انکل چیف جسٹس، ہمارا گراؤنڈ بچا لیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انکل، میرا نام مہد ہے اور میں چھٹی کلاس میں پڑھتا ہوں۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں، اور میں سب سے بڑا ہوں۔ ابو اسلام آباد میں ایک دفتر میں کام کرتے ہیں۔ ہم ابو کے دفتر کے نزدیک ہی ایف ایٹ مرکز میں ایک پلازے کی اوپر والی منزل میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ ہمارے گھر میں کھیلنے کی جگہ بالکل نہیں ہے، ہاں نیچے ایک گراؤنڈ ہے۔ ہم دوپہر کے بعد وہاں چلے جاتے تھے، ساتھ والے گھروں سے، فلیٹوں سے، بلکہ دکانوں، ہو ٹلوں اور ورکشاپوں سے بھی ہمارے جیسے اور بھی بہت سے بچے وہاں آ جاتے تھے اور ہم سب خوب بھاگتے دوڑتے تھے، فٹ بال اور کرکٹ کھیلتے تھے۔

کبھی کبھی تو امی ابو بھی ہمارے ساتھ نیچے چلے جاتے تھے۔ ابو واک کرتے رہتے تھے اور امی دوسری آنٹیوں سے باتیں۔ گرمیوں میں تو ہم اکثر ہی رات کے کھانے کے بعد وہاں چلے جایا کرتے تھے، کچھ دیر کے لئے اپنے فلیٹ کی گرمی سے بھی بچ جاتے تھے، کچھ کھلی ہوا میں سانس بھی لے لیا کرتے تھے۔ امی کہا کرتی تھیں اس گراؤنڈ میں تو ہر وقت بچوں کی وجہ سے میلہ لگا رہتا ہے۔

پھر ایک دن وہاں پر کالے کوٹ پہنے ہوئے ڈھیر سارے انکل آگئے، انہوں نے زمین پر کچھ لائنیں لگانا شروع کر دیں اور ہم بچوں کو وہاں سے بھاگ جانے کوکہا۔ ہم وجہ پوچھتے تھے تو وہ ہمیں ڈانٹتے تھے۔ ہم سارے بچے ڈر کر وہاں سے چلے گئے۔ ابو نے کھڑکی سے دیکھ کر بتایا، ساتھ کی کچہری سے وکیل ہیں۔ اگلے روز وہاں کھدائیاں بھی شروع ہو گئیں اور اینٹیں اور بجری بھی آگئی، کچھ کمرے بننا شروع ہو گئے۔ ان دنوں ہمیں سکول سے چھٹیاں تھیں اور ہم کھڑکی سے نیچے جھانکتے رہتے تھے۔ ایک روز ایک پولیس والی گاڑی آئی تو کالے کوٹ والے انکل ان سے بہت بدتمیزی سے پیش آتے رہے۔ ایسے موقعوں پر نہ جانے کہاں سے اتنے وکیل انکل جمع ہو جاتے تھے؟ پولیس والے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔ ایک اور روز ایک ٹرک میں کچھ لوگ آئے۔میں نےوہ ٹرک والے لوگ پہلے بھی ایک دفعہ اپنے سکول کے باہر دیکھے تھے، وہاں لگی ساری ریڑھیاں انہوں نے اٹھا لی تھیں۔ ریڑھی والوں نے ان کی بڑی منتیں بھی کی تھیں۔ ایک دو ریڑھی والے تو رو بھی پڑے تھے۔ ٹرک والے پھر بھی سب کچھ لے کر چلے گئے۔ لیکن کوٹ والے انکل تو ان سے بھی نہیں ڈرے، الٹا انہیں پتھر مارنا شروع کر دیئے۔ ڈرائیور کے تو سر پر بھی پتھر لگا، شاید خون بھی نکلنے لگا۔ ان کے ایک ساتھی کی عینک بھی گر گئی۔ ٹرک کا اگلا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ پھر وہ ٹرک بھی واپس چلا گیا۔ اس کے بعد ہم نے دوبارہ وہاں وہ ٹرک نہیں آتے دیکھا۔

