مشال خان کیس؛ فیصلے کے خلاف آج مردان میں مذہبی جماعتوں کا احتجاجی جلسہ
عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کیس میں 31 ملزمان کو سزا دیئے جانے کے خلاف مردان میں مذہبی جماعتوں نے احتجاج کی تیاری کرلی ہے۔ مشال کو اپریل 2017 میں توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کیا گیا تھا ۔
احتجاجی جلسہ مردان کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد شروع ہوگا جس میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتیں ختم نبوت مردان کے نعرے تلے سزاؤں کے خلاف جمع ہوں گی۔ اس احتجاجی مظاہرے کو جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام (ف)، مولانا سمیع الحق کی جماعت جمعیت علماء اسلام کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی نے آج مردان میں انسداد دہشت گردی عدالت سے مشال قتل کیس میں بری ہونے والے افراد کا استقبال کرنے کے لیے بھی جلسے کا انعقاد کیا گیا ۔
جماعت اسلامی کے ضلع مردان کے امیر ڈاکٹر عطا الرحمن نے بتایا کہ ان کی جماعت ایک آئینی اور مذہبی جماعت ہے اور وہ پاکستان میں شریعہ قانون کا نفاذ چاہتی ہے۔


