مرد مارچ… یا جلے دل کے پھپھولے

ایک طویل عرصے کی جدوجہد، بات چیت کے بعد بالآخر مردوں کو بھی ایک ایسا پلیٹ فارم مل ہی گیا، جہاں وہ اپنے مسائل پیش کرسکیں، اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا ذکر کرسکیں، اپنی کامیابیوں پر بغلیں بجا سکیں، چیخ چیخ کر بتا سکیں کہ ہم نے ملک وقوم اور سماج کے لئے ایسے ایسے اقدامات کیے، کہ بس رہے نام اللہ کا۔ کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کہاں کس مقام پر کس عورت نے ان کے

Read more

تجھے سلگا کے سگریٹ میں، میں تیرے کش لگاتا ہوں

تم جو کہتی ہوچھوڑ دو سگریٹ تم میرا ہاتھ تھام سکتی ہو۔۔۔ جون ایلیا کا یہ شعر گلی کوچوں میں پھرنے والےناکام عاشقوں کے دل کی ترجمانی کرتا ہے۔ آج کل ہر دوسرا شخص لڑکی سے دوستی کیلئے، محبوبہ کی بے وفائی سے تنگ آکر سگریٹ سے یاری کر لینا اپنا فرضِ اولین سمجھتا ہے ۔ اور ٹرین کے انجن کی طرح ادھر ادھر دھواں اڑاتا دکھائی دیتا ہے ۔ ا ک نظم ملاحظہ فرمائیں : پھر ایک سگریٹ جلا

Read more

کون، کس سے انتقام لے رہا ہے؟

انتقام ۔۔ اب تو یہ لفظ ہے زبان زدِ عام ۔ اور وجہ ہے سیاسی، اخلاقی اور سماجی سطح پر اس کا بے دریغ استعمال۔ پہلے پہل گالم گلوچ، طعن و تشنیع تو درکنارزبان کو لگام دینے کا کہنا بھی ایک بڑی بات سمجھی جاتی تھی ۔ یہ وہ دور تھا جب سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے، ایک ہی میز کے گرد چارپائیاں ڈال کر بڑے بوڑھے سب کے مسائل حل کیے دیتے تھے، بڑوں کی عزت ہوتی

Read more

کتنے پیسے چاہئیں؟

1.4 کھرب روپے۔ مطلب۔ 140 ارب، ابھی کتنے جمع ہوئے؟ 51 کروڑ یعنی ایک ارب میں بھی 49 کروڑ کم۔ اگراسی رفتار سے چلیں تو۔ ایک سال میں۔ 6ارب، 10سال۔ 60 ارب، 20سال۔ 120ارب۔ اور30سال میں۔ 180ارب روپے بنتے ہیں۔ کئی نسلیں بس فنڈز ہی جمع کرتی رہیں تو کہیں جا کربات بنے گی۔ اور ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب عوام اسی تندہی، خوش دلی سے ڈیم کے لیے فنڈ جمع کراتے رہیں اور سپریم کورٹ اس

Read more

نام بڑے اور کام چھوٹے

ایک مالدار کاروباری آدمی کے 8 بیٹے تھے۔ سب ہی کماؤ پوت۔ دن دُگنی رات چوگنی ترقی ہورہی تھی۔ خود بھی دونوں ہاتھوں سے کمارہا تھا، دولت اور زیورات کے انبار لگارہا تھا، بچوں پر بھی لٹا رہا تھا۔ ایک دن اس کے رقیب کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ اور اس پر رحمتوں کا نزول شروع ہوگیا۔ مالدار آدمی کے دل میں حرص آگئی۔ بڑھاپا ضرور تھا لیکن دل جوان۔ آپشن بھی موجود تھے، دوسری شادی کرلیں، اپنا بچہ پیدا

Read more

می ٹو؟ کون دلاں دیاں جانے؟

می ٹو کیسے کہوں؟ ایسا کہنے سے پہلے ہی زبان بند کرا دی گئی۔ بول بھی دوں تو سنے گا کون؟ مانے گا کون؟ معاشی استحصال تو ہو ہی رہا ہے۔ مختلف طریقے سے دباؤ میں لاکر ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔ مجبوری اور معصومیت سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ تو حق کیسے ملےگا؟ انصاف کس طرح ہو گا؟ عورتیں برابری کے چکر میں اپنی چال بھولتی جارہی ہیں تو مرد آہن صنف نازک بن گئے ہیں۔ مرد وعورت

Read more