 بیچ میں کچھ دیرکے لئے کمرے بننا رک بھی گئے تھے، پھر کچھ دنوں بعد دوبارہ شروع ہو گئے۔اب تھوڑی سی جگہ رہ گئی ہے، وہ بھی جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ کچھ گاڑیاں بھی وہاں کھڑی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اب ہم بچے وہاں نہیں جاتے۔ اگر کبھی چلے بھی جائیں تو وہ انکل وہاں سے بھگا دیتے ہیں۔ اب ہم کہیں بھی نہیں جاتے۔ آس پاس کوئی گراؤنڈ اور پارک نہیں۔ اب ہم بھاگتے دوڑتے بھی نہیں، فٹ بال اور کرکٹ بھی نہیں کھیلتے، سارا دن گھر ہی رہتے ہیں۔ ہماری تو اور کوئی تفریح بھی نہیں۔ اگر ہمارے ابو کے پاس گاڑی ہوتی تو شاید وہ ہمیں کسی اور پارک میں لے جاتے یا سیر کے لئے کسی اور جگہ۔

سکول کے ٹیچر کہتے ہیں بھا گا دوڑا کرو ، تمھارے بھاگنے دوڑنے کے دن ہیں، گھر والے کہتے ہیں ہر وقت ٹی وی کے سامنے نہ بیٹھا کرو۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی ہم کیا کریں، کدھر جائیں؟

اردو کی میڈم نے صبح کی سیر پر مضمون پڑھایا تو تاکید کرتی تھیں کہ سیر کیا کرو۔ گراؤنڈ ختم ہو گیا تو کیا اب ہم بچے سڑک پر سیر کیا کریں؟

گھر میں بیٹھے رہتے ہیں تو ہم بہن بھائیوں کی آپس میں بھی لڑائی ہوتی رہتی ہے۔ کچھ نہ کچھ غلط بھی ہوتا رہتا ہے۔ سارا وقت امی ابو سے ڈانٹ پڑتی رہتی ہے۔

 میرے ایک بھائی کو کرکٹ کا بہت شوق ہے، کہا کرتا تھا بڑا ہو کر بیٹسمین بنوں گا، پاکستان کی ٹیم میں کھیلوں گا۔ اب تو وہ کرکٹ نہیں کھیل سکے گا، کرکٹر نہیں بن سکے گا۔ اتنے دنوں سے اس کا چھوٹا سا بیٹ کمرے کے کونے میں پڑا ہے، اس نے چھوا تک نہیں!

پچھلے سال جب ہم نے اردو کی کتاب میں قائد اعظم پر مضمون پڑھا تھا تو ہماری ٹیچر نے پو چھا تھا کہ کون کون سا بچہ وکیل بننا چاہتا ہے۔ اس وقت میں نے اور میرے دوست نے ہاتھ کھڑا کیا تھا ۔ اب ہم دونوں سوچتے ہیں وکیل نہیں بنیں گے۔ دوسرے لوگ بھی اس خیال پر اب ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور تو اور امی بھی پوچھتی ہیں وکیل بن کر کیا یہی سب کچھ کرنا ہے؟ ابو البتہ کہتے ہیں اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ اس پر امی کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اچھے لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو اپنے ساتھیوں کے غلط کاموں پر خاموش نہ رہیں، بلکہ انہیں روکیں!

انکل، جب میرے ابو شروع شر وع میں کچھ پڑوسیوں کے ساتھ ان سے بات کرنے گئے تھے کہ وہ بچوں کے گراؤنڈ پر قبضہ کر کے غلط کر رہے ہیں تو وہ ابو سے بحث کرتے تھے کہ حکومت ہمیں ہمارے کام کے لئے زمین نہیں دیتی، اس لیے ایسا کرنا ان کا حق تھا۔ میں بھی ساتھ تھا۔ میر ادل کیا کہ ان سے پوچھوں کہ یہ بھلا کیا بات ہوئی، اتنی تو مجھ جیسے چھوٹے بچے کو بھی سمجھ آتی ہے، اس طرح تو ہر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حکومت نے اس کو کام کے لئے زمین نہیں دی۔ میری خالہ کے بڑے بیٹے ڈاکٹر بن رہے ہیں، کیا وہ بھی ہسپتال کے لئے زمین مانگیں گے، نہ ملی تو کسی گراؤنڈ پر قبضہ کر لیں گے؟ اور پھر یہ ہوٹلوں والے، دکانوں والے، ریڑھیوں اور ٹھیلوں والے، تو کیا یہ سب دوسروں کی جگہ پر قبضہ کر لیں؟ شاید ریڑھیوں اور ٹھیلے والے نہیں، وہ اتنے طاقتور نہیں ہوتے!

اور پھر یہ بات تو انہیں اس وقت سوچنی چاہئے تھی جب انہوں نے وکیل بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت نے یا کسی اور نے انہیں کہہ کر تو وکیل نہیں بنایا ناں۔ میں پھر بھی خاموش ہی رہا کہ کہیں وہ انکل مجھے یا میرے ابو کو کچھ کہہ ہی نہ دیں۔ ویسے بھی چھوٹی سی بات پر نہ جانے کہاں سے اتنےڈھیر سارے وکیل انکل اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ابو کو کہنے لگے آپ شریف آدمی ہیں، جائیں اپنا رستہ لیں!

بعد میں ایک روز ابو اور کچھ اور لوگ وہیں کچہری میں ایک جج صاحب کے پاس بھی گئے تھے، شاید کوئی کیس بھی کیا تھا لیکن وہ بتا رہے تھے جج صاحب نے تو الٹا وکیلوں کا ہی ساتھ دیا۔

میرے ابو دفتر سےجو اخبار لاتے ہیں، ہمیں بھی پڑھنے کا کہتے ہیں کہ مطالعہ کی عادت پڑتی ہے۔ میں نے آپ کی ساری خبریں غور سے پڑھی ہیں۔ آپ نے سارے غلط شادی ہال بھی گروا دئے ہیں ناں، اور ویگنوں کے اڈے بھی، اور دوسری چیزیں بھی۔ آپ نے بہت سے لوگوں کو سزائیں بھی تو دی ہیں ناں۔ پھر تو یہ اور بھی غلط بات ہوئی ناں کہ آپ اپنے ساتھیوں کو کچھ نہیں کہتے۔آپ کے لئے تو سب برابر ہونے چاہئے۔ دوسرے لوگ کیا سوچتے ہوں گے۔ اللہ میاں بھی ناراض ہوتے ہونگے۔ اور آپ کو تو ویسے بھی انصاف کرنا ہے، کوئی کچھ بھی کہے!

یاد ہے ناں آپ نے یہ بھی ایک دن کہا تھا وکیل میری فوج ہیں، تو انکل اپنے سپاہیوں کو حکم دیں ناں کہ غلط کام نہ کریں۔

آپ تو سب سے طاقتور ہیں، ابو بتاتے ہیں آپ ملک کے وزیر اعظم کو بھی گھر بھیج سکتے ہیں تو پھر ڈر کیسا؟

 ویسے بھی اچھے کام پر تو ہم سب بھی آپ کا ساتھ دیں گے، آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

ابو کہتے ہیں باقی سب لوگ آج کل وکیلوں سے بہت ڈرتے ہیں، کچھ نہیں کریں گے، بلکہ یہ بھی ڈر ہے کہ کچھ کیا تو کوئی پتا نہیں آپ ہی بلا لیں اور الٹا انہی کو ڈانٹنا شروع کر دیں۔

انکل، اسلام آباد میں تو آپ بھی بیٹھے ہیں، دوسرے بڑے لوگ بھی، اگر یہاں پر بچوں کے میدانوں پر قبضہ ہو گیا تو پھر باقی شہروں میں، باقی جگہوں پر تو ایسا ضرور ہو گا۔ اِن کو نہ روکا گیا تو آہستہ آہستہ ہمارے سارے گراؤنڈ ختم ہو جائیں گے۔ اس وقت تو دیر ہو چکی ہو گی، پھر تو کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔

اسی لئے سب بچوں کی طرف سے آپ سے مدد مانگ رہا ہوں۔

جب میں نے کچھ دن پہلے ابو کو بتایا تھا کہ آپ کو خط لکھوں گا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا تھا۔ وہ کہتے تھے عدالت کی توہین ہو جاتی ہے، ہم جیسے لوگوں کو احتیاط کرنی چاہئے، ایسے معاملوں سے بچنا چاہئے، اس لئے یہ خط میں ان سے چھپ کر لکھ رہا ہوں۔

 انکل، آپ کو میری کوئی بات اچھی نہ لگی تو پلیز برا مت مانئے گا، مجھے یا میرے ابو کو کچھ کہئے گا بھی نہیں۔ گراؤنڈ نہ بچا تو کوئی بات نہیں، ہم بہن بھائی بستر پر ہی یسو پنجو کھیل لیا کریں گے!

یہ مضمون پہلی مرتبہ 05/02/2018 کو ہم سب پر شائع ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •