاتلوں کو سیاسی اور غیرسیاسی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ آج بھی ملک میں انصاف مہنگا ملتا ہے ماتحت عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدالتوں تک پہنچے کے لیے وکلاء کو لاکھوں روپے دینے پڑتے ہیں۔ اکثر و بیشتر لوگ انصاف کے حصول کی جنگ لڑتے لڑے اپنی زندگیوں کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جہاں خود انصاف دینے والے ججزز اپنے والد اور خاندان کے کئی افراد کے بہیمانہ قتل پر انصاف کے حصول کے متلاشی ہوں تو پھر وہاں ایک عام آدمی کو انصاف کون فراہم کرے گا؟
ہم تو سمجھ رہے تھے کہ عمران خان صاحب دوسرے سیاستداںوں سے تھوڑے مختلف ہوں گے اور وہ کوہاٹ کی عاصمہ اور مردان کی اسماء کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ پریس کانفرنس کر کے معافی مانگیں گے مگر خان صاحب نے تو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر پوری کانفرنس کر ڈالی اور حوا کی بیٹوں سے ہونے والی زیادتیوں پر پوچھے گئے سوال کا جواب تک نہیں دیا کہ اس مامعلے پر پرویز خٹک صاحب پریس کانفرنس کریں گے مگر پروریز خٹک کے مطابق یہ معمولی واقعات ہیں جو ہوتے رہتے ہیں اور خیبر پختوںخواہ کی پولیس تو مثالی ہے اور عمران خان صاحب نے بھی مہر تصدیق بھی لگا ڈالی ہے کہ خیبرپختوںخواہ کی پولیس تو واقعی مثالی ہے اور ساری خرابیاں تو صرف پنجاب پولیس میں ہی ہیں۔
دوسری طرف نقیب اللہ مسعود کے قتل میں ملوث ایس پی راؤ انوار سلیمانی ٹوپی پہن کر غائب ہو گئے ہیں اور سندھ کے وزیر داخلہ بے چین نظر آتے ہیں کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک راؤ انوار کو گرفتار نہ کر لیا جائے۔ جب اس طرح کے ڈارمے وزیر داخلہ سندھ کی طرف سے کیے جائیں تو پھر کس کو سنائی دے گی چھوٹی بے نظیر کی فریاد۔
کیا ملک میں ایک عام آدمی کو سپریم کورٹ کا، سینیٹر نہال ہاشمی کے توہین عدالت کیس والا مثالی انصاف مل سکے گا کہ وہ صرف توہین عدالت کے مرتکب ہونے پر ایک ماہ قید، جرمانہ اور نا اہلی کے سزا کے حقدار قرار پائے اور انہیں سیدھا جیل جانا پڑا۔ کیا بریسٹر اعتزاز احسن کی نظم ”ریاست ہوگی ماں کے جیسی“ کبھی سچ ثابت ہو سکے گی؟ اور خیرپور کے حاضر سروس ججزز اور وکلا بھائیوں کو اپنے باپ اور خاندان کے کئی افراد کے قتل کا انصاف مل سکے گا یا پھر ہم ہمیشہ بس اسی طرح صرف سستے اور بر وقت انصاف کے حصول کے خواب دیکھتے رہیں گے؟
دنیا کی تاریخ گواہ ہے
عدل بنا جمہور نہ ہو گا
عدل بنا کمزور ادارے
عدل بنا کمزور اکائیاں
عدل بنا بے بس ہر شہری
عدل بنا ہر سمت دھائیاں



