ڈارک ویب پر بچوں کی فحش فلمیں بنانے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق ڈارک ویب پر بچوں کی فحش فلمیں بنانے کے دھندے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں ہے۔ ایف آئی اے کے ادارہ برائے سائبر کرائم کو کسی پاکستانی کی طرف سے بچوں کی فحش فلموں کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کے متعلقہ شعبے نے انٹرپول اور غیرملکی سفارت خانوں کی اطلاعات پر تحقیق کی ہے لیکن پاکستان سے اس قسم کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 26 جنوری کو ملکی تاریخ میں پہلی بار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی بالخصوص بچوں کی فحش فلموں کے حوالے سے ایک خاص سیل قائم کیا ہے۔ اس ضمن میں ایف آئی اے کے علاقائی دفاتر کو فوری تحقیق کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم کے بعد گزشتہ اتوار کو جھنگ سے ایک شخص گرفتار کیا گیا تھا۔ اس شخص کو کینیڈا کی پولیس سے ملنے والی ایک اطلاع کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ الزام تھا کہ یہ شخص بچوں کی فحش فلمیں بنانے میں ملوث ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈارک ویب پر موجود بچوں کی فحش فلموں میں پاکستانی بچوں پر مبنی مواد ایک فیصد سے بھی کم پایا گیا ہے۔ مزید براں، قصور میں 2015 کے دوران سامنے والے اسکینڈل میں کسی غیرملکی گروہ کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ ممکنہ طور پر کچھ پاکستانی اس قسم کا مواد انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کرنے میں ملوث ہو سکتے ہیں لیکن اس بات کو کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ مواد پاکستان میں تیار کیا گیا ہے۔
دوسری طرف کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ شواہد نہ ملنے کے باوجود پورے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان میں یہ دھندا نہیں ہو رہا۔


