عمران خان نے الیکشن کمیشن کا حکم نہیں مانا: لودھراں میں خطاب
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کی تنبیہ نظر انداز کردی اور قومی اسمبلی کے حلقہ 154 لودھراں میں ضمنی الیکشن سے پہلے خطاب کر دیا۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کے نام خط میں پی ٹی آئی چیئرمین کو لودھراں میں جلسے سے خطاب کرنے سے روک دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان سے کہا تھا کہ 12 فروری کو حلقے میں ضمنی انتخاب ہے، ضابطہ اخلاق کے تحت رکن قومی اسمبلی حلقے میں جلسہ نہیں کرسکتا ۔
عمران خان کا جلسے سے خطاب میں کہنا تھا کہ ملک پر قابض مافیا کے خلاف 21 سال سے سیاست نہیں، جدوجہد کر رہا ہوں، جہانگیر ترین سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا سیاستد ان ہے، اس کا معاملہ شریفوں اور زرداری جیسا نہیں ۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے نہ منی لانڈرنگ کی اور نہ کرپشن۔ کاشت کاروں کو پوری قیمت دیتے ہیں،عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم قبول کریں گے، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ کیوں نکالا۔
عمران خان نے الزام عائد کیا کہ شہبازشریف کے دور حکومت میں پولیس نے 870 قتل کیے،عامر باکسر نے بیان دیا ہے کہ وہ شہباز شریف کے کہنے پر قتل کرتا تھا۔ میں چیف جسٹس سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ماورائے عدالت قتل پر کمیشن بنائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ حسن شریف600 کروڑ روپے کے گھر میں رہتا ہے، شریف برادران اکیلے چوری نہیں کرتے، اپنے وزیر بھی ملا لیتے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف بھی چوری میں ملے ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا کہ حکمران چوری کرتے ہیں اور جواب نیب سے مانگتے ہیں۔ نوازشریف کی باری تو آ چکی، شہباز شریف سن لو، تم ایک فرعون ہو، تمہارا وقت آ گیا ۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد قومی اسمبلی کے نشست این اے 154 خالی ہوئی تھی جس پر ان کے صاحبزادے علی ترین پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔


