تلور کے شکاری اور اونٹ پر بندھا پرندہ


میرا سر گھوم گیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی کہیں ہُوا ہوگا، ایسا بھی کہیں ہوتا ہوگا، یہ کیسی باتیں کررہا ہے یہ شخص۔ اتنی بھیانک باتیں مگروہ سچ کہہ رہا تھا، سارا سچ۔ بڑے لوگ دولت مند انسان اپنی عیاشی اور اپنی تفریح کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں۔ ماؤں کی گودیں اجاڑدیتے ہیں، باپوں کے سپنے روند دیتے ہیں، بہنوں کا مان توڑدیتے ہیں، چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے جسموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، سب کو پتہ ہوتا ہے اور سب لوگ اپنی آنکھیں بند کرکے رکھتے ہیں۔ کیسے دل ہوتے ہیں ان لوگوں کے۔ کیا مذہب، نظریہ، ایمان، اعتقاد ہوتا ہے ان لوگوں کا۔ ایک شدید نفرت کا طوفان اُٹھا تھا میرے دل میں۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو تسلی دی، اپنے آنسوؤں کو روکا۔ مجھ سے شیمپئن نہیں پی گئی تھی۔

آپ پرندوں کو بچانے میں کیسے کامیاب ہوتے، آپ کا ملک تو بچوں کو نہیں بچا سکتا۔ ان کا اغوا ہوتا ہے، انہیں بیچا جاتا ہے، انہیں پامال کیا جاتا ہے، انہیں ماردیا جاتا ہے، ان کی مائیں ان کا خاندان ان کی یاد میں آنسو بہا بہا کر ایک دن مرجاتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ ان کے بچے کہاں کھو گئے۔ میں ان چند بدقسمتوں میں تھا جو بچ گئے۔

چار سال بعد جب میں گیارہ سال کا تھا اور اب اس قابل نہیں تھا کہ شتربانی کروں تو مجھے پاکستان واپس بھیجنے کی بجائے دبئی بھیج دیا گیا تھا جہاں چنیوٹ کے ایک خاندان نے مجھے اپنا لیا تھا، ان کے کوئی بچے نہیں تھے انہوں نے مجھے والدین کا پیار دیا، پالا، پڑھایا۔ اب میں ان کے خاندان کا فرد ہوں لیکن ابھی بھی وہ گھر در اور گھر میں گھومتی پھرتی ہوئی ماں جھاڑو لگاتی ہوئی، بہن میرے یادوں کے دریچوں میں جھانکتی ہیں، اپنے آنسو بھرے چہروں کے ساتھ لیکن میں انہیں پا نہیں سکتا ہوں، میں ان کے لیے کھوگیا ہوں، وہ میرے لیے مرگئے ہیں۔

اس کے اداس وجود پر مجھے پیار بھی آیا، رحم بھی مجھے تلور کا شکار کرتے ہوئے۔ عربی ہاتھوں سے اڑتے ہوئے جھپٹتے ہوئے شکاری باز نظر آتے تھے جنہیں ہم نہیں ہراسکے تھے۔ کالے کوٹوں میں ملبوس خرانٹ وکیل اور اوپر بینچ پر بیٹھے ہوئے مضحکہ خیز لباس پہنے ہوئے جج دکھائی دیے۔ میں نے سوچا تھا ان کے سروں پر گھومنے والے پنکھے ان کے سروں پر کیوں نہیں گرتے ہیں۔ ان کے کمروں کو ٹھنڈا کرنے والی مشین آگ کیوں نہیں اگلتی ہیں۔ ان کے چہرے جھلستے کیوں نہیں، یہ مر کیوں نہیں جاتے، یہ مر کیوں نہیں جاتے۔ اگر کوئی انصاف کرنے والا ہے تو انصاف کیوں نہیں ہوتا ہے؟

مجھے وہ سسکتے بلکتے بچوں کے ساتھ نظر آیا جنہیں ہم نہیں بچا سکے تھے، میں نے اس کے چہرے پر نظرڈالی اور زاروقطار رو دیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3