لاہور کتاب میلہ اور …. موبائل فری ہفتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب یہ الفاظ لکھ رہا ہوں تو ایکسپو سنٹر لاہور میں 32 ویں سالانہ لاہور انٹرنیشنل کتاب میلہ کے آخری لمحات چل رہے ہیں۔ ہر سال وہاں جاتا ہوں اور کتابیں خریدتا ہوں لیکن اس سال سوچ رہا ہوں کہ ابھی تو وہ کتابیں بھی ویسے ہی پڑی ہیں جو گزشتہ سال خریدی تھیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی ”اخوت کا سفر “ ، ششی تھرور کی Era of Darkness اور گاندھی کی آپ بیتی روزانہ…. الماری میں سے جھانکتی ہیں۔ لیکن میں بہت مصروف ہو گیا ہوں۔
ایک جملہ ہم روز سنتے ہیں کہ وقت بدل گیا ہے۔۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ جتنی دفعہ ہم یہ جملہ سنتے ہیں وقت اس سے کہیں زیادہ بدل گیا ہے۔ اب جس سے بھی ملو وہ دکھی ہے، مصروف ہے، بس جی وقت کٹ رہا ہے…. بس جناب دن پورے کر رہے ہیں، چنگے آں جی، جو گھڑی گزر جائے او چنگی!۔ آپ کسی سے بھی اس کا حال پوچھ کے دیکھ لیں، ایسا ہی جواب سننے کو ملتا ہے۔ امیر یا غریب، ذہین یا نالائق، محنتی یا سہل پسند…. سب! میں نے بہت سے آسودہ حال لوگوں کو بھی پریشان ہی دیکھا ہے۔ پتہ نہیں وہ وقت کہاں چلا گیا ہے جب لوگ خوش تھے۔خوشیاں انجوائے کرتے تھے اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔
تو میں کہہ رہا تھا کہ اب تو کتاب پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ شوق بھی ختم ہو گیا ہے ۔ اس کی وجوہات الگ لیکن جس دن سے کتاب میلہ لگا ہے مجھے اپنا سکول اور کالج کا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ 2013 کی بات ہے میں سنٹرل ماڈل سکول کا طالب علم تھا۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں وقت گزرا۔ تب میں بہت پڑھاکو بچہ تھا۔ زندگی میں سکون ہی سکون تھا۔ میرے پاس موبائل فون نہیں تھا، نہ کوئی فیس بک نہ کوئی وٹس ایپ، روزانہ دوپہر کو واپسی پر مجھے لنچ سے زیادہ اخبار کی فکر ہوتی تھی۔ ماں جی لنچ بنانے لگ جاتی تھیں اور میں اخبار پڑھنے لگ جاتا تھا۔ کبھی کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتا تھا جس دن میں نے اخبار نہ پڑھا ہو۔ اپنے کورس کی کتابوں کے علاوہ بھی بے شمار کتابیں پڑھتا تھا۔ تب وقت ہی وقت تھا۔ میٹرک میں بہترین نمبر لئے۔F.Sc کے بعد میڈیکل کالج میں داخلہ ملا اور ساتھ سکول اور کالج کا بہترین مقرر بھی تھا۔ اشفاق صاحب کی کتاب’ ایک محبت سو افسانے‘ گورنمنٹ کالج کی لائبریری میں پڑھی تھی۔ پطرس بخاری کے مضامین بھی۔ بلکہ ایک دفعہ تو پطرس کا مضمون ’کتے‘ پڑھتے ہوئے میں اور عثمان بدر اتنا ہنسے کہ لائبریرین نعیم صاحب نے ہمیں لائبریری سے باہر نکال دیا۔ تب میں فزکس کی کتاب لیکر چھت پر جاتا تھا اور پورے پانچ چیپٹر ختم کر کے نیچے آتا تھا۔ کوئی Distraction نہیں تھی۔ لیکن اب…. !
اب تو پوری زندگی موبائل فون کے گرد گھوم رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے زندگی سے سکون اور یکسوئی چھین لی ہے۔ کوئی بھی کام ارتکاز سے کرنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اب تو جب ہسپتال سے واپس آتا ہوں تو موبائل فوراً Wifi کے ساتھ connect ہو جاتا ہے۔ فیس بک پر پیغامات، وٹس ایپ پر مختلف گروپس میں Forward میسیجز، انسٹا گرام، ٹوئٹر اور اب تو سنیپ چیٹ بھی نکل آئی ہے۔ ہر طرف سے بے شمار نوٹیفکیشنز آنا شروع ہو جاتے ہیں۔میں موبائل فون لے کر بیڈ پر بیٹھ جاتا ہوں اور ماں جی کچن سے آوازیں دیتی رہتی ہیں۔ اکثر رات کو ایک بجے خیال آتا ہے کہ آج کا تو اخبار بھی نہیں پڑھا۔ حد سے زیادہ پھرتیاں، حد سے زیادہ خبر گیری نے ہم سے ہماری زندگی چھین لی ہے۔ کتاب چھین لی ہے۔ اب تو کتاب میلہ دراصل ایک میلہ ہے۔ پارکنگ کھچا کھچ بھری پڑی ہے لیکن صرف 25 فی صد لوگ ایسے ہیں جو واقعی کتاب خرید رہے ہیں۔ باقی سب سیرو تفریح کے لئے اور اپنی فیس بک کے لئے ایک عدد تصویر بنانے آئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم سب کو زندگی کا اصل مزا چکھنے کے لئے ایک ’موبائل فری ہفتہ‘ منانا چاہیے۔ آخر میں گلزار صاحب کی ایک نظم کی چند سطریں:۔

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں
جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں اب اکثر
گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر
بڑی بے چین رہتی ہیں کتابیں
انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہو گئی ہے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
جو قدریں وہ سناتی تھیں
کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے
وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں
جو رشتے وہ سناتی تھیں
وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •