تلور کے شکاری اور اونٹ پر بندھا پرندہ


اس کے چہرے پر ایک زہریلی سی مسکراہٹ کوندی تھی۔ ہمارے ملک میں یہی ہوتا ہے۔ وہ تو پرندے تھے، ناسمجھ ہمیں تو سمجھ داروں نے ان کے سامنے ڈال دیا تھا۔ چند روپوں کی خاطر ہماری معصومیت اور ہماری زندگیوں کو بیچ دیا تھا۔

اس نے ایک چھوٹا سا نوالہ لیا اور شیمپئن کا بڑا سا گھونٹ پی کر کہا تھا۔ ”ہم 19 بچے تھے۔ میں سب سے بڑا تھا، سات سال کا۔ ہم سب کو اغوا کیا گیا یا ہمارے والدین سے خریدا گیا تھا، اب میں تیس سال کا ہوں ہم نو بچے بچ گئے ہیں، باقی سب مرگئے ایک نامعلوم موت سسک سسک کر گھٹ گھٹ کر بیماری سے، اونٹوں سے گر کر، زمین پر گھسٹ گھسٹ کر۔ میں بچ گیا لیکن مجھے پتہ نہیں ہے کہ میں کون ہوں؟ میری ماں مجھے روتی ہوئی تلاش کرتی ہوئی مرگئی ہوگی یا اگر زندہ بھی ہوئی تو نہ جانے کہاں ہوگی؟ “ اس کے لہجے کا کرب الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میری سمجھ میں آگیا تھا کہ وہ اتنا اُداس کیوں ہے۔ اس کا وجود اس کے چہرے کا وہ درد میرے خیالوں میں آکر ابھی بھی کبھی کبھی مجھے بے چین کردیتا ہے۔

”ایسا کیا ہُوا تھا تمہارے ساتھ۔ “ میں نے اپنا گلاس خالی کرکے فلپائنی ویٹرس کو اشارہ کیا تھا کہ اسے بھر کر لے آئے اور اسے غور سے دیکھنے لگا تھا۔

”یہ تیئس سال پہلے کی بات ہے، جب میری آنکھ کھلی تو مجھے اونٹ، پتھر، پہاڑیاں اور داڑھی مونچھوں والے بڑے بڑے لوگ نظر آئے تھے۔ ان میں عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی مگران کے بچے ہم سے مختلف تھے۔ میں گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ گزرتے ہوئے ایک آدمی نے مجھے کھانے کے لیے مٹھائی دی تھی، پھر مجھے کچھ یاد نہیں کہ کیا ہُوا اورمیں اس جگہ کیسے پہنچا تھا۔ ہم میں سے کچھ بچے اسی طرح سے اغوا کیے گئے تھے اور کچھ بچوں کو ان کے خاندانوں سے خرید لیا گیا تھا۔ پتہ نہیں کیا مجبوری ہوگی ان ماؤں اور باپوں کی جنہوں نے اپنے بچوں کو بیچ دیا۔ وہ سارے بلوچ تھے اور بلوچی میں ہی بات کر رہے تھے۔ مجھے ان کی تھوڑی بہت باتیں یاد ہیں۔ آگے فوج کا ٹرک ہے، راستہ کھلا ہے، دن کو نہیں چلنا ہے۔ رات کا سفر ہوگا، چاند سے پہلے پہنچ جائیں گے، کمشنر سے بات ہوگئی ہے، سردار کا پیغام ہے۔ اسی قسم کی باتیں کرتے ہوئے نہ جانے کتنے دن اونٹوں کے قافلے میں ندی نالوں کے راستوں سے کبھی پہاڑوں کے جنگل میں تو کبھی صحرا کے سمندر میں چلتے رہے کہ ایک دن پتہ چلا تھا کہ اومان آگئے ہیں۔ اومان میں وہ لوگ چاراونٹوں کے علاوہ سارے اونٹ اور ہم انیس بچوں کوچھوڑ کر چلے گئے تھے۔ مجھے آج تک پتہ نہیں لگا وہ کون تھے اور ہمارا کتنے میں سودا ہوا تھا۔ ہم سب بچوں کو ایک اسباح میں لے جایا گیا تھا۔ اسباح اونٹوں کے اصطبل کو کہتے ہیں۔ صحرا میں بنے ہوئے ان اسباح میں اونٹوں کی پرورش ہوتی ہے انہیں تربیت دی جاتی ہے، اس اسباح میں ہم بچے تھے اور چند عربی نوکر جو وہاں کام کرتے تھے۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا تھا۔

شیمپئن کا ایک اور گھونٹ پینے کے ساتھ اس نے بولنا چاہا مگروہ بول نہیں سکا۔ اس کی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو تھے، نہ جانے اسے کیا یاد آگیا۔ اس نے اپنی انگلیوں سے آنسو صاف کیے اورآہستہ آہستہ بولنا شروع کیا تھا۔

وہ اسباح صحرا میں تھا، بڑے بڑے کمرے جہاں اونٹوں کے درمیان ہم لوگوں کا بھی ایک بڑا کمرہ تھا۔ دن بھرکی گرمی اور سیاہ راتیں۔ پہلے ہفتے ہی ہم سب بچوں کو ڈرا دیا گیا، ہمیں اندازہ ہو گیا کہ ہم سب مر جائیں گے۔ ایک ایسا خوف تھا اس اسباح میں۔ پہلے ہفتے ہی تین بچے اُلٹیاں کرتے ہوئے مر گئے تھے۔ مجھے ان کی معصوم شکلیں ابھی تک یاد ہیں۔ پھر ہمیں آہستہ آہستہ سمجھ میں آگیا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ صبح سے شام تک اسباح کے مختلف کام ہوتے۔ صبح ناشتے کے بعد اونٹوں کی لید کی صفائی پھر اونٹوں کے اوپر ہمیں باندھ کر اونٹ دوڑائے جاتے تھے۔ پہلے آہستہ آہستہ پھر تیز اور تیز۔ ہمیں اونٹوں کی دوڑ میں شتربان کی تربیت دی جارہی تھی۔ تربیت کے دوران ایک ایک کرکے اونٹوں پر بندھے بندھے چار بچے مرگئے تھے اورانہیں صحرا میں ہی کہیں خاموشی سے دفن کردیا گیا تھا۔

یہ کہہ کر وہ پھر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گیا تھا۔ میں اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ عجیب قسم کا کرب تھا، اس کے چہرے پر اس نے میری انکھوں سے آنکھیں ملاتے ہوئے مسکرانے کی ناکام کوشش کی اور دوبارہ بولنا شروع کیا تھا۔

وہ ایک عجیب جگہ تھی، ہم سب کو اونٹوں کی دوڑ کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔ ہمیں تربیت دینے والے جنگلیوں سے بھی بدتر تھے۔ دن بھر کے کام کاج اوراونٹوں کی دوڑ کے بعد رات کی تاریکی میں ہم میں سے کئی بچے خاموشی سے پامال بھی کیے گئے، چار دوسرے بچے رات کی تاریکی میں بھاگ گئے اور صحرا میں ہی کہیں کھوگئے۔ ہم روز سوتے تھے ڈرتے ہوئے لرزتے ہوئے، اپنے گھروالوں کو اپنی ماؤں کو اپنی بہنوں کو یاد کرتے ہوئے۔ کئی سال گزرگئے ہیں اور ابھی بھی کبھی کبھی رات سوتے ہوئے مجھے ان سسکتے بلکتے ہوے بچوں کی آوازیں آتی ہیں۔ خوف سے تھرتھراتی ہوئی صدائیں پھر کوئی صحرا کا بدو ان کی طرف جھپٹتا ہوا نظر آتا ہے، مجھے ایسا لگتا ہے جیسے چاروں طرف بدو گھوم رہے ہیں اپنے تنے ہوئے اعضا تناسل کے ساتھ ہم پر جھپٹنے کے لیے تیار، میں پناہ کے لیے بھاگتا ہوں، پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے نہ جانے کتنی دفعہ ان لوگوں نے ہمیں پامال کیا، ہمارا بلاد کار ہوا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3