عاصمہ جہانگیر ہمیں راستے میں چھوڑ گئیں

پاکستان میں انسانی حقوق کی جنگ کا ذکر ہو، تو سب سے پہلے جس شخصیت کی شبیہ ذہن میں آتی ہے، وہ عاصمہ جہانگیر ہیں۔ بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے، کہ عاصمہ جہانگیر، ملک غلام جیلانی کی بیٹی ہیں، جو سول سروس میں رہے اور بعد میں سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ جنرل ایوب خان کے آمرانہ دور میں انھیں گھر میں نظربند کیا گیا، جیل بھیج دیا گیا۔ یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی ki تو عاصمہ کے والد ملک غلام جیلانی نے ان نمایاں شخصیات میں سے تھے، جنھوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ اس وقت انھیں کیا کہا جاتا رہا اور آج سب مانتے ہیں اپنے ہی شہریوں پر فوج کشی ہو تو کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
1967ء میں عاصمہ کے والد کی زمین بحق سرکار ضبط کرلی گئی، تو ان کی والدہ نے کپڑے کی تجارت کر کے عورتوں کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کی؛ ایسی جری خاتون کی بیٹی تھی عاصمہ جہانگیر۔
انھیں 1983ء میں جمہوریت کی بحالی کی کوششیں کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیا گیا۔ اسی کی عشرے کے اواخر میں عاصمہ نے انسانی حقوق کا کمیشن قائم کیا اور تب سے انسانی حقوق کی بحالی کی جنگ لڑتی چلی آئیں۔
عاصمہ جہانگیر کے خلاف کیا کیا نہ پروپگنڈا کیا گیا۔ کبھی انھیں ملک دشمن کہا گیا، کبھی غدار، تو کبھی ہندستان کی یار۔ عاصمہ جہانگیر اصول پرست خاتون تھیں۔ انھوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں جنرل پرویز مشرف کی زبردست مخالفت کی، اور جب جب انھیں لگا کہ افتخار چودھری درست اقدام نہیں کررہے، انھوں نے ان پر بھی تنقید کی۔ عاصمہ کا مسئلہ شخصیات نہیں، اس کے اصول رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیت پرست معاشرے میں اسے سو سو دشنام سہنے پڑے۔
عاصمہ نے پاکستان ہی نہیں، کشمیر، فلسطین، سری لنکا، جہاں جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی دیکھی اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ 2004ء سے 2010ء تک اقوام متحدہ نے انھیں اپنا مندوب مقرر کیا، جس کا کام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ نظر رکھنا ہوتا ہے۔
عاصمہ کو کئی بین الاقوامی ایوارڈ ملے، حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں انھیں ہلال امتیاز سے نوازا۔ عاصمہ اب نہیں رہیں؛ وہ دن دور نہیں جب پاکستانیوں کو احساس ہوگا، کہ انھوں نے آج کے دن کیا کھویا ہے۔


