تماش بینی سے مسئلے حل نہیں ہوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والی تباہی، غربت، بے روزگاری، ریپ، خود کشی اور بحران کے بعد تمام اتحادی ملک ایک جگہ بیٹھے اور مارشل پلان بنایا، جس میں معاشی ترقی تعاون، تعلیم اور انسانی حقوق کا چارٹر طے ہوا۔ پھر اس تمام عرصہ ایک مقصد کے لیے یک سو ہو کر کام ہوا۔ 1970 میں فرانس  کے طالب علموں نے ہنگامے کئے تو یونیورسٹیوں، دانشوروں، ریسرچروں اور حکومت نے سماجی مسائل پر باقاعدہ تحقیق کی، فلسفہ برائے فلسفہ نہیں تھا بلکہ سوشل چینج مقصد تھا۔ انسانی رویے، تعلیمی نصاب، حکومت کا کردار، اور جرم کی نفسیات ان تمام مسائل پر تحقیق اور تعلیم دی گئی۔ آ ج تک سوشیالوجی، نفسیات اور معاشیات پر مارکس، اینگلز، درخائم، ویبر، نطشے اور ولیم جیمز سے بڑھ کر کوئی نہیں نام بنا سکا، ان 19ویں صدی کے فلسفیوں کے بغیر اتنی ذہنی ترقی ممکن نہیں تھی۔ ڈرخائم کی شہرہ آفاق کتاب؛ سیوسائڈ (خود کشی) بھی انسانی معاشرے میں جرم، مایوسی اور لاقانونیت کے اثرات، انسانی ہلاکت اور جرم کا تعلق بیان کرتی ہے۔ ان کتابوں کو ردی کا ڈھیر نہیں بنایا گیا، بلکہ سکولوں کا نصاب بنا دیا گیا۔ پالیسی کی بنیاد ریسرچ اور ماہرین کی رائے پر رکھی جاتی ہے۔ مسائل پر تماش بینی نہیں ہوتی بلکہ حل تلاش کیا جاتا ہے۔ معاملہ چاہے ریپ کا ہو، قتل، جنسی جرم کچھ بھی ہو تماش بینی ہماراا پسندیدہ کام ہے۔

ریسرچ کی زبان میں ایک اصطلاح ہے: گائیڈڈ سوال۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسا سوال کرو، کہ جواب اپنی مرضی کا ملے اور اپنا مطلوبہ مقصد پورا ہو۔ تحقیق سے ایسے سوال کا کوئی لینا دینا نہیں، ایسے سوال کرنے والے کی ذہنی اور اخلاقی قابلیت دونوں مشکوک ہیں

کسی گائیڈڈ سوال کا جواب بالکل بھی مصدقہ نہیں ہو سکتا کیونکہ جواب دینے والے کو باقاعدہ اکسایا جا رہا ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کا جواب دے۔ ایک اینکر محترمہ نے اپنے شو میں مفتی صاحب سے پوچھا ”بچوں کو سیکس کی تعلیم دینے سے کیا معاشرے میں بے راہ روی پھیلے گی؟” ظاہر اس کے جواب میں مفتی صاحب وہی کہتے جو محترمہ زبردستی کہلوانا چاہ رہی تھیں۔

پھر ان محترمہ نے ماہر نفسیات سے پوچھا کہ ” اگر مولانا حضرات بچوں کو جنسی طور سے ہراسگی کو منع نہیں کرتے، بچوں پر جنسی ہراسگی کا کیا اثر ہے“۔ مطلب باقاعدہ ایک نورا کشتی کا آغاز جان بوجھ  کر کرایا جاتا ہے۔سوالوں میں ایسا الجھایا جاتا ہے کہ مسئلے کا حل بیان نہ ہو، بلکہ بحث ہو۔

برائے مہربانی بچوں کی حفاظت اور تحفظ پر میڈیا کا تماشا بند کریں۔ اس سماجی تحریک میں سب کو شامل کریں۔ اوٹ پٹانگ سوالات کر کے معاملے کو مت الجھائیں۔ یہ معاملہ ہرگز سیف سیکس ایجوکیشن کا نہیں، یہ معاملہ بچوں کو جنسی مجرم اور ہراسگی سے ڈرانے کے بجائے، خود اعتمادی، والدین اور اساتذہ کو فوری رپورٹ کرنے کی ٹریننگ کا ہے۔ اللہ نے ہر انسان سمیت بچوں میں ایک اندرونی حس رکھی ہے جو خطرے کو تھوڑا سا محسوس کرتی ہے۔ چائلڈ سیفٹی اس خداداد حس کو نکھارتی ہے۔ چائلڈسیفٹی ایجوکیشن، یہ تعلیم بچوں، اساتذہ اور والدین کو شعور، آگاہی اور ٹریننگ دیتی ہے۔ بلا وجہ، بے ڈھنگے سوالات کر کے، اینکر حضرات اپنی موضوع پر بے حد کم علمی کا ثبوت دیتے ہیں۔ چھوٹتے ہی بے تکے اور نہایت لایعنی سوالات اینکرز کے غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔

