پتنگ بازی ایک ثقافتی تہوار ہے یا جرم؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’پتنگ باز سجنا“ فریحہ پرویز کے اس گانے نے فریحہ کو موسیقی کے میدان میں امر کر دیا یے۔ جب جب بسنت کا تہوار منایا جائے گا یہ گانا بجے گا اور خوب بجے گا۔ لیکن پاکستان میں ہر سال ایک خبر پڑھی ہوتی ہے کہ پتنگ بازی جرم ہے۔ کیا ثقافتی اور صحت مندانہ سرگرمی جرم ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب بعد میں، پہلے تھوڑا سا بسنت اور پتنگ بازی کی تاریخی اہمیت پر بات کرتے ہیں۔

بسنت ایک قدیم ہندو تہوار ہے جو بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے۔ بسنت کا تہوار دیوی سرسوتی سے منسوب کیا جاتا ہے جو حکمت، علم، آرٹ اور موسیقی کی دیوی ہے۔ بسنت کی آمد یعنی موسم بہار کی آمد سے پہلے دیوی کے مندر میں خاص چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں جن کا مقصد شکر گزاری کے ساتھ نئے موسم کے لئے لئے نیک تمنائیں ہوتا ہے۔

یہ رنگوں کا تہوار بھی کہلاتا ہے۔ پیلے اور سبز رنگ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس تہوار پر پیلے رنگ کے ملبوسات پہنے جاتے ہیں اور کھانے میں میتھی چاول اور بوندی کے لوڈ قابل ذکر ہیں۔

ہندو فلسفے کے مطابق چونکہ سردیاں یا جاڑا زندگی کو منجمند کر دیتا ہے تو بہار کے موسم میں زندگی پھر سے جینے کی کروٹ لیتی ہے۔ اس لئے اس سیزن کو خاص انداز میں منایا جاتا ہے۔ اور دیوی کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے کہ اُس نے جھاڑے کے موسم میں محفوظ رکھا۔

بہار کے موسم کی سیلیبریشن دنیا کے تقریباً ہر علاقے میں ہوتی ہیں اور ہر علاقے میں اس کا فلسفہ الگ ہے۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک طویل جھاڑا گھروں میں قید ہو کر کاٹنے کے بعد لوگ ایک نئے موسم کو خوش آمدید کہتے ہیں یا پھر یہ کہ خدا کے عطا کردہ نئے موسم کی شکر گزاری کرنے کا ایک انداز ہے۔ اس سیزن کو کسی خاص مذہب یا ثقافت سے جوڑنا زیادتی ہو گی کہ اس طرح ہم گھٹن زدہ ماحول میں اپنے آپ پر خوشیاں منانے کے دروازے بند کر رہے ہیں۔

پاک و ہند کے باسی ہزاروں سال اکٹھے اس قسم کے سیزنل تہوار مناتے رہے۔ اس لئے اگر اب پاکستان میں یہ تہوار منایا جائے تو اس کی حیثیت صرف ثقافتی ہے مذہبی نہیں۔
پاک و ہند میں پتنگ بازی اس تہوار سے منسوب ہے جسے پاکستان میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ دراصل پتنگ بازی جرم نہیں ہے بلکہ اس کا طریقہ جرم ہو سکتا ہے۔

پتنگ بازی کا سب سے بڑا میلہ گجرات اور احمد آباد (انڈیا) میں منایا جاتا ہے۔ امریکہ اور چین میں بھی اس قسم کے میلے یا مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ یورپ میں ویلنٹائنز ڈے سیلیبرشن بہار کے موسم میں ہوتی ہیں۔ امریکہ اور چین میں پتنگ بازی کے میلے یا مقابلے کھلے میدانوں میں منعقدکیے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں اس قسم کی سرگرمیوں کو قبول نہیں کیا جاتا اور پھر منانے کا طریقہ بھی درست نہیں ہے۔ تنگ و تاریک محلوں میں لوگ گھروں کی چھتوں پر پتنگ بازی کرتے ہیں جس کی بدولت ہر سال جانی نقصان ہوتا ہے۔ بعض اوقات بچے چھتوں سے نیچے گر کر اپنی جان گنوا لیتے ہیں اور بعض اوقات مختلف دھاتوں سے بنی ڈور کسی کی شہ رگ کاٹ دیتی ہے، جس کی وجہ سے یہ خوبصورت تہوار نفرت انگیز بن جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ خوبصورت موسم جو قدرت نے عطا کیا بس غصے اور نفرت کی نظر ہو جاتا ہے۔ چند احتیاطی تدابیر کرنے سے لوگوں کو اس ثقافتی تہوار کی خوشی میں شریک کیا جا سکتا ہے اور ایسا عوام کو خود کرنا ہو گا۔ یہ عجیب سی بات لگتی ہے کہ یہ تہوار منانے والوں کو اپنی اور دوسروں کی قیمتی جانوں کی پروا ہی نہیں۔ ایسے میں حکومت سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پھر اس تہوار پر پابندی لگانا ہی جواز ٹھہرتا ہے۔ اب یہ تو زیادتی اور ایک حد تک بیوقوفی بھی ہے کہ ہم اپنی زندگی کی خود حفاظت نہ کریں۔ ہر کام کو حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ والدین کو اس معاملے میں خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک تو بچوں کو چھتوں پر پتنگ بازی نہ کرنے دیں اور حکومت کو اس بات میں خیال رکھنا ہے کہ کس قسم کی ڈور مارکیٹ میں دستیاب ہو رہی ہے۔ اگر والدین اپنی ذمے داری پوری کریں اور پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے والے اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں تو یہ تہوار خوشی کا باعث ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •