شنکر قصبے کا شاداب ملائیشیا اور مردان کا تقابل کرتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شاداب خان سے میری ملاقات 21 جنوری کو کوالالمپور سے کراچی جانے والی پی ائی اے فلائٹ پر ہوئی۔ میرے لئے یہ ملاقات اس فلائٹ کا سب سے خوشگوار تجربہ رہا۔ 24 سال کا یہ نوجوان ملائشیا میں قالین سازی کی ایک دوکان پر بطور سیلز مین کام کرتا ہے اور دو سال کے عرصے کے دوران اپنے ایمپلائر (آجر) کی طرف سے ٹکٹ فراہمی کی سہولت پر پہلی بار گھر جا رہا تھا۔ اس نے گورنمنٹ کالج مردان سے بی اے کر رکھا تھا۔ جب اس نے میرے ہاتھ میں ذیشان ہاشم کی کتاب دیکھی تو مجھ سے پڑھنے کی اجازت چاہی۔ جو میں نے بخوشی دے دی اور یہیں سے ہماری گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ جو علمی اعتبار سے خاصا اچھا رہا۔

شاداب کی ملائشیا میں ملازمت کی وجہ بظاہر تنخواہ کا فرق تھا۔ مردان میں اسے ملنے والی تنخواہ محض 10 ہزار تھی جبکہ جوہر باہرو میں ملنے والی تنخواہ سترہ سو رنگٹ تھی اور تمام اخراجات ایمپلائر کے ذمہ تھے۔ یوں اس ساری بچت کے بعد اس کی یہ تنخواہ مردان میں ملنے والی اجرت سے تین گنا زیادہ تھی۔ ایک معیشت دان ہونے کی حیثیت سے میں نے اس سے پوچھا کہ مردان میں اسے کتنی تنخواہ اگر ملے تو اسے ملائشیا جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی ۔ جس کے جواب میں اس نے  15 ہزار سے 16 ہزار تک کی تنخواہ بتائی – 20 ہزار سے بھی کم ، جو کہ اسے ملائشیا میں ملنے والی تنخواہ کی نصف ہے۔

میں نے اس سے پوچھا کہ مردان میں 15 ہزار کمانا اس کے لئے کیونکر ممکن نہیں؟

اس نے جوا ب دیا: مردان میں ملازمتوں کی کمی کی وجہ سے۔ اگرچہ کچھ ایسی مشقت طلب ملازمتیں موجود ہیں جن سے مردان میں رہ کر بھی کہیں زیادہ تنخواہ کمائی جا سکتی ہے مگر ایسی ملازمتوں کے نتیجے میں زندگی کا معیار بہت گر جاتا ہے۔ اس نے اپنے ایک انکل کی مثال دی جو کہ مردان میں بطور لوڈر کام کرتے ہیں اور ماہانہ 40 ہزار تک تو کما لیتے ہیں مگر 40 سال کی عمر میں ہی 70 سال کی عمر کے دکھائی دینے لگے ہیں ۔

شاداب کا ایمپلائر ملائشیا میں پچھلے 25 سال سے مقیم ہے، اس کا قالینوں کا کاروبار اچھا چل رہا ہے، ہر مہینے قالینوں کے 8 سے 10 کنٹینر درآمد کرتا ہے اور امپورٹ کیا گیا تمام مال چین سے منگواتا ہے۔ اس کے بقول اس کے ایمپلائر نے کبھی سکول کی شکل تک نہیں دیکھی اور بالکل ان پڑھ ہے۔

میں نے شاداب سے پوچھا کہ اس کی ملازمت زیادہ مشقت طلب تو نہیں؟ اور کیا اس کا ایمپلائر مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کیلئے مشینری کا استعمال کرتا ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ خود تو مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کرتا مگر یہ تمام کام مشینری کی بجائے مزدوروں کے ذریعے ہی انجام دیا جاتا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ وہاں بے شمار پاکستانی دوکانوں میں سے کسی پر بھی لوڈر استعمال نہیں کیا جاتا۔ جبکہ تمام چینی دوکانوں پر مشینری کا استعمال عام ہے۔ (ملائیشیا میں ایسے تمام کاروبار چینی نسل کے باشندوں کی ہی ملکیت ہیں اور شازو نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ کاروبار کا مالک کوئی مالے ہو)۔

شاداب کے مالک کی تین بیویاں ہیں۔ جن میں سے ایک پاکستانی اور باقی دو ملائیشیا کی مقامی خواتین ہیں۔ جن سے شادی سے اسے اپنے کاروبار کیلئے مقامی لائسنس حاصل کرنے میں خاصی آسانی رہی- (شاداب وہاں کے مقامی لوگوں سے متعلق زیادہ اچھی رائے نہیں رکھتا اور وہاں کی نسلی قومیت کا شکوہ کرتا ہے)

اس کی کمپنی کا مالک چوتھی شادی کیلئے کسی چینی خاتون کی تلاش میں ہے۔ میں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا اس کی وجہ زیادہ خوبصورت عورت ہے؟ جس کے جواب میں شاداب نے بتایا کہ نہیں اس کی وجہ چین میں اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے ابلاغ میں مدد لینا ہے۔ اس کے ایمپلائر کو ہر مہینے قریبا 1500 رنگٹ اپنے مترجم کو ادا کرنا پڑتے ہیں گو وہ ہر تین ماہ بعد ہی چین جا پاتا ہے۔ اس نے یقینا اخراجات کا حساب بڑی عقلمندی سے لگایا ہے۔

شاداب مزید دو سال تک ملائیشیا میں کام کرنے کے بعد مردان واپس لوٹنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وہ اپنی جمع شدہ پونجی سے ایک جم خانہ کھولے گا تا کہ بقیہ زندگی ہنسی خوشی بسر کر سکے۔

اس کہانی میں ہمارے لئے کیا سبق ہے؟ کیوں ایک گریجوائٹ نوجوان مردان میں اپنے لئے معقول ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہا ؟ یقینی طور پر 15 ہزار کی رقم کچھ زیادہ نہیں ہے۔ آخر اس کا مالک مشینری کا استعمال کیوں نہیں کرتا؟ اس نے چینی زبان کیوں نہ سیکھی؟ ان سوالات کے جوابات ایک دلچسپ کیس سٹدی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

میں ابھی تک شاداب کے گاؤں کا نام جاننے کیلئے متجسس تھا جو کہ شنکر ہے۔ شنکر ہندو باسیوں کے گاؤں کا ایک سردار تھا جو بڑا مخیر تھا۔ اسی بنا پر لوگوں نے گاؤں کا نام اس کے نام پر رکھ دیا۔ کچھ سال قبل ایک مقامی مسلمان نے گاؤں کا نام شنکر سے مسلم آباد رکھنے کی شرط پر گاؤں کو خیرات میں ایک بڑی رقم دی۔ گو سرکاری طور پر گاؤں کا نام مسلم آباد رکھ دیا گیا مگر یہ کبھی مقبول عام نہ ہو سکا۔ لہذا لوگ ابھی تک اس گاؤں کو (جو بقول شاداب کے اب ایک شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے) شنکر کے نام سے ہی بلاتے ہیں۔ شاداب کو اس نام سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ اس کے خیال میں شنکر کے معنی کچھ اچھے ہی ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ شنکر نے یقینا اپنی زندگی میں کوئی اچھا کام سرانجام دیا ہوگا۔

شاداب گرایجویٹ کرنے کے بعد پشتو ادب میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا مگر اس کے والد نے اس کے مطالعہ پاکستان میں ایم اے کرنے پر اصرار کیا۔ اس نے علامہ اقبال یونیورسٹی میں فاصلاتی کورس میں داخلہ لے لیا۔ اسے اس مضمون سے شدید نفرت تھی۔ آخر کار اس نے فرار کیلئے ملائیشیا میں ملازمت کا راستہ ڈھونڈ نکالا اور یہی اس کی ملائیشیا میں ملازمت کرنے کی ممکنہ وجہ نظر آتی ہے۔

میں نے یہ تحریر لکھنے کے بعد شاداب کو دکھائی ، وہ اسے باآسانی سمجھ سکتا تھا۔ پڑھنے کے بعد اس نے اس کی اشاعت کے لئے بخوشی اجازت دے دی۔

شاداب نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ دو سال بعد مجھے ضرور اپنے جم خانے کی افتتاحی تقریب میں مدعو کرے گا۔ شاداب مجھے تمہارے دعوت نامے کا انتظار رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی سلمان کی دیگر تحریریں
علی سلمان کی دیگر تحریریں