افضل گورو کی آٹھویں برسی پر بھارتی کشمیر میں جزوی ہڑتال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی پارلیمان پر دسمبر 2001 میں ہونے والے حملے کے مجرم قرار دیے گئے کشمیری باغی محمد افضل گورو کی آٹھویں برسی پر منگل کو وادیٔ کشمیر میں جزوی ہڑتال جاری ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مرکزی مقام لال چوک، ملحقہ علاقوں، پُرانے شہر اور افضل گورو کے آبائی علاقے سوپور سمیت وادیٴ کشمیر کے بعض دوسرے حصوں میں کاروبارِ زندگی متاثر رہا۔ باقی ماندہ وادی میں جزوی ہڑتال کی جارہی ہے۔

جموں اور لداخ کے علاقوں میں ہڑتال کی اپیل کے باوجود معمولاتِ زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

ہڑتال کے لیے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم کسی تنظیم نے باضابطہ طور پر تو کوئی اپیل نہیں کی تاہم سرکردہ آزادی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے پاکستان میں مقیم نمائندے عبداللہ گیلانی نے چند روز قبل اپنے ایک بیان میں ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

کشمیری عوام سے اپیل میں کہا گیا تھا کہ وہ ​نو فروری کو افضل گورو اور 11 فروری کو قوم پرست کشمیری رہنما اور جموں کشمیر نیشنل لبریشن فرنٹ کے شریک بانی محمد مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر اپنا کاروبار معطل رکھیں۔ اس اپیل کی سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر کی گئی تھی۔

دوسری جانب افضل گورو کی برسی کے موقع پر مسلم اکثریتی وادیٴ کشمیر میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

کیا حکومتی اقدامات سے بھارتی کشمیر میں علیحدگی پسند جماعتیں جمود کا شکار ہو گئی ہیں؟

حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس اور وفاقی حفاظتی فورسز مزید دو روز تک ہائی الرٹ پر رہیں گی۔

یاد رہے کہ مقبول بٹ کی طرح افضل گورو کو بھی پھانسی دینے کے بعد ان کی لاشیں جیل کے احاطے ہی میں دفن کی گئی تھیں۔

گیارہ فروری کو مقبول بٹ کی برسی کے موقع پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

مقبول بٹ کو دِلی کی تہاڑ جیل میں 11 فروری 1984 کو پھانسی دی گئی تھی۔ اُن پر کشمیر میں 1960 کی دہائی کے وسط میں ایک بھارتی انٹیلی جنس افسر امر چند کو قتل کرنے کے مقدمے میں مجرم قرار دے کر مقامی جج نیل کنٹھ گنجو نے موت کی سزا سُنائی تھی۔

مذکورہ جج کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے عسکریت پسندوں نے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں 1989 میں سری نگر کے ایک بھرے بازار میں گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

‘افضل گورو کی باقیات کا انتظار رہے گا’

افضل گورو کی اہلیہ تبسم گورو نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی آخری سانس تک شوہر کی باقیات کا انتظار کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ افضل گورو کو من پسند اور اسلامی روایات کے مطابق دفن کرنے کی اخلاقی اور انسان دوست بنیادوں پر کی جانے والی درخواست کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

تبسم گورو کے بقول بھارتی حکومت نے اُن کی جانب سے کی جانے والی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

افضل گورو پر الزامات کیا تھے؟

تیرہ دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمان پر دہشت گردوں کے حملے میں آٹھ سیکیورٹی اہلکار اور ایک مالی ہلاک اور 16 افراد زخمی ہوئے تھے۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ مشتبہ دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

بھارتی حکومت نے حملے کے لیے عسکری تنظیم ‘جیش محمد’ کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ افضل گورو پر حملہ آورں کی اعانت کر کے بھارتی حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور حملے کے لیے کی گئی سازش میں شامل ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

لداخ تنازع: بھارتی کشمیر میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ

بھارتی سپریم کورٹ نے افضل گورو کو انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا۔ “جرم کی سنجیدگی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس واقعے (پارلیمنٹ پر حملے) نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور سوسائٹی کے اجتماعی ضمیر کو صرف مجرم کو سزائے موت دینے سے ہی مطمئن کیا جا سکتا ہے۔”

کیا افضل گورو کو پھانسی دینے میں جلد بازی کی گئی؟

انسانی حقوق کی تنظیم ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ نے افضل گورو کے خلاف مقدمے کے دوران اپنائے گئے طریقۂ کار کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ملزم کو موزوں قانونی نمائندگی فراہم نہیں کی گئی۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ افضل گورو کو رازداری کے ساتھ تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ بعض قانونی ماہرین اور سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ افضل گورو کو تختۂ دار پر لٹکانے میں نہ صرف جلد بازی سے کام لیا گیا بلکہ اس سلسلے میں قانونی لوازمات کو بھی بالائے طاق رکھا گیا۔

ماہرین سمجھتے ہیں افضل گورو کی پھانسی کے پیچھے نئی دہلی حکومت کے سیاسی مقاصد کار فرما تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1132 posts and counting.See all posts by voa