عاصمہ جہانگیر ہمیں راستے میں چھوڑ گئیں


عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر آئی تو سوشل میڈیا پہ کچھ لوگوں کو بھنگڑے ڈالتے دیکھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں معلوم ہی نہیں کہ عاصمہ جہانگیر کون تھی، یا کیا تھیں۔ ہمارے یہاں تعلیم کی کمی کے ’ثمرات‘ ہیں، کہ ہم سنی سنائی باتوں پر ایمان کی حد تک یقین کرلیتے ہیں۔ بس اتنا ہونا چاہیے کہ ’سنی سنائی‘ ہمارے ’تعصب‘ سے میل کھاتی ہو۔ ایسے ہی لوگوں کے نفسیات کے مطابق میں نے ”عاصمہ ایک بھٹکی ہوئی عورت“ لکھا تھا، جو طنزیہ مضمون تھا، لیکن کیا کیجیے کہ اسے سچ ماننے والوں کی کمی نہیں۔ وہ لوگ جو بہرے ہیں، گونگے ہیں، اور کچھ عقل شعور نہیں رکھتے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی جنگ کا ذکر ہو، تو سب سے پہلے جس شخصیت کی شبیہ ذہن میں آتی ہے، وہ عاصمہ جہانگیر ہیں۔ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے، کہ عاصمہ جہانگیر، ملک غلام جیلانی کی بیٹی ہیں، جو سول سروس میں رہے اور بعد میں سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ جنرل ایوب خان کے آمرانہ دور میں انھیں گھر میں نظربند کیا گیا، جیل بھیج دیا گیا۔ یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی ki تو عاصمہ کے والد ملک غلام جیلانی نے ان نمایاں شخصیات میں سے تھے، جنھوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ اس وقت انھیں کیا کہا جاتا رہا اور آج سب مانتے ہیں اپنے ہی شہریوں پر فوج کشی ہو تو کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

1967ء میں عاصمہ کے والد کی زمین بحق سرکار ضبط کرلی گئی، تو ان کی والدہ نے کپڑے کی تجارت کر کے عورتوں کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کی؛ ایسی جری خاتون کی بیٹی تھی عاصمہ جہانگیر۔

انھیں 1983ء میں جمہوریت کی بحالی کی کوششیں کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیا گیا۔ اسی کی عشرے کے اواخر میں عاصمہ نے انسانی حقوق کا کمیشن قائم کیا اور تب سے انسانی حقوق کی بحالی کی جنگ لڑتی چلی آئیں۔

عاصمہ جہانگیر کے خلاف کیا کیا نہ پروپگنڈا کیا گیا۔ کبھی انھیں ملک دشمن کہا گیا، کبھی غدار، تو کبھی ہندستان کی یار۔ عاصمہ جہانگیر اصول پرست خاتون تھیں۔ انھوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں جنرل پرویز مشرف کی زبردست مخالفت کی، اور جب جب انھیں لگا کہ افتخار چودھری درست اقدام نہیں کررہے، انھوں نے ان پر بھی تنقید کی۔ عاصمہ کا مسئلہ شخصیات نہیں، اس کے اصول رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیت پرست معاشرے میں اسے سو سو دشنام سہنے پڑے۔

عاصمہ نے پاکستان ہی نہیں، کشمیر، فلسطین، سری لنکا، جہاں‌ جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی دیکھی اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ 2004ء سے 2010ء تک اقوام متحدہ نے انھیں اپنا مندوب مقرر کیا، جس کا کام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ نظر رکھنا ہوتا ہے۔

عاصمہ کو کئی بین الاقوامی ایوارڈ ملے، حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں انھیں ہلال امتیاز سے نوازا۔ عاصمہ اب نہیں رہیں؛ وہ دن دور نہیں جب پاکستانیوں کو احساس ہوگا، کہ انھوں نے آج کے دن کیا کھویا ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےبیٹے بیٹی میں فرق نہ کریں: عاصمہ جہانگیرعاصمہ جہانگیر اور اس کے قبیلے کے لیے ایک نظم

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 320 posts and counting.See all posts by zeffer-imran