اچھے وقتوں میں میرے جرنلزم کے اساتذہ نے سکھایا تھاکہ سننی خیزی، صرف ایوننگز اخبار کا خاصہ ہے جو کہ بالکل غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ پھر سپیشلزائزیشن کی تو معلوم ہوا کہ ریسرچ میں سب سے بنیادی اصول اس کے اخلاقی اصول اور مکمل نالج بنیاد ہیں۔ افسوس کی بات آج میڈیا کے لگائے ہوئے نورا کشتی کے تماشے میں کہیں بھی اخلاقیات اور سنجیدگی نہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ میں اپنے جرنلزم کے سٹوڈنٹس کو کس پروگرام کی مثال دے کر سمجھاؤں اور پڑھاؤں۔

بہن، ماں، بھائی اور باپ کے بیچ میں ستر رکھ کر انسیسٹ ریپ کو ختم کرنے والا، سورة نور میں عورتوں کے مسائل کو مفصل طریقے سے بیان کرنے والا مذہب کیسے بچوں کے تحفظ کا مخالف ہو سکتا ہے۔

1920 میں خواتین کے حقوق کی پہلی تحریک کے بعد انگلینڈ میں خواتین کو ووٹ اور جائیداد کا حق ملا یہ حق 1400 سال پہلے ہمارا مذہب دے چکا ہے۔ مدینے میں شام کے وقت کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ان بچوں میں یہودی یتیم بچے بھی شامل تھے۔ شام کے وقت جب صحابہ کرام ؓ اپنے بچے لینے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان یتیم بچوں کے سامنے، اپنے بچوں کو مت پیار کرو۔ انسانی حقوق کا چارٹر تو ہمارے پاس 1400 سال پہلے آ گیا تھا۔ جس نے بچوں کی عزت نفس، جذبات اور پبلک سپیس پر حق کو متعارف کرایا۔

مگر ہم بضد ہیں یہ ثابت کرنے پر کہ انسانی حقوق سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ حالانکہ انسانی حقوق کی جو تحریکیں 19 ویں صدی، میں شروع ہوئیں، اسلام نے تو ان حقوق کی بنیاد بہت پہلے رکھ دی۔

نئے علوم سے بیر رکھنے والے ”علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے“ بھول گئے۔

بچوں کی ورکشاپس کے سلسلے میں کچھ سکول پرنسپلز سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے ذکر کیا کہ آج کل بچے نہایت خوف زدہ ہیں، حتیٰ کہ ان کی تخلیقی لکھائی پر بھی خوف اثر اندازہوا ہے۔ اے۔پی۔ایس، خود کش بم دھماکے اور ریپ کی فضا میں پلنے والے یہ سہمے ہوئے بچے، بجائے اس کے کہ ہم ان کو خود اعتمادی دیں، سیفٹی ایجوکیشن دے کر خوف سے چھٹکارا دیں۔ ان کی تعلیم، تربیت اور تحفظ کے اوپر دانشور، ماہرِنفسیات اساتذہ اور علماءکی مدد لیں۔ ہم مصروف ہیں ان سانحوں، جرائم اور مسائل کا تماشہ لگانے، لگائیے تماشہ کیونکہ تماش بینوں کو حل سے کوئی سروکار نہیں۔

ٹی وی آن کرنے پر سوائے سنسنی خیزی، بحث، نوراکشتی اور تماشے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ معاملہ کتنا بھی سنجیدہ ہو، اینکر حضرات اس میں جوشیلی، جذباتی اور ڈرامائی رئیلٹی شو کا عنصر ڈال دیتے ہیں۔بچے کس قدر ڈر گئے ہیں اور ہم نے والدین، اساتذہ اور بچوں کی سوشل ایجوکیشن اینڈ سیفٹی ٹریننگ کی بجائے، تماشا لگایا ہوا ہے۔ ان بچوں کو تو بخش دیں۔ کوئی ایسا کردار ادا کریں کہ ہم اپنے سٹوڈنٹس کو یورپی تحریکوں کے بجائے پاکستانی بچوں کے حقوق کا شعور اور میڈیا کا کردار پڑھا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •