سفارت کار بھی ہم سب دیکھتے ہیں

دوسرا ارادہ سی ایس ایس کرکے فارن افیئرز میں ملازمت حاصل کرنے کا بنا تھا۔ گھر والوں نے اپنی خواہش کے تحت زبردستی پری میڈیکل رکھوایا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ نمبر کم آئیں تاکہ آرٹس میں منتقل ہو کر اپنا مقصد پورا کروں مگر اردو انگریزی اچھی ہونے کی وجہ سے ساڑھے تین سو نمبر تو ان دو مضامین میں مل گئے یوں نہ چاہتے ہوئے میڈیکل کالج میں داخل ہونا پڑا تھا۔ ایک تو ان دنوں ڈاکٹروں کو سول سروس جوائن کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی دوسرے میں بھی میڈیکل کے دوسرے سال میں باقاعدہ سوشلسٹ ہو کر افسر شاہی کا مخالف ہو گیا تھا۔
کل ماسکو میں متعین پاکستانیسفیر کی رہائش گاہ پر کشمیر کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے اجلاس تھا۔ وہاں پہنچا تو ایک بلند قد جواں شخص کو دیکھ کر اسے ” ارے تم یہاں“ کہہ کر گلے لگایا اور پوچھا تم یہاں سفارت خانے میں آ گئے ہو کیا۔ اس نے بتایا کہ ہاں دوماہ سے یہاں ہوں۔ میں نے پوچھا کس حیثیت سے آئے ہو اور اضافہ کیا فرسٹ سیکرٹری تو ہو گے ہی۔ ساتھ کھڑے بزدار سائیں نے بتایا کہ سائیں منسٹر ہیں۔ یہ سفیر کے بعد دوسرا عہدہ ہوتا ہے۔
دس سال پہلے کی بات ہے کہ وزارت خارجہ کی جانب سے کچھ نوجوان روسی زبان سیکھنے ماسکو آئے تھے۔ ان میں کچھ نوجوانوں سے ایک جگہ ملاقات ہوئی تھی۔ آفتاب چوہدری ان میں سے ایک تھا۔ زبان سیکھنے کے کچھ عرصہ بعد اس کی تقرری یہیں ماسکو کے سفارت خانے میں ہو گئی تھی۔ ملاقاتیں رہی تھیں۔ پھر اس کا تبادلہ ہو گیا تھا۔ اب اس کے ماشاءاللہ دو بچے ہیں اور اس سے پہلے وہ نیویارک میں تھا۔ یہ جان کر میں نے ہنستے ہوئے کہا ”دیکھو یار لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم وہیں کھڑے ہیں“ شاید ایسا کہنے میں میری حسرت پوشیدہ تھی۔
آفتاب سے یوں اچانک مل کر از حد خوشی ہوئی۔ ویسے بھی فارن سروس والے اتنے بیورو کریٹ نہیں ہوتے، کچھ کچھ تو بہرحال ہونا پڑتا ہے۔ آفتاب بھی مدبر دکھائی دینے کی پوری کوشش کرتا دکھائی دیا اگرچہ اپنی بیگم کے ساتھ کھڑے وہ مجھے کسی نئی اچھی ہندی فلم کے ہیرو ہیروئن لگے۔ آفتاب یہ کہتے ہوئے کہ ”ہم لوگ پڑھتے کچھ کم ہی ہیں“ بتا گیا کہ اس نے ”ہم سب“ پر میرا کوئی مضمون پڑھا تھا کچھ عرصہ پہلے۔ آفتاب کی طرح مجھے حمید بھٹہ جو خود صاحب کتاب نوجوان افسانہ نگار تھا اور قمرعباس سا ادب دوست جوان سفارت کار یاد رہتے ہیں۔

