خبردار! ویلنٹائن پر پابندی ہے
پیمرا نے تیر ایسا چلایا، مزہ آ گیا
کسی بھی تشہیر پر، کسی تحریر پر
قینچی ایسی چلائی مزہ آ گیا
ویلنٹائن ڈے منائیں یا پھر نہ ہی منائیں
لیکن پھر بھی صحافت پر قدغن لگی
نہ کوئی پھول ہو نہ کوئی گفٹ نظر آئے
نہ چاکلیٹ سے منہ میٹھا کیا جائے
ہر اک دکان دار کی جیب پر کٹ ایسا لگایا مزہ آ گیا
نوجوانوں کو ڈالنے کیلئے نکیل
پیمرا اور مذہبی آئے میدان میں
موم بتی مافیا، اگر بتی مافیا، اور اب پھول پتی مافیا
سب نے ہی رنگ جمایا مزہ آ گیا
کسی گارڈن میں ہو یا گلی کوچے میں
میسج کے ذریعے ہو یا پھر فیس بک پر
محبتوں پر لگائی پابندی، مزہ آ گیا۔۔
پھر سےویلنٹائن ڈے پر ہائی کورٹ کا پرانا حکم یوں
دہرایا گیا، مزہ آ گیا
سب پر سینسر ایسا لگایا، مزہ آ گیا
٭٭٭ ٭٭٭
کچھ گانے جیسی تُک بندی کرلی ہے تو فلم تھری ایڈیٹس کا۔۔۔ڈائیلاگ بھی ہوجائے
ارے بھائی ! کہنا کیا چاہتے ہو؟
جناب بس اتنا کہ پیمرا نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ ویلنٹائن ڈے کی پروموشن سے باز رہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے گزشتہ برس جاری کیاحکم نامہ۔۔۔ اب بھی برقرار ہے۔
13 فروری 2017 کو دیے جانے والے عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ ویلنٹائن ڈے کی نہ کوئی سرکاری تقریب منعقد ہو گی اور نہ ہی عوامی مقامات پر اسے منانے کی اجازت ہو گی۔
اسلام آباد کے شہری عبدالوحید کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اس لیے اس ملک میں ایسے کسی بھی تہوار کو نہیں منایا جا سکتا جو اسلامی روایات کے خلاف ہو۔
جو اس سال بھی برقرار ہے، ویلنٹائن ڈے کی ہر اوٹ پٹانگ حرکت پر پابندی ہے، عوام کےلیے بھی اور میڈیا کے لیے بھی۔
ہزاروں لوگوں کے دل ٹوٹ گئے ہوں گے، لاکھوں اس لیے نہیں کہ کچھ اس پابندی کے مخالف ہیں تو کچھ اس کے حق میں بھی،
ایک وہ جو لبرل ازم اور سیکیولرازم کو پروموٹ کرتے ہیں، ملک میں جدت کے نام پر مغربی طرز معاشرت لانا چاہتے ہیں۔۔ کچھ اپنا کاروبار چمکانے کے لیے بھی۔۔۔پھر چاہے ہو وہ ہاتھ میں پھول بانٹنے والا ہو، ریڑھی بان ہو، چین اسٹورز کا مالک ہو یا پھر۔۔۔۔
صحافت ایک بہت معتبر پیشہ تھا، ، لیکن آج کل یہ کاروبار بن گیا ہے، پرانے ہوں یا نئے اس سے صرف پیسہ بناتے نظر آتے ہیں اس کے لیے وہ کسی بھی مہم کا حصہ بننے کو تیار ہوجاتے ہیں، کسی بھی شے کی تشہیر شروع کرتے ہیں، ملک و مذہب، روایات و سماج مخالف مواد دکھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
ایک وہ جو مذاہب کی آڑ میں اپنی دکان چمکاتے ہیں۔ گلی محلوں، اسکولوں، کالجوں، اور دفاتر میں پورا سال ایک عام انسان، محبت کرنے والے اور اظہار کرنے والے ہوتے ہیں۔ 14 فروری کو ان کے اندر مکمل مذہب سما جاتا ہے، انگ انگ سے صرف مذہب پھوٹ رہا ہوتا ہے اور لوگ بھی، کبھی زبان اور کبھی ہاتھ سے۔ حالانکہ مومن وہی ہے جس کی ہاتھ اور زبان سے دوسرے کو ایذا نہ پہنچے، لیکن جو مذہبی جذبات کو مجروح کرے گا، اس کوسبق سکھانا ضروری!
ایک وہ طبقہ بھی ہے جو ان معاملات میں کسی طور پڑنا ہی نہیں چاہتا، نہ محبت نہ نفرت، نہ پروموشن نہ پابندی۔۔ بس اپنے کام سے کام، ایک عام دن کی طرح یہ دن بھی گزر جاتا ہے، اور معمولاتِ زندگی رواں دواں۔۔ان میں امیر، غریب اور متوسط سب ہی شامل ہیں۔
ایک اور طرح کے لوگ بھی ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا، بات کرنا یا کہ چپ ہونا سب ہی مذہب ہے، اور وہ مسلسل اس کی تشہیر میں بھی لگے ہیں، وہ اپنی دنیا میں مگن ہیں انہیں کسی دن کے آنے یا جانے سے کو ئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ وہ ایسی محبت کو فروغ دیتے ہیں نہ روک لگاتے ہیں، نہ وہ ان معاملات میں پڑنا چاہتے ہیں۔
ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس دن کو بھرپور انداز سے منانا چاہتے ہیں، سرخ کپڑے بنانا، اس کی میچنگ کے جوتے، بُندے، گھڑی، چوڑیاں، ٹائی، پھول، چاکلیٹ، کیک اور نجانے کیا کیا۔۔جو خاص طور پر 14 فروری کا انتظار کرتے ہیں کہ آج تو اظہار کرنا ہی ہے، جواب میں انکار ملے یا اقرار، تھپڑ پڑے یا جوتا۔۔ بس کہہ دینا، جانے کل ہو نہ ہو۔۔
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں
ایک وہ طبقہ بھی ہے جو اس پابندی سے خوش ہے، کیونکہ اس سے ملک میں بے راہ روی رکے گی، کوئی تو ہوگا جو بے نتھے بیلوں کو نکیل ڈالے گا، کوئی تو ہے جوسیلاب کی آمد سے قبل بند باندھنے اور ڈیم بنانے کے لیے فکر مند ہے، اگر پابندی نہ لگے تو آئے روز کچرے کے ڈھیر پر نومولود کو کتے نوچتے ہوئے ملیں یا پھر کتے اپنی ہوس مٹانے کے بعد ننھی کلیوں کومسل کر کہیں پھینک دیں اور یا پھر پیسوں کے عوض عزتیں اور جانیں بکتی رہیں۔۔ صرف روک ٹوک کافی نہیں معاشرتی اصلاح کے لیے بھی اقدامات کرنے ہیں۔
ایسے دن پر پابندی کی وجہ سے کچھ اور لوگوں کی بھی چاندی ہوجاتی ہے۔آئٹمز بلیک کرنے والوں کی، پھول فروش پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے گلدستے رات کے وقت پہنچاتے ہیں۔ اس کا فائدہ بلیک پر گلاب اور پنیاں فروخت کرنے والے خوب اٹھا تے ہیں۔
گزشتہ برس جاپان میں ویلنٹائن ڈے پر صورت حال یہ تھی کہ ایک مارکسٹ گروپ نے ٹوکیو میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا ‘ویلنٹائن ڈے کو پاش پاش کر دو!’۔۔۔مردوں کا انقلابی اتحاد کے نام سے پہچانے جانے والے اس گروپ کا کہنا ہے کہ محبت کے برسرِ عام اظہار سے ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔’سرعام بوس وکنار دہشت گردی ہے‘ اس گروپ کے ارکان ایسے نعرے لگاتے رہے۔ گروپ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم محبت کو سرمایہ نہیں بننے دیں گے۔ یہ ہمیں کمتر ثابت کرنے کی سازش ہے۔
ویلنٹائن ڈے کا آغاز قدیم روم میں ہوا تھا جہاں اسے یومِ تولید یا بارآوری کے طور پر منایا جاتا تھا۔۔وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک مسیحی تہوار بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسلم اکثریت والے ملکوں میں اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔


