پنجاب پولیس مخبر سے جدید کیمرے سے تک


سیکیورٹی اور لاء اینڈ آرڈر کا قیام کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ملک کی خارجی سکیورٹی فوج اور داخلی سیکورٹی محکمہ پولیس کے ذمہ ہے۔ کوئی بھی ملک اور معاشرہ تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس ملک میں امن نہیں ہوگا۔ جب تک عوام کی جان و مال کو تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ اور اس کا حصول محکمہ پولیس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں پولیس کا محکمہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔ اور اس کا سربراہ انسپکٹر جنرل پولیس یعنی آئی جی پی ہوتا ہے۔ محکمہ پولیس پنجاب، پاکستان کے تمام صوبائی پولیس محکموں سے بڑا ہے۔ پنجاب پولیس نے پچھلے کچھ سالوں میں جدید نہج پہ کافی ترقی کی ہے۔ نظام میں کافی جدت اور پروفیشنلزم آئی ہے۔ عوام کی شکایات اور اندراج ایف آئی آر سے لے کے تفتیش کے عمل اور پیشگی چالان تک کی معلومات سائل کے موبائل نمبر پہ بروقت بھیج دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تھانوں میں اور محکمہ کے دفاتر میں آئی ٹی پہ زیادہ سے زیادہ انحصار کیا جارہا ہے۔ تاکہ عوام کے لاء اینڈ آرڈر کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جاسکے اور ان کی شکایات کا اندراج اور ازالہ کم سے کم وقت میں کیا جاسکے

اسی طرح عوام کی سیکورٹی اور جرائم کے تدارک اور مجرموں درست نشاندہی اور جلد از جلد گرفتاری کے لیے حکومت پنجاب اور محکمہ پولیس پنجاب نے ایک انقلابی قدم سیف سٹی پراجیکٹ کی شکل میں کیا ہے

سیف سٹی منصوبہ آخر ہے کیا آئیے اس کا تفصلی جائزہ لیتے ہیں

سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت 8ہزار جدید کیمرے لگائے جائیں گئے جن میں سے 7ہزارسےزائد لگا دیے ہیں گئے جبکہ 4ہزار آپریشنل کیے گئے ہیں تاکہ شہر بھر پر نظر رکھی جا سکے

پنجاب سیف سٹی اتھارٹی (پی ایس سی اے) آرڈیننس 2015 کے تحت قائم، ایک خودمختار حکومتی ادارہ ہے جس کا مقصد پنجاب میں عوام کی حفاظت اور سلامتی کو بہتر بنانا ہے، اس کا ہیڈ آفس قربان لائن لاہور میں واقع ہے۔ سیف سٹی پراجییکٹ میں مختلف مہارتوں، کمپیوٹراور جدید ٹیکنالوجی کا علم رکھنے کے ساتھ قانونی امور سے واقفیت اور دیگر امور کو سر انجام دینے کے لئے ا س وقت ساڑھے چھ سو کے قریب سویلین آئی ٹی بیچلر ڈگری ہولڈر خواتین و مرد ماہرین خدمات سر انجام دے رہے ہیں جن کا کام، تین شفٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے ہر شفٹ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کرئے گی۔ مین آفس میں بڑی بڑی جدید ایل ای ڈی سکرینں نصب کی گئی ہیں جہاں بیٹھا سٹاف پورئے لاہور شہر میں چلنے پھرنے والی ٹریفک پر نہ صرف نگاہ رکھے ہوئے ہو گا بلکہ جہاں کہیں کوئی مشکوک حرکت دیکھے گا فورا متعقلہ علاقے میں لا اینڈ انفورسرمنٹ ایجنسی کے اہلکاروں کو آگاہ کرئے گا جس سے ملزماں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے ساتھ جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بادی النظر میں یہ پراجیکٹ جس کا نام ہی سیف سٹی پراجیکٹ ہے آج کے دور میں جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق ہے جس سے جہاں جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی وہیں شہریوں میں تحفظ کا احساس جاگزیں ہوگا۔

سیف سٹی پراجیکٹ کے ذریعے پورے شہر کو کیمروں کی مسلسل نگرانی میں دے دیا گیا ہے۔ یہ کیمرے اور تربیت یافتہ اہلکار ان کیمروں کو جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا بہاؤ برقرار رکھنے کے لیے بھی استعمال کر سکیں گے۔ عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے، قانون کی خلاف ورزی کرنے اور دیگر جرائم کے خاتمے میں مدد کرنے میں معاونت کا کام سر انجام دیں گے۔ سیف سٹی پراجیکٹ پنجاب کومحفوظ اور خوشحال بنانے کی جانب اہم قدم ہے، عوام کے جان ومال کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی چیزاہم نہیں، منصوبے پرعمل درآمد کے لیے عملے کوجدید تربیت دی گئی ہے، سیف سٹی پراجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جب کہ ڈولفن فورس اور پولیس رسپانس یونٹ بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

یہ جنوبی ایشاءکا پہلا منصوبہ ہے جیسے چین کی کمپنی ہواوے نے تعمیر کیا۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں 5 سال قبل 1500 کیمرے نصب کر کے 16 ارب روپے خرچکیے جبکہ پنجاب حکومت 12ارب روپے سے 8 ہزار کیمرے نصبکیے جارہے ہیں۔ اس منصوبہ سے پولیس ہر جگہ پر نظر رکھ سکے گی اور جرائم کی بیج کنی میں مدد گار ثابت ہوگا۔ راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور گوجرانوالہ میں اگلے سال کے آخر تک مزید منصوبے مکمل کر لیے جائیں گے۔ پنجاب کے پولیس سٹیشنز کو ماڈل تھانوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے تھانوں کو حقیقی معنوں میں ماڈل پولیس سٹیشنز بنا دیا جائے گا اورتھانوں میں عوام کی داد رسی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ماڈل تھانوں میں پولیس کی کارکردگی مانیٹرکرنے کے لئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم وضع کیا گیا ہے۔ جس کے لئے آئی ٹی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں۔

لاہور ڈویژن میں داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ دو ہزار سے زائد مقامات کیمروں کے ذریعے نگرانی کا عمل لایا جارہا ہے۔ اس منصوبے سے جہاں پولیس کی کار کردگی میں اضافہ ہوگا وہیں پنجاب پولیس کے کلچر اور ڈھانچے میں بھی بنیادی تبدیلی رونما ہو گی۔ اس منصوبے کا ایک اہم فائدہ ٹریفک کے انتظام میں بہتری آئے گی جہاں ٹریفک پھسنی ہوئی ہوگی کے بارے میں مطلع کیا جائے گا اور متبادل راستوں کے بارئے آگاہی فراہم کی جائے گی سارا سسٹم مواصلات سے منسلک کر دیا گیا ہے اور فوراً پیغام رسانی کے ذریعے مربوط کیا جارہا ہے اس طرح سفر کے اوقات کو کم سے کم اور ایندھن اور وقت کی بہت زیادہ اخراجات بچانے میں مدد ملے گی۔ جبکہ جلسے جلسوں میں شر پسند قومی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں ان کی نشاندہی الیکٹرونکس ثبوت کے ذریعے ہو گی اور ایسے افراد کو قانون اور انصاف کے کٹہرئے میں لانا آسان ہو جائے گا۔ اس پراجیکٹ کے منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ مجرم بچ نہیں سکے گا اور بے گناہ کو سزا نہیں ملے گی اور جرائم میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی۔ کیا واقع شہر ی محفوظ ہونے جارہے ہیں اس کا جواب ہاں میں دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ایسی کئی مثالیں ہمارئے سامنے آئی ہیں کہ کیمروں کی آنکھ نے جرائم کو ہونے سے نہ صرف روکا بلکہ مجرموں کو بھی قابو میں لانے میں بھی مدد کی۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جہاں شہریوں کو محفوظ رکھنے میں معاون ہو گا وہیں جرائم میں کمی واقع ہو گی جبکہ کیمرئے سے شواہد بھی محفوظ ہوں گے جس سے جھوٹ کی موت واقع ہونے کے ساتھ بے گناہوں کو پھسنانے جیسے قبیح جرم میں بھی کمی واقع ہوگی اور مستقبل میں انسان کوئی بھی گناہ کرتے وقت ہزار بار سوچے گا کیونکہ کیمرہ آپ کے ہر افعال کو ثبوت کی شکل میں پیش کر دیے گا۔

۔ قومیں فکر سے بنتی ہیں لہٰذاآج ایک ایسا بیانیہ ناگزیر ہے جو جرم سے نفرت اور صحت مند وپرامن معاشرے کے بقا کو فروغ دے۔
بزبان اقبال
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ وَخِشت سے ہو تے نہیں جہاں پید ا

Facebook Comments HS

سمیع احمد کلیا

سمیع احمد کلیا پولیٹیکل سائنس میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز، قائد اعظم لاء کالج، لاہور سے ایل ایل بی اور سابق لیکچرر پولیٹیکل سائنس۔ اب پنجاب پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

sami-ahmad-kalya has 40 posts and counting.See all posts by sami-ahmad-kalya