عمران خان، سابق پلے بوائے کرکٹر اور ممکنہ وزیراعظم کا انٹرویو-1
انٹرویو: بین جوڈاہ، دی ٹائمز، برطانیہ۔ ترجمہ ہم سب نیوز۔
عمران خان، آکسفورڈ میں پڑھا ہوا سابقہ پلے بوائے کرکٹر، پاکستان کی الیکشن مہم میں اپنی بکتر بند گاڑی میں گرج رہا ہے۔ ہارن بجتا ہے۔ ہجوم چلاتا ہے۔ اس کے سپر فین موٹر سائیکلوں پر اس کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ سڑکوں پر ہزاروں افراد اس کے جھنڈے تھامے کھڑے ہیں۔ پنجاب کے منڈی بہا الدین نامی چھوٹے سے شہر کو ہیجان اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ لیکن خان ابھی میلوں دور ہے۔
”برطانوی سیاست بالکل بورنگ سیاست ہے۔ اگر مجھے برطانوی سیاست میں شامل ہونا پڑ جاتا تو میں میں دو ماہ میں ہی خودکشی کر لیتا“ عمران نے بتایا۔
چھت پر دھموکے کی آواز آئی۔ سپورٹر عمران خان کی گاڑی پر لپک رہے ہیں۔ لیکن جہاں تک خوشامد کی بات ہے تو جس شخص کی کپتانی میں پاکستان نے 92 کا ورلڈ کپ جیتا تھا، سب کچھ دیکھ رکھا ہے۔ ”برطانوی سیاست، واحد پرجوش چیز اس وقت ہوتی ہے جب صورت حال میں جمود کے خلاف جرمی کوربن کوئی نام نہاد ہیجان خیز بیان دیتا ہے۔
بے داغ سفید شلوار قمیض میں ملبوس عمران خان ہجوم کو دیکھ کر ایک تسلی آمیز انداز میں سر ہلاتا ہے۔ بہت زیادہ حاضری ہے۔ ہم نے اسلام آباد سے بمشکل ساڑھے تین گھنٹے کا سفر طے کیا ہے۔ باربردار گدھے اور تباہ حال دیہاتی کھڑکیوں سے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس دوران وہ خدا سے لے کر جمائمہ سے شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دونوں بیٹوں اور آکسفورڈ کے کیبل کالج میں اپنے سنہرے دنوں کے متعلق بولتا رہا ہے۔ ”پاکستانی سیاست، یہ کتنی پرجوش کر دینے والی سیاست ہے“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تمام توقعات کے خلاف، پاپارازی فوٹوگرافروں کا پوسٹر بوائے جو ایک وقت میں ڈیلی مرر کے لئے اپنے زیرجاموں میں تصویر اتروا چکا ہے، ایک ایسے شخص کے طور پر سامنے آیا ہے جسے بیک وقت طالبان اور پاکستان کی طاقت ور خفیہ ایجنسی پاکستان کا اگلا لیڈر دیکھنا چاہتے ہیں۔
بائیس برس تک مسلسل کوشش اور بدترین ناکامی کے بعد وہ ایک مذاق بن کر رہ گیا تھا۔ ایک اخبار نے تو اس پر طنزیہ کالم بھی لکھا ”عم دی ڈم“۔ (Im the Dim) لیکن اب عمران کے پاس جولائی میں ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم بننے کا سب سے بہترین موقعہ ہے۔ 65 سال کی عمر میں کچھ معاون یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ اس کا آخری موقعہ ہو سکتا ہے۔
”لوگ مجھ پر ہنستے تھے، لیکن مجھے ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ جیت میری ہو گی۔ جو بھی ہو، لیکن میں جیتوں گا، اوکے؟ “ عمران نے کہا جیسے وہ ڈمران کہنے والوں کے اداس چہروں کو تصور میں لا کر لطف اندوز ہو رہا ہو۔
اپنے دشمنوں پر برستے ہوئے، جیت جیت اور صرف جیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کی یاد دلاتا ہے۔ امریکی صدر کے متعلق اپنی انتہائی نفرت کے باوجود جسے عمران ”جاہل اور ناشکرگزار“ کہتا ہے، ان دونوں کا تقابل نہ کرنا مشکل ہے۔
ٹرمپ کی طرح عمران بھی دولت مند اشرافیہ سے ابھرا، شخصی مقبولیت کی لہر پر سوار، خود کو ہر گمنام شخص کی آواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے، کمزور لبرلوں، سیاستدانوں کی کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف مہم چلاتے ہوئے۔
اور ٹرمپ ہی کی طرح یہ بوڑھا ہوتا ہوا اور اپنے بالوں کے بارے میں نہایت متفکر سٹار بھی جنسی ہراسانی کے الزامات کی زد میں آیا ہے۔ عمران بھی ایک پاکستانی ”می ٹو“ کے دعوے کا نشانہ بنا ہے۔ جب اس سے اسی کی پارٹی کی ممبر اسمبلی عائشہ گلالئے وزیر کا ذکر کیا جاتا ہے جس نے اس پر گندے میسیج بھیجنے کا الزام لگا کر پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تو اس کی تسبیح کے دانے تیزی سے گرنے لگتے ہیں۔
اپنی بکتر بند گاڑی میں محفوظ بیٹھے، جس کے آگے مسلح محافظوں کی پک اپ چل رہی ہے، وہ ان الزامات کو جھٹلا دیتا ہے ”اسے اس کام کے لئے رقم دی گئی تھی“۔ وہ اپنے دشمنوں پر خود کو بدنام کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔ بھلا کیسے بدنام؟ فیک نیوز سے۔ ”آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجھے کس چیز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ “
اسی دوران اس کے ناقدین اس پر ایک ایسا زانی ہونے کا الزام لگاتے ہیں جو اپنے پلے بوائے ماضی سے کبھی دور نہیں ہو پایا۔ مصنف سلمان رشدی نے خبردار کرتے ہوئے اسے ایک ”انتظار کرتے ہوئے ڈکٹیٹر“ کا خطاب دیا۔ لیکن وہ مغرب زدہ محبوب نہیں ہے۔ وہ پاکستانی جو عمران جیسے ہیں، انگریزی بولنے والے، دبئی کے پھیرے لگانے والے، ہائی ٹی پینے والے اپر کلاس، وہ ہیں جو اس کے بارے میں سب سے زیادہ مشکوک ہیں۔ یہ احساس دو طرفہ ہے۔
عمران ان ”لبرلوں“ پر حملہ کرتا ہے جو نیٹو کی طالبان کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو خونی لبرل کہتا ہے۔ ”انہیں کوئی آئیڈیا نہیں ہے۔ وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ انگریزی زبان کے اخبارات پڑھتے ہیں اور جو اصل پاکستانیوں سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ ہمارے دیہات میں بھٹک جائیں گے“۔
اسلام آباد میں عمران خان کے بلاوے کا انتظار کرتے ہوئے مجھے اس عرفیت کا پتہ چلا جو لبرلوں نے عمران کو دی ہے، طالبان خان۔ وہ محض کسی حد تک ہی مذاق کرتے ہیں۔ طالبان کی حمایت میں وہ اس حد تک گیا ہے کہ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں پاکستانی شہروں میں دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ ”پاکستان میں امریکی ڈرون حملے رکنے چاہئیں۔ یہ قتل عام ہے اور اس کی اصل وحشت مغرب سے پوشیدہ ہے“۔
وہ شخص جو کبھی ایک یہودی ارب پتی کی بیٹی سے شادی شدہ تھا اب اسرائیل پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ”امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے“ اور امریکی امداد کو پاکستان کو ”غلام“ بنانے کی باعث قرار دیتا ہے۔
اس وقت یہ تصور کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کسی وقت چیتے کی کھال جیسی پینٹ پہنے مے فیئر کے انابیل نائٹ کلب میں رقص کرتا ہو گا جب وہ مجھے قرآنی آیات سناتے ہوئے خود کو ایک ”مکمل قوم پرست“ قرار دیتا ہے۔ یہ آواز ایسی محسوس ہوتی ہے جسے ٹیٹلر ”کاسمو خان“ کہتا ہے۔ ”ہمیں دوسرے لوگوں کی جنگ نہیں لڑنی چاہیے۔ پاکستان کو اس نام نہاد وار آن ٹیرر سے نکل جانا چاہیے“، وہ اس کا جاپ کرتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ صورت حال کا الزام کس پر عائد کرنا چاہیے؟ عمران خان امریکہ کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ ”انہوں نے ہمیں خون بہانے کے جنون میں دھکیل دیا ہے“۔ وہ امریکہ پر پاکستانی طالبان کے عروج کا الزام لگاتا ہے جو افغان طالبان کے اتحادی ہیں اور ان ہی کی طرح بے رحم، بنیاد پرست، نسلاً پشتون دہشت گرد گروپ ہیں جس نے بارہا پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ عمران خود لاہور کے ایک امیر پشتون خاندان میں پیدا ہوا تھا اور کبھی بھی رومانی انداز میں تقریباً پانچ کروڑ لوگوں کا ذکر کرنا نہیں بھولا جو ”غلام نہیں بنائے گئے تھے“۔
”بالآخر امریکی درخواست پر ہمیں اپنی فوج اپنے قبائلی علاقوں میں بھیجنی پڑی۔ اور ہمارے علاقے تباہ ہو گئے۔ یہ کم و بیش ایک خانہ جنگی کی صورت حال تھی۔ امریکی امداد اربوں روپے کے جانی و مالی نقصان کے مقابلے میں رائی کے دانے کے برابر تھی۔ “
سنہ 2014 میں پاکستانی طالبان نے اعلان کیا کہ عمران خان کو حکومت سے مذاکرات میں ان کی نمائندگی کرنی ہو گی۔ ”ہر قسم کی دہشت گردی ایک سیاست ہے۔ یہ ساری مذہبی دشہت گردی کی لغویت، مذہبی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے سیاست ہے۔ سیاسی نا انصافی۔ نا انصافی کا احساس ہی ہے جو لوگ ہتھیار اٹھا لیتے ہیں، ساری تاریخ یہی ہے“۔
عمران خان کہتے ہیں کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ”میری روایت صوفی انداز کا اسلام ہے“۔
بحیثیت وزیراعظم، کیا عمران خان واشنگٹن سے فوجی تعلقات اور سپلائی لائن ختم کر دیں گے؟ ہجوم کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے انہوں نے سوال کو پی لیا اور ٹرمپ کو دھونا شروع ہو گئے۔ ”وہ بہت زیادہ بورنگ ہے۔ اس کے بارے میں پیش گوئی کرنا اتنا آسان ہے۔ وہ ایک مادہ پرست انسان ہے۔ جس طریقے سے بھی زیادہ پیسے بنیں وہ اسے اختیار کرنا چاہے گا۔ اس کی کوئی روحانی جہت نہیں ہے۔ میں اگر روحانیت کی طرف مائل نہ ہوا ہوتا تو سیاست میں حصہ نہ لیتا“۔
عمران خان کو براک اوبامہ اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں پر غصہ ہے جن کی سربراہی میں تہذیب کا مکمل زوال ہو رہا ہے۔ عمران خان امریکہ پر کھلے دل سے تنقید کرتے ہیں لیکن پاکستان کے انفراسٹرکچر میں 62 ارب ڈالر ڈالنے والے چین کے زی جن پنگ کے معاملے میں وہ ہوں ہاں پر اتر آتے ہیں۔ یہ رقم ان 33 ارب سے کہیں زیادہ ہے جن کے بارے میں ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ امریکہ نے احمقانہ انداز میں پاکستان کو دیے ہیں۔ پاکستانی جرنیلوں کے لئے بیجنگ اب ایک نیا واشنگٹن ہے۔
ان ریلیوں میں عمران خان بار بار وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ”چائنا ماڈل“ پاکستان میں لائیں گے۔ لیکن گاڑی میں وہ اس سے زیادہ وضاحت کرنے سے قاصر رہے کہ ”ہمیں بہت زیادہ سیکھنا ہے کہ انہوں نے صنعت کے ساتھ کیا کیا“۔ تو ان کا منصوبہ کیا ہے؟ پہلے تو ”ایک مکمل خودمختار خارجہ پالیسی“۔ دوسرا ”ایک اسلامی فلاحی ریاست“۔ کیا آپ مجھے مزید تفصیل بتا سکتے ہیں؟ ان کی نگاہیں کہیں کھو جاتی ہیں۔
عمران خان کے قریب ترین مشیر بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے باس اس معاملے میں کچھ خاص نہیں ہیں۔ ”یوں کہیے کہ وہ ایک منصوبہ ساز نہیں ہیں۔ وہ کبھی کسی ادارے میں نہیں رہے اور یہ نہیں جانتے کہ اداروں کے اندر کام کیسے کیا جاتا ہے“ اسد عمر نے کہا جو عمران خان کی پارٹی کے نائب صدر ہیں۔
اسلام آباد میں عمران خان کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ وہ صرف معاملات بگاڑنے والے ہیں جنہیں پاکستان کی نادیدہ ریاست پروموٹ کر رہی ہے جو روٹین میں حکومتیں گراتی اور ملک کو اپنی مرضی سے چلاتی رہی ہے۔ عمران خان اس الزام پر کیا کہتے ہیں کہ وہ فوج کے آدمی ہیں؟
”فوج ایسا کیا غلط کر رہی ہے جس کی میں نے حمایت کی ہے؟“ عمران خان نے تندی سے جواب دیا۔ عمران خان کے اس سخت انداز میں سوال کو ٹھکرا دینے پر مجھے کچھ اضطراب محسوس ہوا اور میں نے ایک نیا راستہ آزمایا۔ کیا فوج کرپٹ ہے؟ ”فوج کا انحصار فوج کے سربراہ پر ہوتا ہے۔ وہ، میری رائے میں، فوج کا بہترین سربراہ ہے جو ہمیں کبھی بھی ملا۔ وہ ایک بہت اچھا شخص ہے“۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا عمران خان ٹی وی پر کرتا ہے، ہر ایک کی گوشمالی کرنا سوائے سیکیورٹی والوں کے۔
عمران خان خطاب کے لئے منتخب کیے گئے علاقے کے قریب پہنچ کر تیزی سے تسبیح کے دانے گھمانے لگے۔ بکتر بند گاڑی بڑھے ہوئے ہاتھوں اور فونوں کے جنگل میں رینگ رہی تھی۔
”جو ہو رہا ہے یہ نارمل نہیں ہے۔ یہ وہ لمحات ہیں جو ایک صدی میں ایک یا دو مرتبہ پیش آتے ہیں جب لوگ حرکت میں آتے ہیں“۔ اگر وہ مسلم لیگ نواز کے گڑھ پنجاب میں جیت جاتا ہے تو وہ مکمل جیت پا لے گا۔ بلٹ پروف کھڑکیوں کے باہر بیس ہزار کی گنجائش والا سٹیڈیم دکھائی دے رہا ہے۔ ”انگلستان میں رہنا میرے لئے آسان ہوتا۔ میں کرکٹ کے متعلق کچھ لکھ کر ایک معقول کمائی کر لیتا۔ لیکن زندگی ختم ہو جاتی“ عمران نے آہ بھری۔
میں عمران سے پہلی بار اس کی اسلام آباد کے نواح میں واقع ایسی رہائش گاہ میں ملا جو جیمز بانڈ فلم کے ویلن کے لئے موزوں تھی۔ جہاں دیواروں پر نمائشی تلواریں، کرکٹ کی یادگاریں اور عمران کی جوانی کی تصاویر آویزاں تھیں۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے اسے دو دن قبل کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں دیکھا تھا جہاں وہ سوشی کا ایک ٹکڑا کھانے کی کوشش کر رہا تھا اور ہجوم نے اس پر ہلہ بولا ہوا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ایسی زندگی بسر کرنا کیسا لگتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ”میں شاید پاکستان کی پوری تاریخ کا مشہور ترین پاکستانی ہوں“۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عمران کچھ بھی نہیں تھا۔ جب 1971 میں 17 برس کا عمران انگلستان کی اداس فضا میں پہنچا تو وہاں اس کا استقبال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ”وہ میری زندگی کی مشکل ترین سردیاں تھیں“، اس نے یاد کیا۔ اس کا لاہور سے یکطرفہ ٹکٹ وورسیسٹرشائر کاونٹی کلب کی طرف سے چار پاونڈ ماہانہ کے معاہدے پر کھیلنے کے لئے تھا، اور جیسا کہ اس نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا، اس نے اپنی تعلیم وورسیسٹر کے رائل گرائمر سکول سے مکمل کرنی تھی۔
”یقین کریں میں اس سے پہلے کبھِی گھر سے دور نہیں ہوا تھا اور میں نے کبھی انگلستان کی سردیاں نہیں دیکھی تھیں“۔ سرد اینٹوں والی گلیاں۔ بوندا باندی۔ شراب خانے۔ یہ سب کچھ اس کے لئے نیا تھا۔ مجھے شراب خانوں سے نفرت تھی۔ اس کا مجھ پر بہت بڑا اثر پڑا تھا۔ میں اس سے الرجک ہو گیا تھا، بو، قالین اور دھواں۔ “ یہ پہلا مہینہ اس نے دودھ کے گلاس کے سہارے گزارا (“میں نے کبھی شراب نہیں پی“) کیونکہ وورسیسٹر شائر کے کرکٹر کرکٹ کے علاوہ کسی چیز پر بات ہی نہیں کرتے تھے۔ ”مجھے لگا کہ میں پاگل ہو جاؤں گا“۔
دوسرا حصہ: عمران خان، سابق پلے بوائے کرکٹر اور ممکنہ وزیراعظم کا انٹرویو-1



Comments are closed.