ماسٹر جی  کی قبر


ہمارے چھوٹے سے گاﺅں کا اسکول ایک ہی کمرے میں محدود تھا۔ یہ کمرہ بھی کچی دیواروں سے بنا تھا۔ اسکول میں پہلی جماعت سے لے کے پانچویں جماعت تک پڑھایا جاتا تھا۔ لڑکیاں یعنی بچیاں اتنی کم نہیں کہ ایک ہی بینچ پہ سما جاتی تھیں۔ اسکول کے کونوں کھدروں میں جنگلی پودے اگے تھے۔ میں بینچ کے سرے پر ہی بیٹھتی کہ پاس اگے ہوئے پودے کو ہاتھ لگاتی رہوں۔ ایسا کرنا مجھے اچھا لگتاتھا۔ ہم بچیوں کا ٹولا ہر آدھے گھنٹے کے بعد پانی پینے نکلتا تھا۔ ماسٹر جی سے پانی پینے کے لئے جانے کے لئے ایک مخصوص انداز میں ہاتھ جوڑ کے پانی کیلئے جانے کی اجازت لی جاتی تھی جو وہ بغیر کسی پس و پیش کے گردن ہلا کے دے دیتے تھے۔

اسکول میں پانی پینے کا بندوبست نہ تھا۔ پانی پینے کیلئے قریبی نہر پہ جانا پڑتا تھا۔ ہمارا اصل مقصد ہمیشہ پانی پینا نہیں ہوتا تھا بلکہ گھوم کے آنا چکر لگا کے آنا ہوتا تھا۔ ہم لوگ ہمیشہ سست قدموں سے باتیں کرتے ہوئے جاتے اسی انداز میں ہی واپس آتے تھے۔ ماسٹر جی ہمیشہ ہی صاف ستھرے کپڑے پہنتے، اسکول میں آکر کسی بچے کو بھیج کر قریبی شیدیوں کے محلے سے سرمہ دانی منگوا کے آنکھوں میں سرمہ لگاتے تھے۔ دراز میں آئینہ پڑا ہی رہتا تھا جو وہ وقفے وقفے سے نکال کے اپنا منہ دیکھتے۔ وہ تقریباً روزانہ ہی قرآن شریف کی تلاوت کے عادی تھے۔ جس دن حساب پڑھانا ہوتا، صبح ہی صبح کسی لڑکے کو بھیج کے درخت کی تازہ ترین چھڑی منگواتے جس سے ہمیں اندازہ ہوجاتا آج ہم حساب پڑھیں گے۔ اور اب خیر نہیں ہے۔ گھنٹوں کی مغز ماری کے بعد بھی ہم لوگ وہی ڈھاک کے تین پات والا منظر پیش کررہے ہوتے تھے جس پر ان کو خوب خار چڑھتی اور نتیجے کے طور پر باری باری ہماری پٹائی کی جاتی تھی۔ ہفتے میں دو یا تین دفعہ کی پٹائی لازم امر تھی۔ اس طرح پٹتے پٹتے ہم بچیوں کے ٹولے کو ان سے نفرت ہوچلی تھی۔ پھر ہوتا کچھ یوں تھا کہ ماسٹر جی سے بدلا لیا جاتا۔ وہ اس طرح کہ پانی پینے کی چھٹی لے کے ہم لوگ اسکول کے پیچھے چلے جاتے جہاں ہر ایک بچی گڑھا سا کھود کے اس میں چھوٹی سی لکڑی ڈال کے اوپر مٹی ڈال دی جاتی اس طرح ہم آپس میں گفتگو کرتے تھے کہ کسی نے ماسٹر جی کی کتنی قبریں بنائیں۔ اسی جگہ ہی کانٹوں کی باڑکے پیچھے کولھیوں کا محلہ تھا۔

ایک دفعہ جب ہم ماسٹر جی کی اچھی خاصی تعداد میں قبریں بنا کے کلاس میں پہنچے تو ماسٹر جی بپھرے بیٹھے تھے۔ اصل میں پیچھے جو کولھیوں کا محلہ تھا وہاں سے کسی کولہی نے مخبری کردی تھی ۔ ماسٹر جی باری باری ایک ایک کو بلاتے جھانپڑ دیتے گئے۔ اس دن کے بعد سے قبریں بنانا بھی چھوڑ دیں۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ اسی طرح کئی برس بیت گئے۔ ہم بڑے ہو گئے۔ میرے علاوہ میری سب سہلیوں کی شادی ہوگئی تھی ۔

میں نے ماسٹرز کے بعد کئی جگہ اپلائے کیا تھا۔ بالآخر مجھے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں جاب مل گئی۔ جہاں کچھ عرصے میں، میں اپنی پوسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے میڈیکل سوشل ورک پروجیکٹ میں کروا لی۔ اس پروجیکٹ کے زکوٰاة فنڈ سے غریب مریضوں کا علاج کروایا جاتا تھا۔ ایک دفعہ میں اپنے آفس میں بیٹھی تھی۔ حسب معمول بہت رش تھا۔ اس دوران ایک بوڑھا اور کمزور آدمی میرا پتہ پوچھتا یہاں آنکلا تھا۔ اس نے بتایا کہ میں آپ ہی کے گاﺅں سے آیا ہوں۔ میں ان کو پہچان چکی تھی۔ وہ ہمارے ماسٹر جی تھے جو اب بہت بوڑے اور کمزور ہو گئے تھے۔ ان کا یہ حال دیکھ کہ مجھے بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے ہمیں پڑھانے سنوارنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی ۔ ساتھ ہی پٹائی بھی اسی لئے ہی کی تھی کہ کچھ پڑھ لکھ جائیں۔ میں نے ان کا علاج بہت توجہ اور دل سے کروایا تھا۔ ڈاکٹر کے پاس خود لے جاتی تھی یا دوسری صورت میں اپنے آفس کا بندہ ساتھ کردیتی کہ ان کو کوئی مشکل نہ ہو۔ پر ان کو بڑی بیماری تھی جو پھیل گئی تھی۔ چند ماہ میں ماسٹر جی انتقال کرگئے۔ اگر آج بھی اس جگہ جاکے کچھ کھدائی کی جائے تو اسکول والی جگہ پہ ہماری بنائی ماسٹر جی کی سینکڑوں قبریں ملیں گی۔

Facebook Comments HS